ویڈیو کال کے دوران شاور لینے پر سیاست دان کی استعفے کی پیشکش

سپین میں ایک سیاست دان نے کونسل میٹنگ کے دوران شاور لیتے ہوئے حادثاتی طور پر اپنی ویڈیو نشر کرنے کے بعد استعفیٰ دینے کی پیشکش کی ہے۔

 میٹنگ کے دوران بہتے ہوئے پانی کی آواز سنائی دینے لگی ، اس دوران  برنارڈو بستلیو کے ساتھیوں کی جانب سے انہیں ہوشیار کرنے کے لیے فون کالز کی جاتی رہیں۔ (ویڈیو سکرین گریب

سپین میں ایک سیاست دان نے کونسل میٹنگ کے دوران شاور لیتے ہوئے حادثاتی طور پر اپنی ویڈیو نشر کرنے کے بعد استعفیٰ دینے کی پیشکش کی ہے۔

صبح آٹھ بجے شروع ہونے والی یہ ملاقات جب اپنے پانچویں گھنٹے میں داخل ہوئی تو سپین کی سوشلسٹ ورکرز پارٹی کے ٹوریلاویگا سے کونسلر برنارڈو بستیلو کو تشویش لاحق ہوئی کہ ان کے پاس نہانے، اپنے بیٹی کی مصروفیات میں مدد دینے اور بطور تیراکی انسٹرکٹر اپنی پارٹ ٹائم نوکری تک پہنچنے کے لیے وقت کم ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ گفتگو سننے کے سلسلے کو جاری رکھنے کے لیے انہوں نے فیصلہ کیا کہ اپنا لیپ ٹاپ غسل خانے میں ساتھ لے جائیں جہاں ان سے ایک ڈراؤنے خواب جیسی غلطی سرزد ہو گئی۔

انہوں نے ویڈیو کانفرنس کو منی مائز کرتے ہوئے یہ سوچا کہ ان کے ساتھی، صحافی اور مقامی ٹی وی دیکھنے والے عام شہری انہیں نہیں دیکھ سکیں گے۔

 میٹنگ کے دوران مقامی دریا سے ملبہ ہٹانے کے منصوبے پر گفتگو کے دوران بہتے ہوئے پانی کی آواز سنائی دینے لگی اور برنارڈو بستلیو ویڈیو میٹنگ میں موجود دیگر افراد کے سامنے مکمل طور پر ظاہر ہوگئے۔ اس دوران ان کے ساتھیوں کی جانب سے انہیں ہوشیار کرنے کے لیے فون کالز کی جاتی رہیں۔

میٹنگ میں ایک شخص کو کہتے سنا جا سکتا ہے کہ 'برنی سے کچھ کہیں، جلدی کچھ کہیں۔' جس کے ساتھ ہی علاقے کے ناظم اس کال کو ختم کر دیتے ہیں۔

یہ فوٹیج وائرل ہو چکی ہے، جس کے حوالے سے برنی بستیلو کا کہنا ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ معاشرے میں رائج معلومات 'کلک بیٹ' سے کس حد تک متاثر ہیں اور ایسی ہیڈ لائن کس حد تک ناگزیر ہیں، جن میں کہا جائے کہ ایک کونسلر میٹنگ کے دوران اپنا کیمرہ بند کرنا بھول گئے اور اس کے بعد جو ہوا وہ آپ کو حیران کر دے گا۔'

ایک بیان میں برنارڈو بستیلو کا کہنا تھا کہ 'وہ معذرت خواہ ہیں اگر ان کے اس عمل سے کسی کو تکلیف پہنچی ہو۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا مزید کہنا تھا: 'ذاتی طور پر میں اس کے لیے معافی نہیں مانگنا چاہتا کیونکہ یہ واقعہ میری اس خواہش کے باعث ہوا جس کے تحت میں اس میٹنگ کے آخری لمحات کو سننا چاہتا تھا، جو سوال جواب کا وقت تھا اور میں شاور لے رہا تھا تاکہ میں اپنی بیٹی کو باہر لے جا سکوں اور اس کے بعد اپنی نوکری پر جا سکوں۔'

بستیلو کے مطابق: 'میرا ماننا ہے کہ یہ کوئی مجرمانہ، غیر اخلاقی یا بے ایمانہ فعل نہیں تھا لیکن یہ ایک غلطی تھی کہ میں سمجھا کیمرہ بند ہے۔ حالیہ مہینوں میں آن لائن کام کے دوران اس قسم کے کئی واقعات کئی گروپس میں ہو چکے ہیں۔'

کرونا وائرس کے بعد یہ سے ضروری ہو چکا ہے کہ سیاسی، پیشہ ورانہ اور سماجی ملاقاتیں آن لائن منعقد کی جائیں اور اسی وجہ سے کئی بڑی ٹیکنالوجیکل غلطیاں بھی ہو چکی ہیں جن میں بعض اوقات برہنگی یا حادثاتی طور پر ذاتی حملے اور بے ہودہ الفاظ بھی بولے جا چکے ہیں۔

بستیلو کہتے ہیں کہ وہ اس واقعے کے حوالے سے 'مکمل طور پر پرسکون' ہیں۔ ساتھ ہی ان کا کہنا تھا: 'یہ قابل غور بات ہے کہ میری سیاسی زندگی کا سب سے بڑا تنازع ایک ایسی بات ہے جو فطری طور پر میرے ساتھ رہی ہے۔ میری پیشہ ورانہ زندگی کی وجہ سے میں نے اپنی آدھی زندگی برہنہ گزاری ہے اور میں کبھی اس وجہ سے شرمسار نہیں ہوا، چاہے یہ کسی اور کے حوالے سے ہوتی یا میرے حوالے سے نہ ہوتی۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'میرے عہدے کا فیصلہ میری جماعت کرے گی لیکن مجھے اس بات سے مایوسی ہوگی کہ میری سیاسی زندگی کے خاتمے، جسے میں ایک مرحلہ سمجھتا تھا، کا تعلق میری برہنگی سے ہوگا۔'

بستیلو نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے مزید کہا: 'میں ان تمام افراد کا شکریہ ادا کروں گا جو سیاست میں ہیں یا اس سے باہر ہیں، اپنی جماعت کا اور حزب اختلاف کی جماعتوں کا، جنہوں نے وقت نکال مجھے پیغام بھیجے ہیں کہ ایسے واقعے کو مزاح اور فطری انداز میں ہی لے کر اس کا سامنا کیا جائے۔'

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی یورپ