بینظیر بھٹو پر متنازع ٹویٹس: سنتھیا ڈی رچی کو عدالت کا نوٹس جاری

سنتھیا رچی کے خلاف پیپلز پارٹی کی جانب سے جمع کروائی گئی مقدمہ اندراج کی درخواست کی پہلی سماعت منگل کو جسٹس آف پیس کورٹ میں ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی کے کورٹ میں ہوئی۔

پیپلز پارٹی نے ایف آئی سے قانون کے مطاق سنتھیا کے خلاف کارروائی کرنے کی درخواست کی (تصویر: ٹوئٹر) 

اسلام آباد کی ایک عدالت نے پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما اور سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے حوالے سے متنازع ٹویٹس کرنے والی امریکی شہری سنھتیا ڈی رچی اور پاکستان ٹیلی کمنیکیش اتھارٹی (پی ٹی اے) کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے 13 جون تک جواب طلب کیے ہیں۔

سنتھیا رچی کے خلاف پیپلز پارٹی کی جانب سے جمع کروائی گئی مقدمہ اندراج کی درخواست کی پہلی سماعت منگل کو جسٹس آف پیس کورٹ میں ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی نے کی۔

یاد رہے کہ سنتھیا کی ٹویٹس کے بعد پیپلز پارٹی نے ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ میں سنتھیا کے خلاف درخواست جمع کروائی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ امریکی شہری نے محترمہ بینظیر بھٹو کے بارے میں ’توہین آمیز‘ باتیں پھیلائیں جس سے لاکھوں لوگوں کو کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔

پیپلز پارٹی نے ایف آئی آے سے قانون کے مطاق سنتھیا کے خلاف کارروائی کرنے کی درخواست کی تھی۔ تاہم جب ایف آئی اے نے ایسا نہیں کیا تو پیپلز پارٹی کے اسلام آباد کے صدر شکیل عباسی نے اسلام آباد میں جسٹس آف پیس کورٹ میں اس حوالے سے درخواست جمع کروائی اور ایف آئی اے کو مقدمہ درج کرنے کا حکم دینے کی استدعا کی۔

عدالت نے اس حوالے سے ایف آئی اے سے جواب طلب کیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

منگل کو اس درخواست کی پہلی سماعت میں درخواست گزار شکیل عباسی کی جانب سے ریاست علی آزاد ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔ انہوں نے اپنے دلائل میں کہا کہ امریکی شہری کی جانب سے سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے خلاف نازیبا الفاظ کا استعمال کیا گیا اور سوشل میڈیا پر کمپین چلائی گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایف آئی اے کو سنتھیا کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست دی تھی لیکن اس پر کارروائی نہیں کی گئی۔

دوسری جانب ایف آئی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر عدنان احمد خان لوہانی نے دو صفحات پر مشتمل تحریری جواب عدالت میں جمع کرایا جس میں سنتھیا ڈی رچی کے خلاف مقدمہ اندراج کی درخواست خارج کرنے کی استدعا کی گئی۔

ایف آئی اے کا موقف تھا کہ شکیل عباسی نے جب مقدمہ اندراج کی درخواست دی تو انہیں وضاحت کی گئی کہ وہ متاثرہ فریق نہیں ہیں اور قانون کے مطابق متاثرہ شخص یا اس کا گارڈین ہی یہ شکایت داخل کر سکتا ہے۔

ایف آئی اے نے موقف دیا کہ شکیل عباسی اس معاملے میں شکایت کنندہ بن کر مقدمہ درج کرانے کا حق نہیں رکھتے اس لیے عدالت اس درخواست کو خارج کر دے۔

پی ٹی اے کے ڈی جی لا بھی سماعت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ اس کیس کے حوالے سے پی ٹی اے کو کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا بلکہ میڈیا میں رپورٹ ہوتا رہا کہ پی ٹی اے کو بھی طلب کیا گیا ہے تو اس لیے وہ خود آج عدالت آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں نوٹس جاری نہیں ہوا تو جواب جمع نہیں کروا سکتے۔

اس پر جج عطا ربانی نے کہا کہ ’یہ معاملہ سپریم کورٹ تک جا سکتا ہے، آپ کو درخواست میں فریق بنایا گیا ہے تو جواب بھی داخل کرا دیں۔‘

عدالت نے سنتھیا کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے 13 جون کی سماعت پر ان سے جواب طلب کر لیا۔

ذرائع کے مطابق امریکی بلاگر سنتھیا رچی کی ایف آئی اے سائبر کرائم حکام سے ان کے دفتر میں چند روز قبل ملاقات بھی ہوئی ہے جس میں وہ امریکی سفارت خانے کے حکام کے ساتھ گئیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان