کرسی کوئی نہیں چھوڑتا

بھلا ہو ملائیشیا کے مہاتیر محمد کا جنہوں نے 70 سال کی سیاست کو خیرباد کہہ کر کم از کم دنیائے سیاست کے لیے ایک مثال تو قائم کی ورنہ یہاں۔۔۔

بعض سیاست دانوں کی طاقت کرسی کے بغیر بھی ہوتی ہے، اسی لیے تاحیات پارٹی قیادت کو سینے سے لگائے رکھتے ہیں۔ حریت رہنما سید علی شاہ گیلانی کی مثال کافی ہے۔

دنیا کے مختلف ملکوں میں آج بھی ’تاحیات حکمرانی‘ کی روایت بدستور قائم ہے۔ پرانے زمانے میں راجے مہاراجوں اور سرداروں نے اپنی خاندانی مملکتیں قائم کی تھیں۔ پہلے بغیر ووٹ کے ایسا ہوتا تھا اور جمہوریت کی جڑیں مضبوط نہیں تھیں اب جمہوریت کا ڈنکا بجا کر بعض حکمران آخری سانس تک اپنی کرسی کو تھامے رکھتے ہیں۔

یہ روایت سرکاری کرسی کی لالچ تک ہی محدود ہوتی تو بات سمجھ میں آتی مگر بعض سیاست دان پارٹی قیادت کو بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتے حالانکہ پارٹی محض ایک سربراہ تک ہی سمٹ گئی ہوتی ہے۔

یہ تحریر خود مصنف کی آواز میں یہاں سنیے

 

میں آپ کو برصغیر کی ایسی درجنوں مثالیں پیش کرسکتی ہوں جہاں پارٹی قیادت یا تاحیات حکمرانی ایک فرد یا خاندان تک محدود ہے مگر مجھے اس بات کا بھی علم ہے کہ آپ کے پاس سینکڑوں ایسے افراد اور جماعتوں کی فہرست ہوگی جو پرجا یا عوام کو ایک ہجوم سمجھتے ہیں جس کو صرف ہانکا جاسکتا ہے۔ بڑی جمہوریتوں میں ایسی ہی رسم قائم ہے۔

مرحوم غفار خان نے ایک بار کہا تھا ’ہجوم کو یا تو ہانکا جا سکتا ہے یا انہیں ایک سمت دی جا سکتی ہے۔ یہ صرف لیڈر پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ کون سا راستہ اختیار کرے۔‘ ہمیں تو صرف ہانکا گیا ہے سمت تعین کرنے کا سوال ہی نہیں، ہمارا تجربہ یہی بتاتا ہے۔

لیکن ساری خرابیاں صرف برصغیر میں نہیں بلکہ برصغیر کو بیرونی دنیا سے ایسی تحریکیں ملتی رہی ہیں۔ کرسی کی مایا جال ایسی ہے کہ روس کے صدر ولادی میر پوتن روپ بدل بدل کر کرسی کو تھامے ہوئے ہیں۔ کبھی کے جی بی، کبھی وزیر اعظم تو کبھی صدر کی وردی پہن کر اس مایا جال کے چکر میں عوام کو پھانس رہے ہیں اور بچاری عوام چیں بھی نہیں کر پاتی۔

ترکی کے رجب طیب اردوغان ایک زمانے میں استنبول کے میئر کیا بنے اور کرسی کا ایسا چسکا لگا کہ وہ کبھی عثمانوی مسلمان کا روپ اختیار کر کے عرب دنیا کو چیلنج دے رہے ہیں تو کبھی یورپ کی گود میں بیٹھ کر تجارتی لین دین سے ترکوں کو صدیوں کے لیے پابند کر رہے ہیں۔

ارطغرل ڈرامے سے متاثر ہو کر آیا صوفیہ کو مسجد بنانے کا اقدام گو کہ بیشتر تجزیہ نگاروں کی نظر میں پرخطر ہے لیکن اندرون ملک انہوں نے کم از کم اگلے دس پندرہ برسوں کی حکمرانی کی تصدیق کروا لی ہے۔ 2016 کی اندرونی بغاوت کو ایسے گول کیا کہ جیسے تقسیم سکوائر میں ترک ڈرامے کی ریہرسل ہو رہی تھی۔

عرب بادشاہوں کی شان میں کیا بات کریں جن میں زیادہ تر ستر اسی برس پار کر چکے ہیں۔ ان کی گنتی کرنا ناممکن ہے اور اگر ان کے شہزادے اور شہزادیوں کا حساب بھی کرنا ہوگا تو پہلے ان کا پتہ لگانا ہوگا جو یورپی ممالک میں پناہ نہیں بلکہ بڑی جاگیریں لے کر شہنشاہیت کے خوب مزے لے رہے ہیں۔ لندن کے ایج ویئر روڈ پر ان کی تفریح کے لیے شیشہ پینے کی دلکش دکانیں رکھی گئی ہیں۔

زمبابوے کے رابرٹ موگابے کے بارے میں بیشتر لوگوں نے اظہار خیال کیا تھا کہ وہ کرسی کے ساتھ ایسے لپٹے جیسے قبر سے واپس آنے کی طاق میں ہیں حالانکہ سامراجی طاقتوں نے اس ملک میں سوائے سوکھے کے کچھ نہیں چھوڑا تھا۔ 2017 کی بغاوت کے بعد وہ علیل رہنے لگے تھے۔

پاکستانی سیاست دانوں کو ٹکنے بھی نہیں دیا جاتا۔ زیادہ سے زیادہ تین یا چار سال۔ پھر ایک کے بعد ایک جلا وطن، ہلاک اور عدالت میں الجھانا، فوجی سربراہان کو پھر بھی دس دس سال تک برداشت کرتے رہے تب جا کر خیال آتا کہ ان کو اقتدار چھوڑنے پر کیسے مجبور کیا جائے۔ وہ تب تک چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوتے جب تک اندرونی سیاسی انتشار ملکی سالمیت پر بھاری پڑتی دکھائی نہ دیتی تھی۔

بھارت نے سات دہائیوں تک پوری دنیا میں اپنی جمہوریت کا ڈھنڈورا پیٹا۔ اس کا بھانڈا پھوٹنے کا سہرا ہندو تنظیم بھارتیہ جنتا پارٹی کو جاتا ہے جس نے اس کو ایسے بےنقاب کیا کہ اس کا اب انتہائی گھناؤنا چہرہ نظر آ رہا ہے۔ پہلے 60 برسوں تک ملک کی حکمرانی نہرو خاندان سے باہر ہی نہیں آئی۔ اب جب عوام نے چند برسوں سے سیاست کا نیا چہرہ دیکھا ہے تو بیشتر ’ہے رام ہے رام‘ کی دوہائی دینے لگے ہیں۔

یہ آوازیں اب چیخوں میں تبدیل ہو رہی ہیں۔ جو حکمران اب تشریف فرما ہیں وہ چوری چھپے نہیں بلکہ برتن بجا کر تاحیات حکمران رہنے کی سند حاصل کرنے کی طاقت کا جلد مظاہرہ کرنے والے ہیں۔ ذرا انتظار کیجیے نریندر مودی بھارت کے ولادی میر پوتن ہوں گے۔

ذرا کشمیر کی جانب بھی چہل قدمی کریں۔ یہاں جتنی قدرتی خوبصورتی ہے اتنی سیاسی بدصورتی نظر آئے گی۔ ہمارے قد آور رہنما شیخ عبداللہ نے تو ہندوستان سے الحاق کے وقت تاحیات حکمرانی کا ٹھیکہ حاصل کیا تھا۔ وہ اپنے بچوں کو بھی اس میں حصہ دار نہیں بنانا چاہتے تھے مگر جب علالت کے باعث انہیں برف کے بڑے ٹب میں رکھنے کی نوبت پہنچی تو ان کے خاندان والوں نے فوراً سرکاری ٹوپی فاروق عبداللہ کے سر پر رکھی تاکہ تاج بنا رہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بخشی غلام حمد کو شیخ گرانے کی تربیت دہلی بازار میں خوب ملی تھی اور نو اگست 1953 کے کھیل کے بدلے میں انہیں بھی نہرو نے زمین داری کا ٹھیکہ دیا تھا۔ 10 سال کے بعد وہ ایسے غائب ہوئے کہ ان کشمیریوں کو حساب چکتا کرنے کی حسرت ہی رہی جن کے جسموں پر گرم استری کے داغ بخشی دور کی یاد دلا رہے تھے۔

مفتی محمد سید کسی سے کم نہیں تھے۔ انہوں نے نہ پیچھے دیکھا نہ آگے بلکہ بھارتی سیاست کی بدلتی روش کو گلے لگا کر بھارتیہ جنتا پارٹی سے چھ سال کا زبانی کنٹریکٹ حاصل کیا۔ انہوں نے کشمیر کے لیے جو خواب دیکھا تھا اس کو ہندتوا کے کارکن آج کل شرمندہ تعبیر کر رہے ہیں۔

دو سال کے بعد ہی ہندتوا کی دوستی کا ایسا اثر پڑا کہ نہ تو ان کی جانشین بیٹی نظر آ رہی ہیں اور نہ وہ پارٹی جو سیاسی تھپیڑوں کے بوجھ تلے دب کے رہ گئی ہے۔ مگر تاحیات قیادت کی رسی ہاتھ میں موجود ہے۔

یہ تو وہ لوگ ہیں جن کے پاس کرسی، طاقت اور حکومتیں رہی ہیں مگر حسرت ان پر ہے جنہیں پارٹی قیادت کے نتیجے میں جیل، نظر بندی، ہلاکتیں اور پابندیاں ملی ہیں۔ بیشتر چاہنے والے ان کے بھی جانشین بننے کے خواب دیکھ رہے ہیں جیسے جیل نہیں کوئی بکنگھم پیلس ملنے کی امید ہے۔

بعض سیاست دانوں کی طاقت کرسی کے بغیر بھی ہوتی ہے، اسی لیے تاحیات پارٹی قیادت کو سینے سے لگائے رکھتے ہیں۔ حریت رہنما سید علی شاہ گیلانی کی مثال کافی ہے۔ باقی قیادت کا حساب آپ خود کرسکتے ہیں۔ گیلانی اپنی زندگی میں اپنا جانشین بنا سکتے تھے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا اور شاید اب ایسا کرنے کی طاقت بھی نہیں رکھتے۔

بھلا ہو ملائیشیا کے مہاتیر محمد کا جنہوں نے 70 سال کی سیاست کو خیرباد کہہ کر کم از کم دنیائے سیاست کے لیے ایک مثال تو قائم کر دی ورنہ برطانیہ کی بزرگ ترین ملکہ الزبتھ کی تین موجودہ نسلیں بادشاہت کے خواب دیکھتے دیکھتے اب ملک چھوڑنے کو ترجیح دینے لگی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ