پوتن کے اقتدار کو 2036 تک طول دینے کے لیے انتخابی عمل

روس میں صدر ولادیمیر پوتن کے اقتدار کو 2036 تک طول دینے کے لیے متنازع آئینی ترامیم پر ووٹنگ کا آج آخری دن ہے۔

دو دہائیوں سے اقتدار پر قابض صدر پوتن سوویت ڈکٹیٹر جوزف سٹالن کے بعد دوسرے کریملن رہنما ہیں جو ملکی تاریخ میں سب سے طویل عرصے تک اقتدار میں ہیں (اے ایف پی)

روس میں صدر ولادی میر پوتن کے اقتدار کو 2036 تک طول دینے کے لیے متنازع آئینی ترامیم پر ووٹنگ کا آج آخری دن ہے۔

کرونا کی وبا کے تناظر میں ملکی تاریخ میں پہلی بار پولنگ کا عمل ایک ہفتے تک جاری رکھا گیا تاکہ انتخابات کے دوران ہجوم کو کم سے کم کیا جاسکے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹیڈ پریس کے مطابق آئینی ترامیم کے لیے انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد صدر پوتن 2036 تک اپنے اقتدار میں توسیع کرسکتے ہیں جب کہ ناقدین نے کریملن پر پولنگ میں بے ضابطگیوں اور ووٹرز پر دباؤ ڈالنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ صدر پوتن بڑے پیمانے پر ریاستی پروپیگنڈہ مہم کے ذریعے اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اس رائے شماری کا مقصد پوزیشن کو مکمل طور پر ختم کرنا ہو سکتا ہے۔

انتخابی عہدیداروں کے مطابق بدھ کی صبح تک ٹرن آؤٹ پہلے ہی 55 فیصد سے تجاوز کرگیا تاہم کریملن کے ناقدین اور آزاد مبصرین نے سرکاری اعدادوشمار پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ روس کے بعض خطوں میں ٹرن آؤٹ کا تناسب 85 فیصد تک رہا ہے۔

انتخابات کی نگرانی کرنے والے آزاد گروپ ’گولوس‘ کی شریک صدر  گریگوری میلکونینٹس نے حکومت کی جانب سے جاری کردہ ووٹوں کی مجموعی تعداد کو ’مشکوک‘ قرار دیا ہے۔

میلکونیٹس نے ایسوسی ایٹیڈ پریس کو بتایا: ’جب ہم مختلف خطوں کا جائزہ لیتے ہیں تو ان میں تضادات واضح ہیں۔ روس کے کئی ایسے خطے ہیں جہاں ٹرن آؤٹ مصنوعی طور پر بڑھایا گیا جب کہ کچھ خطے ایسے بھی ہیں جہاں کم و بیش ٹرن آؤٹ حقیقی رہا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس متنازع آئینی ترمیم کے بارے میں انکشاف جنوری میں اس وقت ہوا جب صدر پوتن نے قوم سے خطاب میں پہلی بار اب آئینی تبدیلیوں کی تجویز پیش کی تھی۔

انہوں نے پارلیمنٹ کے اختیارات وسیع کرنے اور روسی حکومت کی شاخوں میں اقتدار کی تقسیم کی پیش کش کی جس سے ان قیاس آرائیوں نے جنم لیا کہ وہ 2024 میں اپنی صدارتی مدت پوری ہونے کے بعد بھی دوبارہ اقتدار پر قابض رہنا چاہتے ہیں۔

دو دہائیوں سے اقتدار پر قابض صدر پوتن سوویت ڈکٹیٹر جوزف سٹالن کے بعد دوسرے کریملن رہنما ہیں جو ملکی تاریخ میں سب سے طویل عرصے تک اقتدار میں ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا