سوشانت کی موت کے بعد بالی وڈ میں گلوکار آمنے سامنے

سونو نگم نے بھوشن کمار کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے غلط آدمی سے ’پنگا‘ لے لیا ہے۔

سونو نگم کے انکشافات نے جہاں بالی وڈ میں آپسی لڑائی کی قلعی کھولی ہے وہیں بالی وڈ کے انڈرورلڈ کے ساتھ تعلقات پر بھی ایک دفعہ دوبارہ توجہ دلا دی ہے ( سونو نگم/فیس بک)

بالی وڈ اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی موت نے بالی وڈ کو جنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ پہلے اداکارہ کنگنا رناوٹ بالی وڈ میں ’مافیا‘ کو سوشانت کی موت کا قصور وار ٹھہراتی نظر آئیں اور اب معروف گلوکار سونو نگم اور انڈسٹری کے دیگر گلوکاروں اور ایک کمپنی کے مالک کے درمیان تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔

گلوکار سونو نگم نے 18 جون کو سوشانت سنگھ کی موت کے بعد سوشل میڈیا پر ایک وی لاگ جاری کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’شاید آپ بہت جلد میوزک انڈسٹری میں بھی خودکشیوں کے بارے میں سنیں۔‘

ویڈیو میں سونو نگم نے کسی کا نام لیے بغیر دو میوزک کمپنیوں کے مالکان کو ’مافیا‘ سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ ’آج سوشانت سنگھ مرا ہے مگر کل کو آپ کسی گلوکار کے بارے میں یا کمپوزر یا گیت کار کے بارے میں سن سکتے ہیں کیوں کہ فلموں سے بڑا مافیا میوزک انڈسٹری میں موجود ہے۔‘

سونو نگم نے کہا کہ وہ اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتے ہیں کہ انہوں نے کیریئر کا آغاز جلد کیا اور اس چنگل میں نہیں پھنسے۔ انہوں نے اپنے وی لاگ میں کہا کہ فلم پروڈیوسر اور ڈائریکٹر ایک گلوکار کے ساتھ کام کرنے کے لیے راضی ہوتے ہیں مگر میوزک کمپنی کہتی ہے کہ وہ اس گلوگار کے ساتھ کام نہیں کریں گے۔

سونو نگم نے انکشاف کیا تھا کہ میوزک انڈسٹری میں دو کمپنیوں کے ہاتھوں میں طاقت ہے اور وہ فیصلہ کرتے ہیں کہ کون گائے گا اور کون نہیں۔

سونو نگم کے اس وی لاگ کے بعد بھارتی میڈیا پر میوزک انڈسٹری میں اقربا پروری کے حوالے سے بحث چھڑ گئی جس میں کئی گلوکاروں اور موسیقاروں نے اپنا موقف دیا اور سونو نگم کے اس انکشاف کو رد کیا کہ میوزک انڈسٹری میں اقربا پروری موجود ہے۔

اسی حوالے سے  معروف بھارتی ٹی وی چینل پر مباحثے میں میوزک انڈسٹری کے چھ گلوکاروں اور موسیقاروں کو دو دن پہلے مدعو کیا گیا اور ان سے سونو نگم کے خیالات کے بارے میں پوچھا گیا تو پینل میں موجود تمام افراد نے اس تاثر کو زائل کیا کہ میوزک انڈسٹری میں اقربا پروری ہوتی ہے۔

اس پروگرام کے جواب میں سونو نگم نے آج پھر ایک وی لاگ جاری کیا جس میں انہوں نے پروگرام کے شرکا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کسی کا نام نہیں لیا تھا اور ’لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے اور ’شرافت کی زبان سب کو سمجھ نہیں آتی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سونو نگم نے اپنے وی لاگ میں معروف میوزک کمپنی ٹی-سیریز کے مالک بھوشن کمار کا نام لے کر ان کو کہا کہ انہوں نے غلط آدمی سے ’پنگا‘ لے لیا ہے اور اب ان کا نام لینا ہی پڑے گا۔ انہوں نے بھوشن کمار کے ساتھ ماضی کے مبینہ قصوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھوشن کمار ان کے پاس البم کرنے کے لیے فریاد لے کر آیا کرتے تھے۔

سونو نگم نے بھوشن کمار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’شاید تم وہ وقت بھول گئے ہو جب میرے پاس آیا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ بھائی مجھے سمتا ٹھاکرے، بال ٹھاکرے سے ملوا دو، مجھے ابو سلیم سے بچا لو، وہ مجھے فون پر گالیاں دے رہا ہے۔‘

بال ٹھاکرے شیو سینا کے سابق سربراہ ہیں جب کہ سمتا ٹھاکرے ان کی بہو اور فلم پروڈیوسر بھی ہیں۔ شیو سینا دائیں بازو کی ہندو جماعت ہے جو کہ ہندوتوا میں یقین رکھتی ہے اور ماضی میں مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف مظاہروں میں شامل رہی ہے۔ جب کہ ابو سلیم بھارت کا مشہور ڈان ہے جس پر 1993 کے ممبئی حملوں کا بھی الزام تھا۔

سونو نگم نے بھوشن کمار کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ’اب تم میرے منہ مت لگنا۔ مرینہ کوار یاد ہے نا؟ وہ کیوں بولی، کیوں پیچھے ہٹی یہ سب میڈیا کو پتا ہے اور اس کی ویڈیو میرے پاس پڑی ہے، اب اگر تو نے میرے سے پبگا لیا تو وہ ویڈیو میں اپنے یوٹیوب چینل پر ڈال دوں گا۔‘

سونو نگم کے انکشافات نے جہاں بالی وڈ میں آپسی لڑائی کی قلعی کھولی ہے وہیں بالی وڈ کے انڈرورلڈ کے ساتھ تعلقات پر بھی ایک دفعہ دوبارہ توجہ دلا دی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی موسیقی