بلاول کا پہلا ٹرین مارچ: کیا عوامی طاقت کا مظاہرہ؟

‘مارچ اسٹیبلشمنٹ کے لیے اشارہ اور پیپلز پارٹی مخالف کسی فیصلے کی صورت میں پارٹی کارکنان کو تیار رکھنے کی ایک کوشش ہے۔’

یہ بلاول کے سیاسی سفر کا پہلا بڑا ٹرین مارچ ہے۔  تصویر امر گرڑو

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا وفاقی حکومت کے خلاف ٹرین مارچ ’کاروان بھٹو‘ منگل کی صبح کراچی کی کینٹ سٹیشن سے لاڑکانہ کے لیے روانہ ہوا ہے۔

یہ بلاول بھٹو زرداری کے سیاسی سفر کی پہلی ٹرین مارچ ہے۔ روانگی سے قبل، پارٹی کارکنان نے بلاول کا کینٹ سٹیشن پر والہانہ استقبال کیا۔

13 ڈبوں پر مشتمل خصوصی ٹرین کی سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں اور اس ضمن میں سکیورٹی گارڈز کے لیے دو بوگیاں مختص کی گئی ہیں۔

یہ خصوصی ٹرین حیدرآباد، نواب شاہ، سکھر سے ہوتے ہوئے لاڑکانہ پہنچے گی۔

پیپلز پارٹی کے ترجمان کے مطابق اس ٹرین مارچ کے دوران بلاول 25 مقامات پر خطاب کریں گے۔

پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کی 40ویں برسی چار اپریل کو گڑھی خدا بخش میں منائی جائی گی۔

 سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق، برسی سے پہلے شروع ہونے والا ٹرین مارچ حکومت مخالف سے زیادہ پاور شو ہے۔

تجزیہ نگار اور ٹی وی اینکر فیاض نائچ کے مطابق ٹرین مارچ اسٹیبلشمنٹ کے لیے اشارہ اور پیپلز پارٹی مخالف کسی فیصلے کی صورت میں پارٹی کارکنان کو تیار رکھنے کی ایک کوشش ہے۔

’پیپلز پارٹی کے کئی رہنماؤں بشمول وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور آصف علی زرداری کے نیب میں کئی ریفرنس چل رہے ہیں، جن میں توقع کی جا رہی ہے کہ کوئی فیصلہ آسکتا ہے۔ اس صورت میں عوامی احتجاج کے لیے ابھی سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں اور یہ ٹرین مارچ اسی سلسلے کی ایک کڑی لگتی ہے۔‘

پاکستان کے تاریخی ٹرین مارچ

 پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ٹرین مارچ  کئی دہایوں تک عوامی احتجاج کے طور پر مقبول رہا ہے۔

جب ضیاالحق نے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد آمریت لاگو کر کے 90 دن میں الیکشن کرانے کا اعلان کیا اور پھر اس پر عمل نہ کیا تو بینظیر بھٹو نے ٹرین مارچ شروع کیا تھا۔

یہ ٹرین مارچ جنوبی پاکستان سے شروع ہوکر شمال کی جانب کیا گیا، جس میں کئی دن کی تاخیر بھی ہوجاتی تھی۔ بعد ازاں ضیا حکومت نے سکیورٹی خدشے کا بہانہ بنا کر بینظیر کے ٹرین میں سفر پر پابندی لگا دی تھی۔

بعد میں نواز شریف نے ٹرین مارچ کے احتجاج کو بینظیر کے خلاف استعمال کیا۔

 نومبر 1993 میں بننے والی بینظیر بھٹو کی حکومت پر دھاندلی کا الزام لگا کر نواز شریف نے ستمبر 1994 میں حکومت کے خاتمے کے لیے ٹرین مارچ کا سہارا لیا تھا۔

حکومت مخالف ٹرین مارچ 1990 کی دہائی میں مقبول ترین احتجاج سمجھا جاتا تھا۔

پاکستان کی مضبوط ترین سمجھی جانے والی مذہبی پارٹی جماعت اسلامی نے بھی کئی بار حکومت مخالف ٹرین مارچ کیا۔

اِس دور میں جب سوشل میڈیا کی مقبولیت ہے کیا ٹرین مارچ ایک مقبول طریقہ ہو سکتا ہے؟

پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما تاج حیدر نے ’کاروان بھٹو‘ کی خصوصی ٹرین سے انڈپینڈینٹ اردو کو فون پر بتایا کہ بلاول کے ٹرین مارچ کے لیے آنے والے کارکنوں خاص طور پر خواتین کی تعداد ان کے تصور سے زیادہ ہے۔

تاج حیدر نے اس خیال کی سختی سے مخالفت کی کہ یہ ٹرین مارچ پارٹی کے خلاف آنے والے کسی متوقع فیصلے کے خلاف احتجاج کی تیاری ہے۔

تصاویر: امر گُرڑو

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان