دنیا میں سونے کی قیمت زیادہ، پاکستان میں کم کیوں؟

دنیا بھر میں پھیلی کرونا وائرس کی وبا کے باعث بدھ کے روز سونے کی قیمت گذشتہ آٹھ سالوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔

ماہرین کے خیال میں مہنگائی، بے روزگاری اور قوت خرید کم ہونے کے باعث پاکستانی عوام سونے جیسی مہنگی دھات کی خریداری سے دور ہوتے جا رہے ہیں (اے ایف پی)

دنیا بھر میں پھیلی کرونا (کورونا) وائرس کی وبا کے باعث بدھ کے روز سونے کی قیمت گذشتہ آٹھ سالوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

تاہم پاکستان میں اس قیمتی دھات کی قیمت بلند ترین سطح پر ہونے کے باوجود دنیا کے دیگر کئی ممالک کی نسبت کم ہے۔

بین الاقوامی منڈی میں 24 جون کی صبح ایک اونس (تقریباً ڈھائی تولے) سونے کی قیمت 1777 امریکی ڈالر (2 لاکھ 98 ہزار403 پاکستانی روپے) تھی، جبکہ 25 جون کی صبح یہ قیمت کم ہو کر 1767 امریکی ڈالر ہو گئی۔

مگر سونے کا کروبار کرنے والے افراد عالمی منڈی میں قیمتی دھات کی قیمت میں آج مزید اضافے کی پیشن گوئی کر رہے ہیں۔

بدھ (24 جون) کو پاکستان کی صرافہ مارکیٹوں میں دن کے آغاز پر ایک تولہ سونے کی قیمت ایک لاکھ پانچ ہزار ایک سو روپے تھی، تاہم شام تک اس میں کمی واقع ہوئی اور ایک لاکھ تین ہزار پانچ سو روپے فی تولہ کے ساتھ کاروبار بند ہوا۔

جمعرات کو پاکستان میں سونے کی قیمت میں مزید تیزی دیکھنے میں آئی اور فی تولہ سونا ایک لاکھ نو ہزار چھ سو روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔

سونے کے کاروبار سے منسلک افراد کا کہنا ہے کہ شام تک قیمتوں میں چند سو روپے کا ہی فرق آئے گا۔

کراچی میں 40 سال سے سونے کے کاروبار سے منسلک حاجی ہارون رشید چاند کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی پوری عمر میں سونے کی قیمت میں اتنا بڑا اضافہ نہیں دیکھا۔ 'یہ بالکل ایک نیا مظہر ہے۔'

جبکہ ماہرین کے مطابق اکتوبر 2012 میں سونے کی قیمت میں اتنا اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔

گذشتہ سال دسمبر میں چین کے شہر ووہان سے شروع ہونے والی مہلک کرونا کی وبا نے تقریباً ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھ ہے اور اب تک دو سو ملکوں اور خطوں میں تقریباً ایک کروڑ افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ پونے پانچ لاکھ سے زیادہ اموات بھی ہو چکی ہیں۔

کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تقریباً تمام ممالک میں سماجی دوری کو یقینی بنانے کے لیے لاک ڈاون کا سہارا لیا گیا، جس سے ملکوں کی معیشتیں بری طرح متاثر ہوئیں۔

عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں اضافے کی وجہ

دنیا کے کئی ممالک میں کرونا وائرس کی وبا پر قدرے قابو پا لیے جانے کے بعد مہلک جرثومہ دوبارہ سر اٹھاتا ہوا نظر آرہا ہے۔

ماہرین کے خیال میں دنیا میں کرونا وائرس کی دوسری لہر کا ڈر دراصل عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں اضافے کی وجہ بن رہا ہے۔

بین الاقوامی شہرت رکھنے والے بینکنگ تجزیہ کار ڈینیئل ہینز نے برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ امریکہ اور لاطینی امریکہ میں کرونا وائرس کی دوسری لہر کے خدشات معیشتوں کی بحالی کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہو رہے ہیں اور اس سے سونے جیسے محفوظ اثاثوں کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی بینک بانڈز اور کرنسی کی مقدار بڑھا رہے ہیں جس کی وجہ سے ان کی قیمتیں کم اور سونے کا ریٹ زیادہ ہونے کا امکان موجود ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور یورپی ممالک اتنی کرنسی چھاپتے ہیں جتنا ان کے پاس سونے کے اثاثے موجود ہوتے ہیں۔

کرونا وائرس کی وبا کے باعث دنیا کے اکثر ترقی یافتہ ملک کرنسی نوٹ اور بانڈز زیادہ چھاپ رہے ہیں جس کی وجہ سے حکومتیں منڈی سے سونا اٹھا رہی ہیں، جو قیمتی دھات کی قیمت میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔

پاکستان میں سونے کی قیمت کم کیوں؟

گذشتہ آٹھ سالوں میں بلند ترین قیمت کے باوجود پاکستان میں سونے کی قیمت باقی دنیا سے کم ہے۔

بدھ کے روز پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت ایک لاکھ پانچ ہزار ایک سو رہی جبکہ اسی روز بھارت میں فی تولہ سونے کی قیمت ایک لاکھ 11 ہزار 95 روپے رہی اور جمعرات کو یہ قیمت ایک لاکھ 11 ہزار 912 ہو گئی۔

چین میں بدھ کو یہ قیمت ایک لاکھ 15 ہزار آٹھ سو 49 تھی اور جمعرات کے کو گر کر ایک لاکھ 11 ہزار سات سو 51 روپے ہو گئی۔

اسی طرح بدھ کے روز امریکہ میں ایک تولہ سونے کی قیمت ایک لاکھ 11 ہزار 171 روپے رہی، جو جمعرات کو بڑھ کر ایک لاکھ 11 ہزار 834 ہو گئی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حاجی ہارون رشید چاند نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ دبئی میں بدھ کے روز سونے کی قیمت پاکستان کی نسبت سات ہزار روپے زیادہ تھی۔

پاکستان میں سونے کی قیمت کم ہونے کی وضاحت کرتے ہوئے حاجی ہارون رشید نے بتایا کہ ’معاشی بدحالی اور قیمت میں اضافے کے باعث پاکستان میں سونے کا استعمال کم ہو گیا ہے، جو بیرونی دنیا کی نسبت قیمت میں کمی کا باعث بن رہا ہے۔‘

راولپنڈی میں سونے کا کاروبار کرنے والے صلاح الدین غازی کا کہنا تھا کہ جب سے سونے کی قیمت 50 ہزار روپے فی تولہ سے زیادہ ہوئی ہے، لوگوں نے طلائی زیورات کا استعمال کم کر دیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ طلائی زیورات کے استعمال میں کمی کی وجہ سے پاکستان میں گذشتہ کئی سالوں سے سونے کی قیمت بیرونی دنیا کی نسبت کم ہوگئی ہے۔

ہارون رشید چاند کہتے ہیں کہ پاکستان میں سونے کی قیمت کا انحصار ڈالر کی قیمت پر بھی رہتا ہے۔

ماہرین کے خیال میں مہنگائی، بے روزگاری اور قوت خرید کم ہونے کے باعث پاکستانی عوام سونے جیسی مہنگی دھات کی خریداری سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔

انہی عوامل کے پیش نظر پاکستان میں سونے کی قیمت اس رفتار سے نہیں بڑھ رہی جس طرح بین الاقوامی منڈی میں بدھ کے روز اضافہ دیکھنے میں آیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت