افغانستان اور امریکہ عمران خان کے بیان پر ناراض، پاکستان کی وضاحت

افغان حکومت نے وزیر اعظم عمران خان کے کابل میں عبوری حکومت کے قیام کی تجویز کو ’غیرذمہ دارانہ‘ قرار دیا، ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے اسلام آباد سے اپنے سفیر کو واپس طلب کرلیا۔

افغان صدر اشرف غنی گذشتہ برس کابل میں ایک اخباری کانفرنس کے دوران۔ تصویر:روئٹرز

افغانستان نے پاکستان میں اپنے سفیر کو وزیر اعظم عمران خان کے ’غیرذمہ دارانہ‘ بیان پر ناراضی کے اظہار کے طور پر واپس طلب کر لیا ہے۔

پیر کو عمران خان نے ایک بیان میں کابل میں عبوری حکومت کے قیام کی تجویز دی تھی جسے افغان حکام نے ’غیرذمہ دارانہ‘ قرار دیا ہے۔

اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا تھا کہ عبوری حکومت قائم کرنے سے امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان امن مذاکرات میں مدد ملے گی کیونکہ طالبان افغان حکومت سے بات چیت کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔

عمران خان کے اس بیان کو افغان حکام نے ’پاکستان کی واضح مداخلتی پالیسی کا حصہ اور افغان عوام کے حق خودارادیت اور قومی سالمیت کے منافی‘ قرار دیا۔

افغانستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان صبغت اللہ احمدی نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ پاکستان کے نائب سفیر کو کابل میں طلب کر کے اس بیان پر اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان کی وضاحت

پاکستان کے دفتر خارجہ نے افغان حکومت کی جانب سے اس اقدام پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے بیان کو افغانستان کے داخلی امور میں مداخلت نہ سمجھا جائے، ایسے اقدامات سے غلط فہمیاں پیدا ہوں گی۔

وزارت خارجہ  کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم کا بیان ویڈیو میں سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔ وزیراعظم نے پاکستان کے نظام کا حوالہ دیا تھا۔ پاکستان میں بھی نگران حکومت کے تحت انتخابات ہوتے ہیں۔

بیان کے مطابق پاکستان افغان قیادت میں امن عمل کی کامیابی کے علاوہ کسی قسم کے مفاد کی خواہش نہیں رکھتا۔ وزیراعظم عمران خان نے افغان مفاہمتی عمل کو کامیاب بنانے کے لیے ذاتی دلچسپی لی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ افغان مفاہمتی عمل کے اہم موڑ پر پاکستان کی سنجیدہ کوششوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

امریکہ کی بھی عمران خان پر تنقید 

ادھر امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد نے بھی عمران خان کے اس بیان پر انھیں تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

زلمے خلیل زاد نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا کہ پاکستان نے افغان مفاہمتی عمل میں بہت تعمیری کردار ادا کیا ہے لیکن وزیراعظم عمران خان کے بیان نے افغان مفاہمتی عمل میں مثبت کردار ادا نہیں کیا۔

انھوں نے کہا کہ افغانستان کا مستقبل افغانوں کے لیے ہے۔ افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ صرف افغان عوام کریں گے۔ عالمی برادری کا کردار صرف تمام افغانوں کو متحد کرنا ہے۔

توقع ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا ایک اور دور 15 اپریل سے قطر میں شروع ہوگا۔ جبکہ اس سے قبل امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد بھی 10 اپریل سے افغانستان اور پاکستان کا دورہ شروع کریں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا