لاہور: کرونا مریضوں کا وہ علاقہ سیل جو وہ سالوں پہلے چھوڑ چکے ہیں

پنجاب حکومت نے لاہور میں کرونا وائرس کے بڑھتے کیسز پر قابو پانے کے لیے 80 علاقے سیل کیے جن میں لکشمی چوک سے ملحقہ رائل پارک کا علاقہ بھی شامل ہے تاہم رہائشیوں کا کہنا ہے کہ جس خاندان کے ٹیسٹ مثبت آئے وہ یہاں رہتا ہی نہیں۔

انتظامیہ کی جانب سے اس علاقے کو اس لیے سیل کیا گیا ہے کیونکہ مریضوں کے شناختی کارڈ پر رائل پارک کا پتہ لکھا ہے (تصاویر بشکریہ: ملک فیصل)

پنجاب حکومت نے لاہور میں کرونا وائرس کے بڑھتے کیسز پر قابو پانے کے لیے 80 علاقے سیل کیے ہیں جن میں لکشمی چوک سے ملحقہ رائل پارک کا علاقہ بھی شامل ہے۔

علاقہ رہائشیوں کے مطابق ایک خاندان کے آٹھ افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی تو انتظامیہ نے اس علاقے کو سیل کر دیا حالانکہ یہ فیملی کئی سال پہلے رائل پارک چھوڑ کر جوہر ٹاؤن منتقل ہوچکی ہے۔

انتظامیہ کی جانب سے اس علاقے کو اس لیے سیل کیا گیا ہے کیونکہ ان مریضوں کے شناختی کارڈ پر رائل پارک کا پتہ لکھا ہے۔

رائل پارک کے سماجی رہنما ملک فیصل کا کہنا ہے کہ سابق کونسلر شیخ سلیم کے خاندان نے رائل پارک میں اپنا گھر کئی سال پہلے چھوڑ دیا تھا جو اب گیسٹ ہاؤس ہے لیکن بند پڑا ہے۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس علاقہ میں ویسے ہی رہائشی مکان بہت کم ہیں کیونکہ یہ کمرشل ایریا بن چکا ہے۔

’پلازے وغیرہ تو ویسے ہی بند پڑے ہیں لیکن حکومت نے یہ علاقہ بلاوجہ سیل کر دیا ہے جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ اس معاملہ پر انتظامیہ کو آگاہ بھی کیا لیکن کوئی سننے والا نہیں۔

’کرونا پر قابو پانے کے لیے حکومت سے تعاون لازمی ہے لیکن بلاوجہ علاقے سیل کرنے کے بجائے ایسے علاقوں میں لاک ڈاون کیا جائے جہاں یہ وبا زیادہ ہے۔‘

ترجمان محکمہ صحت محمد حماد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ حکومت نے لاہور کے جو علاقے سیل کیے ہیں وہاں پہلے سروے ہوئے جہاں کرونا کے مریض زیادہ ہونے کا امکان تھا وہاں لاک ڈاؤن کر دیا گیا تاکہ اس پر قابو پایا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ جہاں تک رائل پارک کا تعلق ہے یہاں کی صورتحال کا جائزہ لیں گے اگر شکایات درست ہوں گی تو اس کے مطابق فیصلہ کریں گے۔

محمد حماد کہتے ہیں کہ عید کے موقع پر عوام کی بداحتیاطی اور ایس او پیز پر عمل نہ ہونے سے کیسوں میں اضافہ ہوا۔ اب مخصوص علاقوں میں لاک ڈاؤن سے امید ہے کہ کرونا سے متاثرین میں کمی آئے گی جس کا موازنہ 14 دن بعد کیا جائے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان