'سرفراز شاید ڈریسنگ روم سے میدان تک پانی پلانے کا کام کریں'

پاکستان کرکٹ بورڈ نے ماہرین صحت کی تجاویز کے برعکس جلد بازی میں ان کھلاڑیوں کو انگلینڈ بھیجنے کا انتظام کیوں کیا جن کے ٹیسٹ صرف دو روز قبل منفی آئے ہیں؟ پوری رپورٹ جانیے۔۔

(اے ایف پی)

انگلینڈ کے موجودہ دورے میں پاکستان ٹیسٹ  ٹیم کے نائب کپتان بابر اعظم  نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے سیریز شروع ہونے سے پہلے ہی ٹیم سلیکشن کا اعلان کردیا اور محمد رضوان کو ریگولر وکٹ کیپر کھلانے کا عندیہ دے دیا۔

ان کے اس بیان کا سبب تو ایک عام سا سوال تھا لیکن برجستہ جواب نے پورے پس منظر کو واضح کردیا۔

اگرچہ غیر روایتی طور پر ایک بہت بڑے سکواڈ میں سابق کپتان سرفراز احمد کی شمولیت پر چیف سلیکٹر مصباح الحق نے کہا تھاکہ سرفراز کسی مجبوری کے تحت نہیں بلکہ اپنی پرفارمنس کی وجہ سے ٹیم میں واپس آئے ہیں اور ان کی ٹیسٹ پلئینگ سکواڈ میں شمولیت ممکن ہے لیکن پاکستان میڈیا کے ساتھ ورچوئل گفتگو میں نائب کپتان بابر اعظم نے پالیسی بیان دے کر پہلے سے سلیکشن کا انکشاف کردیا ہے۔

بطور نائب کپتان انھوں نے کئی ایسے سوالوں کا جواب دیا جن پر ٹیم مینیجمنٹ یا پھر کپتان بول سکتے ہیں۔

لیکن اپنے خیالات کا برملااظہار کرنے  سے یہ بات عیاں ہوگئی کہ بابر اعظم ٹیم مینیجمنٹ کی آنکھوں کا تارا ہیں اور جو چاہے بول سکتے ہیں۔

انضمام نے سرفراز کی حمایت کردی

بابر اعظم کا سرفراز کے بارے میں یہ بیان اس وقت آیا جب کچھ دیر قبل ہی سابق کپتان و سیلکٹر انضمام الحق نے سرفراز کو کپتانی سے ہٹانے کے فیصلے کو جلد بازی قرار دیا اور بورڈ کے اس فیصلے پر تنقید کی کہ محض دو چار میچز میں شکست کو بنیاد بناکرکپتانی سے ہٹا دینا کسی طرح مناسب نہیں۔

آپ ایک ایسے کپتان کو صرف دو میچز کی شکست پر راتوں رات کیسے ہٹا سکتے ہیں جس نے چیمپئنز ٹرافی جتوائی ہو اور ٹیم کو ٹی ٹونٹی میں اول پوزیشن پر لاکھڑا کیا ہو؟ اس کو ایک جنبش قلم سے ہٹا دینا سمجھ سے بالاتر ہے۔

انضمام الحق نے اپنے مینٹور عمران خان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان بھی دس سال کپتان رہنے کے بعد ورلڈ کپ میں پاکستان کو فتح دلاسکے تھے، ہر کپتان کو اپنے کھلاڑیوں کو لڑانے کی تدبیر بتانے میں وقت لگتا ہے سرفراز کو بھی وقت ملنا چاہیےتھا۔

انھوں نے سرفراز کی ڈریسنگ روم میں موجودگی کو اظہر علی اور بابر اعظم کے لیے مشکل وقت قرار دیا۔

اس سے کھلاڑیوں میں کشیدگی پیدا ہوسکتی ہے کیونکہ ایک سینئیر اور سابق کپتان سامنے موجود ہو تو کپتان دباؤ کا شکار ہوجاتا ہے۔ اور ایک کمزور ٹیم مینیجمنٹ جس میں ساتھ کھیلے ہوئے سابق کھلاڑی ہوں تو کھلاڑیوں کو کنٹرول میں رکھنا مشکل ہوتا ہے۔

ایک ایسے وقت میں انضمام کا  سرفراز کی حمایت میں بیان کافی معنی خیز ہے کیونکہ سرفراز کی سبکدوشی آج کل نہیں بلکہ طویل عرصہ قبل ہوئی ہے لیکن ایک اہم دورے سے قبل ایسا بیان انٹرنیشنل میڈیا بھی ضرور اجاگر کرے گا۔

 سرفراز احمد تقریباً ایک سال کے بعد ٹیم میں واپس آئے ہیں لیکن اس دوران ان کے لیے حالات کچھ اچھے نہیں رہے۔ بورڈ کی بےاعتناعی اور کچھ صحافیوں کی بدسلوکی نے سرفراز کو بہت مایوس کیا ہے ۔

سنٹرل کنٹریکٹ میں تنزلی بھی ان کے لیے دھچکا تھا لیکن وہ خاموش رہے۔

پی سی بی میڈیا کی طرف سے ایک متنازعہ ویڈیو کا اس وقت نشر ہونا جب بورڈ نے انہیں کپتانی سے ہٹایا، ایک کڑوا گھونٹ تھا جسےسرفراز ہنس کر پی گئے۔

سرفراز کی موجودہ دورے میں موجودگی کیا کسی کشیدگی کا سبب بن سکتی ہے؟ غالباًایسا نہیں لگتا لیکن ان کو دورے پر لے جانا اورسیریز سے ایک ماہ قبل ہی ان کی شمولیت سے انکار کرنا سرفراز کی پرفارمنس پر اثر ڈال سکتا ہے۔  

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

محمد رضوان نے اگرچہ آسٹریلیا کے خلاف ایک اچھی اننگز کھیلی تھی لیکن ٹی ٹونٹی میں وہ اب تک اس سطح کی کارکردگی نہیں دکھا سکے جس کی بنا پر انھیں سرفراز پر فوقیت دی گئی تھی۔

مضبوط اعصاب اور شفقت آمیز رویے کے مالک سرفراز احمد ان سب باتوں پر خاموش ہیں لیکن ٹیم مینیجمنٹ کو دیکھنا ہوگا کہ کیاکسی کھلاڑی کو کھلانا یا نہ کھلانا اور وقت سے پہلے اعلان کرنا نائب کپتان کے دائرہ اختیار میں آتا ہے ؟

بابر اعظم نے اگرچہ ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ان کے اور سرفراز کے بہت اچھے تعلقات ہیں اور وہ ان سے مشورے لیتے ہیں لیکن بابر کا یہ جواب منظر نامے کے برعکس نظر آتا ہے کیونکہ موجودہ منظر سرفراز کے مخالف نظر آتا ہے۔

محمد رضوان کوویڈ  ٹیسٹ کے مثبت آنے کے بعد قرنطینہ میں رہے اور ٹیم کے ساتھ نہیں جاسکے تھے تاہم اب وہ دوبارہ ٹیسٹ کےمنفی آنے کے بعد چند روز میں ٹیم کو جوائن کرلیں گے۔

ماہرین صحت کوویڈ وائرس کے صحت یاب مریضوں کو کم ازکم پندرہ دن تک مزید الگ تھلگ رہنے کی تجویز دیتے ہیں اور چونکہ اس وائرس کے باعث جسم نقاہت کا شکار ہوتا ہے اور نظام تنفس کمزور ہوجاتا ہے اس لیے مزید آرام بہتر ہوتا ہے ۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے ماہرین صحت کی اس تجویز کے برعکس جلد بازی میں ان کھلاڑیوں کو انگلینڈ بھیجنے کا انتظام کرلیا ہے جن کے ٹیسٹ صرف دو روز قبل منفی آئے ہیں۔

بورڈ کی اس پھرتی اور جلد بازی کے پیچھے شاید ٹیم مینجمنٹ کی خواہش ہے کہ وہ تمام کھلاڑی جو ایمرجنسی میں متبادل حیثیت سے لائے گئے ہیں انھیں ڈریسنگ روم تک محدود رکھا جائے اور من پسند کھلاڑی ٹیم کا حصہ ہوں۔

بابر اعظم کے بیان نے اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ سرفراز شاید ڈریسنگ روم سے میدان تک صرف پانی پلانے کا کام کرتے رہیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ