سوشانت سے سبق سیکھیں

پاکستان میں ہونے والی خودکشیوں میں ڈپریشن کے مریضوں کا حصہ دو ہزار سالانہ ہے جبکہ تقریبا بیس ہزار افراد ایسے ہیں جو اس مرض کی شدت کی وجہ سے خودکشی کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔

(ان سپلیش)

انسٹاگرام پر دس ملین فالورز رکھنے والے مشہور بالی ووڈ اداکار سوشانت سنگھ نے 14جولائی کو اپنے گھر میں اپنی تنہائی سے لڑتے ہوئے بالآخر خود کشی کر لی۔ جہاں ان کے اس فعل پر پاک وہند میں ہر طرف اداسی کا سماں چھا گیا ہے وہیں کئی حلقوں سے ان کے اس فعل پر انہیں پاگل اور افسردگی دکھانے والوں کو برا بھلا کہا جا رہا ہے۔

نفسیاتی امراض میں مبتلا افراد جو کہ ان مشکل حالات سے نکلنے کے لیے اپنی جان تک لے سکتے ہیں، اپنی اس بیماری کا کسی کے سامنے اسی وجہ سے ذکر تک نہیں کرتے کہ کہیں ہمیں پاگل نہ سمجھا جائے اور وہ تکلیف میں رہ کر لمحے لمحے مرتے ہوئے بالآخر جان تک کو داؤ پر لگا لیتے ہیں۔اس مشہور سیلیبریٹی کی خودکشی کی خبر کو یوں بےمعنی ضائع نہ کریں بلکہ اس نوجوان نسل کے ڈپریشن میں مبتلا ہر فرد کے حوالے سے اسے ایک الارم کی حیثیت دے کر اس سے سبق سیکھیں۔

اداسی کی کیفیت کا بیماری کی شکل میں بدل جانا ڈپریشن کہلاتا ہے۔ یہ ایک ایسی ذہنی بیماری ہے جو نہ صرف انسان کے روزمرہ کے معمولات پر اثرانداز ہوتی ہے بلکہ خودکشی جیسے انتہائی اقدام کا سبب بھی بنتی ہے۔

پنجوانی سینٹر برائے مولیکیولر میڈیسن اینڈ ڈرگ کی طرف سے کی گئی تحقیق کے مطابق پاکستان میں تقریبا 34فیصد آبادی ذہنی دباؤ یا ڈپریشن کا شکار ہے۔ اس 34فیصد آبادی میں سے کراچی کی 35.7فیصد، کوئٹہ کی 43 فیصد جبکہ لاہور 53.4فیصد آبادی ذہنی دباؤ کا شکا رہے۔

پاکستان میں ہونے والی خودکشیوں میں ڈپریشن کے مریضوں کا حصہ دو ہزار سالانہ ہے جبکہ تقریبا بیس ہزار افراد ایسے ہیں جو اس مرض کی شدت کی وجہ سے خودکشی کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ اس بیماری کے لیے عمر اور جنس کی بھی حد نہیں، کسی بھی شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے اس کا شکار ہوسکتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کی تازہ ترین تحقیق کے مطابق دنیا میں تین سو ملین سے زائد افراد ڈپریشن کا شکار ہیں۔ 2005اور 2015 کے درمیانی عرصے میں اس مرض میں مبتلاافراد کی تعداد میں 18فیصدسے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔ دنیا بھر میں سالانہ تقریبا آٹھ لاکھ افراد ڈپریشن کی وجہ سے خودکشی جیسے برے فعل کا ارتکاب کر لیتے ہیں، جن میں سے بیشتر افراد کی عمریں 15 سے لے کر 29 سال تک ہوتی ہیں۔ بیس فیصد لوگ ڈپریشن کی وجہ سے دیگر نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہو کر نفسیاتی بیمار بن جاتے ہیں۔ WHOکے مطابق اگر اس مرض پر قابو نہ پایاگیا تو خدشہ ہے کہ ڈپریشن کا شمار آنے والے سالوں میں دوسری بڑی بیماریوں میں ہونے لگے گا۔

اگر ان رپورٹس کا جائزہ لیا جائے تو اس بیماری کو جس طرح ہمارے ہاں نظر انداز کیا جا رہا ہے، اس کے نقصانات اس سے بدتر ہوسکتے ہیں۔ ایک غیرحساس شخص کبھی ڈپریشن میں پڑنے والے فرد کے غم وکرب یا پھر تکلیف کے ان احساسات کو سمجھ ہی نہیں سکتا جن سے وہ دوچار رہتا ہے۔

ایسے لوگ مذاق اڑانے کے نہیں بلکہ ہمدردی کے مستحق ہیں۔

بےشک خودکشی ایک حرام فعل ہے اور اپنی اس قیمتی زندگی کو جو کہ اللہ کی طرف سے ایک تحفہ اور نعمت ہے، یوں ضائع کرنا کوئی عقل مندی اور بہادری کا کام نہیں ہے۔ اس کا یہ بھی مطلب نہیں ہے کہ یوں سوشانت کی موت کا تماشہ دیکھ کر محض اسے باتوں یا پھر ہنسی میں اڑایا جائے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نفسیاتی امراض میں مبتلا ہونے وا لے افراد پر جو حالت گزرتی ہے  وہ کسی بدترین بیماری سے بڑھ کر ہے جس میں انسان زندگی سے ہی مکمل طور پر ناامید ہو جاتا ہے۔ یاد رکھیئے گا کہ کینسر تک کا مریض اس خوبصورت زندگی سے امید نہیں چھوڑتا مگر ڈپریشن اس امید کا بھی قاتل ثابت ہوتی ہے۔

اگر مذکورہ بالا ریسرچ کے مطابق پاکستان میں ہر تیسرا فرد ڈپریشن کا شکار ہے تو آپ کے گھر میں آپ کی چھوٹی بہن، آپ کا چھوٹا بھائی، کوئی بھی فیملی ممبر یا کوئی عزیز دوست یقینا اس کرب میں مبتلا ہے جس سے تاحال آپ انجان ہیں اور اسے سمجھنے کی کوشش نہیں کر رہے ہیں۔ نفسیاتی امرض کو سیریس نہ لینا بہت مہنگا پڑسکتا ہے۔ یاد رکھیں ہرکسی میں تکلیف سہنے کی جرات نہیں ہوتی۔ ہرکوئی درد اورغم کا سامنا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔

باید کہ مشہور ایکٹر کی تنہائی سے جنگ اور اس کے نتیجے میں خودکشی کی خبر ہماری قوم اور اس جنریشن کے ان مریضوں کے والدین اور اہل خانہ کے لیے ایک الارم ہو جس سے والدین تاحال اس قدر دور ہیں کہ اسے بیماری کا درجہ تک نہیں دے رہے ہیں۔

اپنے بھائیوں، بہنوں، دوستوں اور عزیزو اقارب سے بات کیجیے۔ ان کے ساتھ اپنے احساسات شیئر کیجئے۔ انہیں اپنائیت، غم، کرب، تکلیف اور محبت کے اظہار کا سلیقہ سکھا دیجیے۔ انہیں بتا دیجیے کہ کسی بھی معاملے میں وہ اکیلے نہیں، پوری فیمیلی یا پھر آپ ان کے ساتھ ہیں۔ آپ کا محض ایک جملہ انہیں کتنی بڑی امید دے سکتا ہے، آپ سوچ نہیں سکتے۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت