منظور پشتین گھر پر کیسے ہیں؟ اہلیہ کا پہلا انٹرویو

منظور پشتین کی 26 سالہ اہلیہ چھٹی جماعت تک پڑھی ہوئی ہیں اور وزیرگی قوم سے تعلق رکھتی ہیں۔ انڈپینڈنٹ اردو کو دیا گیا یہ انٹرویو ان کا کسی بھی پلیٹ فارم کے لیے پہلا ہے۔

منظور کی سادگی کا یہ عالم کہ شادی والے دن چاولہ چپل پہنے ہوئے ہیں (تصاویر: رضیہ محسود)

پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین کا تعلق جنوبی وزیرستان کے گاؤں ریشوڑہ تحصیل سروکئی شمن خیل قوم سے ہے۔ چاہے ان سے اتفاق کیا جائے یا اختلاف، اس سے انکار ممکن نہیں ہے کہ وہ پشتونوں کے حقوق کے لیے اہم آواز بن چکے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔ کیا منظور پشتین کے ساتھ بھی ایسا ہی ہے؟ ان کے اہلِ خانہ ان کے بارے میں کیا سوچتے ہیں اور ان کی تحریک سے کس حد تک متفق ہیں؟ ہم یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو نے ان کے گھر کا حال جاننے کے لیے ان کی بیوی آسیہ پشتین سے ملاقات کی۔ یہ آسیہ کا کسی بھی میڈیا پلیٹ فارم کو دیا گیا پہلا انٹرویو ہے۔ وہ جانتی ہیں کہ منظور پشتین نے پشتون قوم کے مسائل اور تکالیف دور کرنے کے لیے اپنے آپ کو وقف کر رکھا ہے۔

ایک تعلیم یافتہ استاد کے گھر پیدا ہونے والے منظور پشتین کی  شادی 2016 میں اس وقت ہوئی جب وہ خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کی ظفر آباد کالونی میں کرائے کے مکان میں رہائش پذیر تھے۔ پشتون خصوصا قبائلی معاشرے میں عورتیں عوامی مقامات پر نہیں دیکھی جاتی ہیں اسی لیے آسیہ بھی زیادہ وقت گھر بار چلانے میں گزارتی ہیں۔

منظور پشتین کے کمرے کا ایک منظر۔


ان کی 26 سالہ اہلیہ نے چھٹی جماعت تک تعلیم حاصل کر رکھی ہے اور وہ وزیرگی قوم سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کی ایک تین سالہ بیٹی اور نو ماہ کا بیٹا ہے۔ ان کی پیاری سی بیٹی کا نام گل ورینہ ہے جس کو دادا پیار سے ’عالم ڈیوا‘ کہہ کر مخاطب کرتے ہیں یعنی پوری دنیا کی روشنی۔

بیٹے کا نام ہیواد پشتین یعنی ملک یا مملکت رکھا ہے یعنی منظور کو ملک اور تمام دنیا کی روشنی جیسی نعمتیں پہلے ہی مل چکی ہیں۔

ہلکے گلابی رنگ کے لباس میں ملبوث آسیہ سے ان کے کمرے میں ہی ملاقات ہوئی۔ کمرے کی دیوار پر رنگ برنگے ہار اور بچوں کے کپڑے لٹکے ہوئے تھے۔ برتنوں اور گل کاری والی سفید چادریں بھی سجاوٹ کے طور پر لگی تھیں۔ سےاس وقت منظور گھر پر نہیں تھے، البتہ منظور کی دادی موجود تھیں۔ بچے ایک طرف اپنے کھیلوں میں مگن تھے۔

آسیہ ایک سمجھ دار اور بااخلاق خاتون دکھائی دیں۔ قبائلی روایات کے مطابق ان کی شادی والدین کی مرضی سے ہوئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے شادی سے پہلے کبھی بھی منظور کو نہیں دیکھا تھا۔ ’جب شادی کو دس دن رہ گئے تھے تب میری بہن نے موبائل میں منظور کی تصویر دکھائی تھی۔ تصویر کا اتنا رعب تھا کہ مجھ پر سکتہ طاری ہو گیا اور میں سوچنے لگی کہ پتہ نہیں وہ کیسے ہوں گے۔ ایک خوف سا تھا چونکہ اس وقت منظور کا اتنا نام  بھی نہیں تھا۔ لیکن جب میری شادی ہوئی اور منظور کو قریب سے دیکھا، جانا اور پہچانا تو میں اپنی قسمت اور اپنی شادی کو اپنی خوش قسمتی سمجھنے لگی۔‘

تین سالہ گل روینہ


آسیہ منظور کے کردار سے بہت متاثر دکھائی دیں۔ کہتی ہیں وہ خوش قسمت ہیں کہ انہیں منظور جیسا شوہر اور پیار کرنے والا خاندان ملا ہے۔ ’منظور کی سادگی اور اچھائی کا یہ عالم ہے کہ اس کے منہ سے آج تک میرے لیے برے الفاظ نہیں نکلے ہیں۔ منظور ایک سادہ اور وسیع سوچ رکھنے والا انسان ہے۔‘

منظور کی بیوی اپنی شادی کو اللہ کی طرف سے ایک تحفہ سمجھتی ہیں۔ ہم نے سوال کیا کہ آپ کے شوہر ایک مشکل اور خطرناک مشن پر ہیں تو آپ کو کوئی خوف تو نہیں؟ اس کا جواب انہوں نے نفی میں دیا۔ ’منظور سچ اور حق کے راستے پر نکلے ہیں اور جس کے موت کا وقت پورا ہو تو موت کا ایک دن متعین ہے۔ ہر نفس نے ایک دن موت کا ذائقہ ضرور چکھنا ہے۔ موت بستر پر بھی آ سکتی ہیں۔ جب موت آتی ہے تو آپ کو جانا ہی پڑتا ہے چاہے وہ جنگ کے میدان میں ہو یا گھر کے صحن میں۔‘

اپنے سیاسی خیالات اور تحریک کی وجہ سے منظور پشتین کافی خطرناک صورت حال سے دوچار رہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پشتونوں کے ساتھ کافی ظلم ہوئے ہیں اور اب یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے۔

البتہ آسیہ کا کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ منظور کے لیے دعا کرتی رہتی ہیں اور دوسروں کو بھی دعا کرنے کی درخواست کرتی ہیں۔ آسیہ کا منظور سے کوئی گلہ شکوہ نہیں ہے۔ ان کے بقول منظور نے اپنے لیے جو راستہ چنا ہے میں اس حوالے سے منظور کی پشت پناہی کرتی ہیں۔ ’میں ان کی منزل کے راستے میں رکاوٹ نہیں بننا چاہتی۔‘

شادی کے بعد کہیں گھومے پھرے؟ اس بارے میں آسیہ کا کہنا ہے کہ منظور انہیں اپنے ساتھ سفر پر لے جانا چاہتے ہیں لیکن میں ہمیشہ جانے سے انکار کر دیتی ہوں کیونکہ وہ جہاں بھی جاتے ہیں لوگوں کا ہجوم لگ جاتا ہے۔ ’دوسری بات مجھے زیادہ بھیڑ بھاڑ میں گھبراہٹ ہوتی ہے، اس لیے میں اپنے گھر پر اپنے بچوں اور اپنے سسرال کے ساتھ خود کو آرام دہ محسوس کرتی ہوں۔‘

منظور پشتین کے والد عبدالودود رضیہ محسود کے ساتھ۔


کسی بھی قبائلی والدین کی طرح خوش مزاج اور خاموش طبع آسیہ نے بتایا کہ وہ اپنے بچوں کو پڑھانا چاہتی ہیں تاکہ وہ بھی پڑھ لکھ کر اپنے علاقے اور دکھی لوگوں کی خدمت کر سکیں۔

منظور پشتین کی والدہ ایک باہمت اور خوش مزاج خاتون ہیں۔ جب ان سے ان کی بہو آسیہ کے بارے میں بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ ان کی بہو ایک نیک سیرت اور نیک صورت خاتون ہیں۔ ’بلکہ یہ کہنا بےجا نہ ہو گا کہ یہ میری چھوٹی بیٹی ہے۔‘

منظور کی تین بہنیں بھی ہیں۔ منظور کی والدہ اور والد آسیہ کی سیرت اور اخلاق سے بہت خوش ہیں اور وہ چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے اس کے لیے دعائیں کرتے ہیں۔

آسیہ منظور کے بارے میں بہت پرامید نظر آتی ہیں۔ منظور پر لگنے والے الزامات کے حوالے سے آسیہ کا کہنا ہے کہ وہ بہت سادہ اور نرم دل انسان ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ ہر مشکل کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور لوگوں کی تکلیف کو دل سے محسوس کرتے ہیں اور شاید یہی احساس ان پر لگنے والے الزامات کی بنیادی وجہ ہے۔

آسیہ کا کہنا ہے کہ منظور جب گھر آ جاتے ہیں تو بھی لوگ ان سے ملنے کے لیے آتے رہتے ہیں۔ مہمان ہمیشہ آتے رہتے ہیں۔ ’کبھی کبھار تھک ہار کر جب منظور چارپائی پر لیٹ جاتے ہیں اور ان کی آنکھ لگ جاتی ہیں تو گھر میں کسی کی ہمت نہیں ہوتی کہ وہ منظور کو جگائے اور کہے کہ ملنے کے لیے مہمان آئے ہیں۔ان کی تھکاوٹ کا یہ عالم ہوتا ہے کہ کوئی اس کو جگانے  کی ہمت نہیں کرتا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

منظور کی بیوی آسیہ کا کہنا ہے کہ وہ منظور کی مصروفیات کو اچھی طرح سے سمجھتی ہیں اور انہوں نے منظور سے اپنے لیے کبھی یہ مطالبہ نہیں کیا کہ وہ مجھے وقت کیوں نہیں دیتے۔ ’منظور کروڑوں لوگوں کی امید ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جو تکلیف میں مبتلا ہیں اور منظور ان کے لیے امید کی کرن ہیں۔ منظور سے کھبی بھی کسی سامان کا گلہ نہیں کیا اور نہ کھبی ان کے سامنے اپنے مطالبات پیش کیے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ منظور بھی مجھ سے کافی خوش ہیں اور میرا بہت خیال رکھتے ہیں۔‘

آسیہ کا کہنا ہے کہ منظور ایک ایسے انسان ہیں جن کو انہوں نے سمجھ لیا ہے۔ ’میں منظور کی لمبی زندگی کی دعائیں مانگتی رہتی ہوں۔‘

منظور پر غداری کے حوالے سے لگنے والے الزامات پر آسیہ نے کہا کہ ’منظور پر دور سے الزامات لگائے جا سکتے ہیں لیکن جو قریب سے منظور کو دیکھ لیں تو منظور کی حقیقت ان پر واضح ہو جاتی ہے کہ کیا ایسا آدمی غدار ہو سکتا ہے۔‘

منظور کی بیوی ایک سادہ سی قبائلی زندگی گزار رہی ہیں۔ وہ اپنے ساس اور سسر کا دل جیتنے میں مصروف ہیں۔ وہ پشتون سیاسی رہنما کی بیوی کا مشکل کردار ادا کر رہی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی گھر