چنبیلی کو پاکستان کا قومی پھول کیوں چنا گیا؟

اردو میں چنبیلی، بنگالی میں چمیلی اور انگریزی میں جیسمین پکارے جانے والے اس پھول کو قومی درجہ ملے ہوئے59 سال مکمل ہونے پر انڈپینڈنٹ اردو کی خصوصی تحریر۔

چنبیلی کو 'خوشبو کی ملکہ' اور 'پھولوں کی ملکہ' کے القاب بھی دیے گئے ہیں(پکسابے)

اردو میں چنبیلی، بنگالی میں چمیلی، انگریزی میں جیسمین اور سندھی زبان میں موتیو پکارے جانے والے چھوٹے سائز کے سفید اور نہایت ہی منفرد خوشبو والے پھول کو پاکستان کا قومی پھول قرار دیے جانے کو آج 59 سال مکمل ہوگئے ہیں۔

قیام پاکستان کے بعد حکومت پاکستان نے موجودہ بنگلا دیش اور اس وقت کے مشرقی پاکستان میں پائے جانے والے بنگال ٹائیگر یا چیتے کو قومی جانور اور نرگس کے پھول کو ملک کا قومی پھول قرار دینے کے لیے چنا مگر چونکہ مغربی یعنی موجودہ پاکستان میں بنگال ٹائیگر یا چیتا نہیں پایا جاتا تھا اور نرگس کا پھول مشرقی حصے میں نہیں ہوتا تھا، اس لیے ان دونوں کو قومی علامات قرار دینے کی بجائے مارخور کو پاکستان کا قومی جانور اور 15 جولائی 1961 کو چنبیلی کو ملک کا قومی پھول قرار دیا گیا تھا۔

چنبیلی کو 'خوشبو کی ملکہ' اور 'پھولوں کی ملکہ' کے القاب بھی دیے گئے ہیں۔ اُس وقت چنبیلی کو ملک کا قومی پھول قرار دیتے ہوئے وزارت داخلہ کے ایک ترجمان نے اپنے اعلامیے میں کہا تھا کہ اس پھول کو یہ اعزاز اس لیے بخشا گیا ہے کیونکہ یہ ملک کے دونوں حصوں (مشرقی اور مغربی پاکستان) میں پیدا ہوتا ہے اور ملک میں موجودہ مختلف ثقافتوں اور زبانوں کے ہم آہنگی سے آپس میں جڑے رہنے کو ظاہر کرتا ہے اور ملک کے قریباً تمام علاقوں کے باشندے اس پھول سے مساوی طور پر جذباتی لگاؤ رکھتے ہیں۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ چونکہ چنبیلی کا پھول سفید رنگ کا ہوتا ہے اور اس کے ساتھ موجود سبز پتوں کی وجہ سے یہ پاکستان کے قومی پرچم کی طرح نظر آتا ہے، اس لیے اسے پاکستان کا قومی پھول قرار دیا گیا تھا۔ گرم اور مرطوب علاقوں میں پائے جانے والے اس نہایت ہی منفرد خوشبو والے پھول کی دو سو اقسام ہیں، جن میں اکثریت سفید یا زرد رنگ والے پھولوں کی ہے جبکہ کچھ اقسام میں سرخی مائل پھول ہوتے ہیں۔ جنگلی چنبیلی کے پودے کی عمر 15 سے 20 سال ہوتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چنبیلی کے پتے پورا سال ہرے رہتے ہیں، جو پت جھڑ میں جھڑنا شروع ہوجاتے ہیں اور پھر چھ ماہ بعد پودے پر دوبارہ پھول آجاتے ہیں۔ چنبیلی کے پھول کی خوشبو اندھیرا ہونے کے بعد اپنے عروج پر ہوتی ہے، خاص طور پر ان دنوں میں جب چاند پورا ہو۔ چنبیلی کے پھول سے نکالا گیا تیل کاسمیٹکس اور پرفیوم بنانے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

 اردو ادب، کہاوتوں اور شاعری میں چنبیلی کے پھول کا بار بار ذکر کیا گیا ہے۔ چند اردو کہاوتیں ملاحظہ کریں: 'چمپا کے دس پھول چنبیلی کی ایک کلی۔ مورکھ کی ساری رات چاتر کی ایک گھڑی' یا پھر 'چھچھوندر کے سر میں چنبیلی کا تیل' اور 'دائی چنبیلی کے گھر مرزا موگرا'۔

پاکستان کی ترقی پسند ادیبہ اور شاعرہ فہمیدہ ریاض کے شعری مجموعے 'پتھر کی زباں' سے منتخب نظم 'مری چنبیلی کی نرم خوشبو' میں اس پھول اور اس کی خوشبو کا ذکر کچھ اس طرح کیا گیا ہے۔

مری چنبیلی کی نرم خوشبو

ہوا کے دھارے پہ بہہ رہی ہے

ہوا کے ہاتھوں میں کھیلتی ہے

ترا بدن ڈھونڈنے چلی ہے

مری چنبیلی کی نرم خوشبو

مجھے تو زنجیر کر چکی ہے

الجھ گئی ہے کلائیوں میں

مرے گلے سے لپٹ گئی ہے

وہ رات کی کہر میں چھپی ہے

سیاہ خنکی میں رچ رہی ہے

گھنیرے پتوں میں سرسراتی

ترا بدن ڈھونڈنے چلی ہے۔۔۔!!

دنیا کے ہر ملک میں کچھ نشانیوں، پرندوں، درختوں، پھولوں، قومی رہنماؤں اور مقامات کو قومی علامات قرار دیا جاتا ہے تاکہ نہ صرف ان کی اہمیت کو اجاگر کیا جاسکے بلکہ ان کے تحفظ کا بھی خیال رکھا جائے۔

پاکستان میں بھی کئی سرکاری قومی علامات ہیں۔ جیسے پاکستان کا قومی پھول چنبیلی، قومی درخت دیودار، ، کھیل ہاکی، پرندہ چکور، مشروب گنے کا رس، پھل آم، جانور مارخور، رینگنے والا قومی جانور انڈس مگر مچھ اور قومی لباس لباس شلوار قمیص ہیں۔

اس طرح صوبائی حکومتوں نے کچھ نشانیوں، پرندوں، درختوں اور پھولوں کو صوبائی علامات قرار دیا ہے، جیسے سندھ میں نیم کے درخت کو سندھ کا صوبائی درخت کا درجہ حاصل ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان