'نہیں معلوم تھا یہ غلطی صدف کی جان لے لے گی'

براڈ کاسٹ صحافی اور پروڈیوسرعلی سلمان علوی پر اپنی بیوی صدف زہرہ پر گھریلو تشدد اور قتل کرنے کا الزام ہے۔

صدف زہرہ- (ٹوئٹر)

بیوی کے مبینہ قتل کے الزام میں براڈ کاسٹ صحافی علی سلمان علوی کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔

ٹوئٹر پر علی کے خلاف 'جسٹس فار زہرہ' کا ہیش ٹیگ ٹاپ ٹرینڈ کر رہا ہے، جس کا آغاز بدھ کو ایف عارف نامی ایک ٹوئٹر صارف کی الزام پر مبنی ٹوئٹ سے ہوا۔

ایف عارف نے اپنی ٹوئٹ میں الزام عائد کیا تھا کہ 'علی نے ان کی دوست صدف زہرہ کو پھنسا کر شادی کی، ان پر تشد د کیا اور آخر میں انہیں قتل کر دیا۔' انہوں نے اپنی ٹویٹس میں کچھ پیغامات کے سکرین شاٹس بھی شیئر کیے اور بتایا کہ انہیں یہ مواد صدف کی بہن نے فراہم کیا اور انہیں زبانی بھی بہت کچھ بتایا۔

ایف عارف نے دعویٰ کیا کہ 'صدف کی علی سے ٹوئٹر پر بات چیت شروع ہوئی تھی، اور جب علی نے دیکھا کہ صدف ایک اچھے گھر کی خوبصورت، ذمہ دار اور مضبوط خاتون ہیں تو انہوں نے انہیں شادی کے لیے پھنسایا۔'

انہوں نے مزید لکھا کہ 'صدف نے اپنے گھر والوں کی مرضی کے خلاف علی سے شادی کی لیکن انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ غلطی ان کی جان لے لے گی۔'

راولپنڈی پولیس کے مطابق اس حوالے سے گذشتہ مہینے کی 29 تاریخ کو ملزم علی کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا اور علی اس وقت پولیس کی حراست میں ہیں۔

 

ڈیجیٹل رائٹس پاکستان کی بانی، وکیل اور خواتین کے حقوق پر کام کرنے والی نگہت داد نے اپنی ٹویٹ میں کہا 'گھریلو تشدد کے خلاف سرگرم صدف خود ہی گھریلو تشدد کا شکار بن گئیں اور 29 جون کو ان کی لاش ان کے گھر سے ملی۔'

خیال رہے کہ علی سینیئر صحافی عاصمہ شیرازی کے ٹی وی شو کے پروڈیوسر ہیں۔ عاصمہ نے اپنی ٹویٹ میں واقعے پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے لکھا کہ انہیں آج صبح ہی پورے معاملے کا ٹوئٹر سے پتہ چلا  انہوں نے کہا کہ نہ صرف وہ بلکہ جس میڈیا گروپ کے لیے وہ کام کرتی ہیں، سختی سے اس واقعے کی مذمت کرتے ہیں اور علی کو ملازمت سے برخاست کر دیا گیا ہے۔

اسی طرح اے آر وائی سے وابستہ سینیئر صحافی ارشد شریف نے امید ظاہر کی کہ پولیس بغیر کسی دباؤ میں آئے تحقیقات کرے گی۔

دنیا نیوز کے کرنٹ افیئرز شو کے میزبان اجمل جامی نے بھی واقعے پر اپنی تکلیف کا اظہار کرتے کہا کہ انہیں شدید دھچکہ پہنچا ہے۔

اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر بہت سے لوگ اس واقعے پر اپنے غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹرینڈنگ