شادی پر تنقید: ’ہمیں کوئی فرق ہی نہیں پڑا‘

لاک ڈاؤن کے دوران شادی، سوشل میڈیا پر شدید تنقید اور آنے والی مزاحیہ ٹیلی فلم کے حوالے سے شہروز سبزواری اور صدف کنول کی انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو

یہ جوڑا شادی کے بعد پہلی مرتبہ ایک ساتھ ایک مزاحیہ ٹیلی فلم  ’نہ گھر کا نہ گھاٹ کا‘ میں کام کر رہا ہے۔

رواں سال مئی کے مہینے کے آخری دن جب ماڈل صدف کنول اور شہروز سبزواری  نے اپنی شادی کا اعلان اپنے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر کیا تو جیسے ایک بھونچال سا آگیا۔ لوگ کرونا کی وبا بھول کر ان کی شادی پر جملے کسنے لگے اور یوں محسوس ہوا کہ جیسے یہ شادی ان کا ذاتی معاملہ نہ ہو بلکہ یہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

اس دوران ان دونوں خاص کر صدف کنول پر طرح طرح کے الزامات عائد کیے گئے اور چند بہت ذاتی نوعیت کے رکیک جملے بھی لکھے گئے۔

تاہم تقریباً ایک ماہ سے کچھ زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد اب یہ جوڑا شادی کے بعد پہلی مرتبہ ایک ساتھ ایک مزاحیہ ٹیلی فلم  ’نہ گھر کا نہ گھاٹ کا‘ میں کام کر رہا ہے، جو عیدالاضحیٰ کے موقع پر نشر کی جائے گی۔

انڈپینڈنٹ اردو نے اس ٹیلی فلم کے سیٹ پر جاکر ان دونوں سے ملاقات کی اور ان کے کام اور شادی شدہ زندگی کے بارے میں گفتگو کی۔

شہروز سبزواری نے انڈپینڈنٹ اردو کو ٹیلی فلم کے بارے میں بتایا کہ یہ ایک مزاحیہ ٹیلی فلم ہے، جو عیدالاضحٰی کے موقع پر نشر کی جائے گی۔

شہروز اور صدف کی شادی کے بعد یہ ان کا پہلا پروجیکٹ ہے جو وہ ساتھ کر رہے ہیں۔ اس بارے میں شہروز کا کہنا تھا کہ انہیں شادی کے بعد سے بہت سے ڈراموں میں کام کرنے کی پیشکش کی گئی تھی تاہم جب اس ٹیلی فلم کا اسکرپٹ سامنے آیا تو ’صدف نے کہا کہ میں کامیڈی کرنا چاہوں گی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس موقع پر صدف کنول نے کہا کہ ’میں کچھ مختلف کام کرنا چاہتی تھی اور یہ کافی مختلف کام تھا۔‘

صدف کنول نے بتایا کہ ٹیلی فلم کو ان دونوں نے نہیں چنا بلکہ چینل نے ان دونوں سے اس کام کے لیے رابطہ کیا تھا۔

دوسری جانب شہروز نے کہا کہ ’عید خوشی کا موقع ہوتا ہے اور ویسے بھی ملک میں کرونا کی وبا کی وجہ سے جو حالات ہیں تو لوگ ذرا ہلکا پھلکا کام چاہتے ہیں۔ ٹیلی فلم کے دوران دونوں ساتھ میں کام کرکے دیکھ لیں کہ ہدایت کار ہمیں کیسے استعمال کرتے ہیں اور ہم ایک دوسرے کے ساتھ ٹی وی اسکرین پر کیسے نظر آتے ہیں۔‘

شہروز سبزواری سے تو ایک سکہ بند مزاحیہ اداکار کے صاحبزادے ہونے کے ناطے ہم توقع کرسکتے ہیں، تاہم صدف کنول کو مزاحیہ کردار ادا کرنے کی کیوں سوجھی؟

اس بارے میں صدف نے ہنستے ہوئے کہا کہ ’نہیں یہ بس اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہی ہوا ہے۔‘ انہوں نے وضاحت کی کہ وہ جب اپنی پہلی فلم ’بالو ماہی‘ کا آڈیشن دینے کے لیے گئی تھیں تو ہدایت کار نے ان سے کہا تھا کہ ’تم مزاحیہ اداکاری کرسکتی ہو۔‘

شہروز نے بتایا کہ جب وہ اس ٹیلی فلم کا سکرپٹ پڑھ رہے تھے تو انہیں ستارہ (صدف کنول کے کردار کا ٹیلی فلم میں نام)کے کردار میں صدف ہی نظر آرہی تھی۔ ’اس کے بعد ہم دونوں اپنے والد بہروز سبزواری کے پاس گئے اور ان سے مشورہ کیا‘۔

اس موقع پر صدف کنول نے کہا: ’پاپا نے مجھ سے کہا کہ کرکے دکھاؤ، تو پہلے میں کافی ہچکچائی، مگر پھر کچھ حوصلہ ہوا تو کیا، اس پر پاپا نے کہا ویری گڈ، جاؤ جاکر کرو، اس طرح یہ ٹیلی فلم میں نے کرلی۔‘

آئٹم نمبر کے حوالے سے صدف اور شہروز کیا کہتے ہیں؟

صدف کنول نے اس سے پہلے ایک پاکستانی فلم ’نامعلوم افراد 2 ‘ میں ’کیف و سرور‘ نامی  آئٹم نمبر بھی کیا تھا۔

اس حوالے سے صدف کا کہنا تھا کہ انہوں نے شہروز سے کبھی اس بارے میں بات نہیں کی کیونکہ وہ بھی ایک آرٹ تھا، ایک کام تھا جو انہوں نے کیا اور ’میں اسے مکمل طور پر اپناتی ہوں اور مجھے وہ بہت پسند ہے۔‘

دوسری جانب شہروز کے خیال میں آئٹم نمبر فلم کی کہانی میں ضروری ہو تب ہی ہونا چاہیے، بلاوجہ فلم کو بیچنے کے لیے نہیں ہونا چاہیے۔

شہروز کا مزید کہنا تھا کہ ذاتی طور پر ’کیف و سرور‘ ان کا سب سے پسندیدہ گانا ہے۔

صدف کنول نے بہت واضح انداز میں کہا کہ اب اگر انہیں کسی فلم میں آئٹم نمبر کی پیشکش ہوتی ہے تو وہ انکار کردیں گی، کیونکہ وہ پہلے اکیلی تھیں اور اب ان کی شادی ہوگئی ہے۔ ’میرا بہت بڑا خاندان ہے اس لیے ہر چیز دیکھ کر چلنا ہوتا ہے۔‘

 صدف کنول پاکستان کی صف اول کی ماڈل ہیں اور کئی ایوارڈز بھی جیت چکی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ لوگ انہیں ایک بہت ہی زیادہ گلمرس لڑکی کے طور پر جانتے ہیں جبکہ ڈراموں میں تو شلوار قمیص دوپٹے والے کردار ہی زیادہ ہوتے ہیں۔ جس پر شہروز کا کہنا تھا کہ ’یہ ہر روپ میں ڈھل جاتی ہیں۔‘ صدف نے بتایا کہ یہ سارے کپڑے ان کی ساس یعنی شہروز کی والدہ نے تیار کروائے ہیں۔

شہروز کا کہنا تھا کہ ان کے خاندان میں فن اور فنکار کو بہت اہمیت دی جاتی ہے اور صدف کنول کو بھی بطور فنکار ہی دیکھا جاتا ہے۔

’میں تو کہتی ہوں لوگ مزید بولیں تاکہ میرے گناہ دھلیں‘

صدف اور شہروز کی شادی بہت سادگی سے لاک ڈاؤن کے زمانے میں ہوئی تھی۔ اس حوالے سے صدف نے کہا کہ وہ ہمیشہ ہی سے چاہتی تھیں کہ ان کی شادی کم لوگوں کی موجودگی میں ہو۔

دوسری جانب شہروز نے کہا کہ ’شادی میں دعائیں دینے والوں کی ضرورت ہوتی ہے اور جیسے دیگر ممالک میں کئی مشہور شخصیات سادگی سے 70 یا 80 افراد کی موجودگی میں شادی کرتے ہیں اسی طرح ہم نے بھی کرلی، اس سے لاک ڈاؤن کا کوئی تعلق نہیں تھا۔‘

شہروز اور صدف کی شادی پر سوشل میڈیا پر جو طوفان اٹھا تھا، اس کے بارے میں بات کرتے ہوئے شہروز نے کہا کہ ’ہمارے بڑوں نے ہم سے کہا کہ (یہ کہتے ہوئے شہروز کا لہجہ ہلکا سا تلخ ہوا) وہ قافلہ کبھی اپنی منزل تک نہیں پہنچا جس نے رک رک کر ہر بھونکنے والے کتے کو پتھر مارا ہو‘۔

جبکہ صدف کنول نے کہا کہ ’ہم تو اس ساری نفرت پر ہنسے اور ہمیں کوئی فرق ہی نہیں پڑا۔‘

ذاتی نوعیت کے حملوں سے متعلق سوال پر صدف نے کہا: ’کیا آپ کو میرے چہرے سے یا انداز سے محسوس ہو رہا ہے کہ مجھے کوئی فرق پڑا ہوگا‘۔

صدف کا کہنا تھا کہ ان کے پاس ان کے شوہر ہیں، اتنا اچھا خاندان ہے اس لیے ان چیزوں سے انہیں فرق بالکل نہیں پڑتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کی شادی پر جو ہنگامہ کھڑا ہوا، اس کی انہیں بالکل پرواہ نہیں کیونکہ اس سے پہلے بھی ایسے ہنگامے ہوچکے ہیں۔

اس پر شہروز کا کہنا تھا کہ صدف کنول ذہنی طور پر ایک مضبوط لڑکی ہیں۔ آخر میں صدف نے کہا کہ ’میں تو کہتی ہوں لوگ مزید بولیں تاکہ میرے گناہ دھلیں۔‘

آخر میں ٹیلی فلم ’نہ گھر کا نہ گھاٹ کا‘ کے بارے میں بات کرتے ہوئے شہروز نے کہا کہ اس ٹیلی فلم میں وہ اور صدف کنول شادی شدہ ہیں اور جاوید شیخ صدف کے والد بنے ہوئے ہیں جو اصل زندگی میں ان کے ماموں ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس ٹیلی فلم میں ان کے والد کی دکانیں ہیں جن پر وہ کام کرتے ہیں اور انہیں ہتھیانا چاہتے ہیں، اب یہ کام کیسے کرتے ہیں یہ عیدالضحیٰ پر دیکھ لیں۔

آخر میں ان دونوں اداکاروں نے عوام سے گزارش کی کہ کرونا کی وبا کے پیشِ نظر بہت خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔ خود کو اور دوسروں کو محفوظ رکھیں، خوش رہیں اور سب کو خوش رکھیں کیونکہ زندگی نفرت کرنے کے لیے بہت چھوٹی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی فن