'ہمیں شک نہیں کہ سٹاک ایکسچینج پر حملہ بھارت سے ہوا ہے'

وزیر اعظم عمران خان نے قومی اسمبلی میں اپنے خطاب میں کہا ہے کہ پاکستان سٹاک ایکسچینج پر حملہ ممبئی حملوں کی طرز پر بنایا گیا منصوبہ تھا۔

عمران خان قومی اسمبلی میں خطاب کر رہے تھے (اے ایف پی)

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خن نے قومی اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران کہا کہ پاکستان سٹاک ایکسچینج پر حملہ بھارت سے ہونے پر انہیں کوئی شک نہیں اور یہ حملہ ممبئی حملوں کی طرز پر بنایا گیا منصوبہ تھا۔

قومی اسمبلی میں دوران خطاب وزیراعظم عمران خان نے سٹاک ایکسچینج پر حملے کا مقابلے کرنے والے سب انسپکٹر اور سکیورٹی گارڈز کو خراج تحسین بھی پیش کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے پاکستان میں عدم استحکام پھیلانے کے لیے بہت بڑا منصوبہ بنایا ہوا تھا۔

عمران خان نے کہا کہ ’یہ ممبئی حملوں کی طرز پر بنایا گیا منصوبہ تھا اور ہمیں اس بارے میں کوئی شک نہیں کہ یہ حملہ بھارت سے ہوا ہے۔‘

’میں نے اپنی کابینہ کو بتایا ہوا ہے کہ ہماری ایجنسیز ہائی الرٹ پر تھیں اور چار حملے جن میں سے دو اسلام آباد کے گرد تھے انہیں ایجنسیز نے ناکام بھی بنایا تھا۔‘

وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ بڑی چہ مہ گوئیاں کی جا رہی تھیں کہ اگر بجٹ سے ایک رات پہلے کوئی ٹی وی دیکھ رہا ہوتا تو سجمھتا کہ آخری دن ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’میں جانتا ہوں یہ کتنا مشکل بجٹ تھا۔ ہمیں پانچ ہزار ارب روپے اکٹھا کرنا تھا جو نظر ثانی کے بعد 4.9 ارب روپے ہو گئے اور جو ایف بی آر نے اکٹھے کرنے تھے مگر کرونا وائرس سے دنیا بھر میں معاشی نقصان ہوا۔

 

کرونا وبا کے حوالے سے لاک ڈاؤن پر وزیر اعظم نے اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر میری بات سنی جاتی تو میں کبھی بھی وہ لاک ڈاؤن نہ کرتا جو ہم نے کیا۔ میں پھر بھی کوشش کرتا کہ کنسٹرکشن کی انڈسٹری اور چھابڑی والوں کا کام چلتا رہے۔

لاک ڈاؤن کے دنوں کے بارے میں وزیراعظم نے بتایا کہ ’غریب بستیوں میں جب جاتے تھے تو جو گاڑی جاتی تھی تو گاڑی پر حملہ ہوتا تھا۔ بھوکے لوگ تھے بیچارے جو گاڑی پر حملہ کر دیتے تھے۔‘

عمران خان نے کہا ’کنفیوژن ہم میں نہیں تھی، کنفیوژن ان میں تھی جو کبھی پاکستان کے غریب علاقوں میں نہیں گئے۔ جو لوگ لاک ڈاؤن کا کہہ رہے تھے وہ کبھی ان غریب علاقوں میں نہیں گئے۔‘

احساس کفالت پروگرام میں غریبوں کو دیے گئے 12 ہزار روپے فی خاندان پر عمران خان کا کہنا تھا کہ ’اب تک وہ پیسے ختم ہو چکے ہوں گے اور ہم اپنی پارٹی میں اس پر غور کر رہے ہیں کہ کیسے لوگوں کی مزید مدد کرنی ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اداروں میں اصلاحات کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ بہترین وقت ہے کہ جو پیسہ عوامی فلاح پر خرچ ہونا چاہیے تھا وہ گھاٹے میں جانے والی سرکاری کارپوریشنز لے رہی ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ بڑی اصلاحات کے لیے علاوہ اب کوئی اور آپشن موجود نہیں ہے اور جب یہ اصلاحات ہوں گی تو ’سٹیٹس کو‘ اس کا مقابلہ کرے گا۔

پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز کی مثال دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ایک وقت تھا جب ہمیں پی آئی اے میں سفر کرتے ہوئے فخر محسوس ہوتا تھا اور آج اس کی یہ صورت حال ایسے ہی نہیں ہو گئی، اس کے اندر باقاعدہ مافیا بیٹھے ہوئے ہیں۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ ’11 سالوں کے اندر پی آئی اے کے دس چیف ایگزیکٹوز کو ہٹایا گیا ہے جو ادارے کے اندر سے کیسز کیے گئے تھے۔ ہمارے موجود چئیرمین کو بھی کیس کر کے انہیں پانچ مہینے گھر بٹھا دیا گیا تھا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان