لکڑی کے چوپال: ’بیس  ہزار روپے میں پورا حجرہ تیار‘

لکڑی سے بنے چوپال یا ہٹ صدیوں پرانی روایت ہیں، آج بھی خیبر پختوںخوا سمیت پاکستان کے مختلف علاقوں میں شوقین افراد اپنے گھروں کے قریب یا کسی باغ میں انہیں لگا کر مہمانوں یا اپنے دوستوں کی بیٹھک سجاتے ہیں۔

سیمنٹ سے بنی عمارتوں کا رواج تو بہت عام ہے اور پوری دنیا میں کنکریٹ کی عمارتیں بنائیں جاتی ہیں جس پر لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔

لیکن کبھی سوچا ہے کہ آپ 20 ہزار روپے میں مہمانوں کے بیٹھنے اور دوستوں کی بھیٹک سجانے کے لیے حجرہ بنا سکتے ہیں جو کنکریٹ کا تو نہیں ہوگا لیکن بنانے والوں کے مطابق اس کا مزہ کنکریٹ عمارت سے بھی زیادہ ہے۔

لکڑی سے بنے چوپال یا ہٹ  صدیوں پرانی روایت ہیں، آج بھی خیبر پختوںخوا سمیت پاکستان کے مختلف علاقوں میں شوقین افراد اپنے گھروں کے قریب یا کسی باغ میں انہیں لگا کر مہمانوں یا اپنے دوستوں کی بیٹھک سجاتے  ہیں۔

چوپال کیسے بنایا جاتا ہے؟

ضلع دیر کے گاؤں ملک آباد میں محمد عمران نے حال ہی میں اپنے گھر کے قریب چوپال کی تعمیر نو کی ہے۔

اسی چوپال میں کام کرنے والے کاریگر ہمیش رحمان کا کہنا ہے کہ چوپال بنانا اتنا مشکل نہیں ہے اور نہ ہی اس پر اتنا خرچہ آتا ہے۔

رحمان نے انڈپینڈنٹ  اردو کو بتایا کہ سب سے پہلے چوپال کے لیے لکڑی سے ایک فریم بنایا جاتا ہے اور چاروں طرف اسی فریم کے اندر چھوٹی لکڑیاں لگائی جاتی ہیں۔

انہوں نے کہا: ’فریم مکمل ہونے کے بعد چھت کی باری آتی ہے جسے کوور کرنے کے لیے پہلے اس کے اوپر اسی طرح چھوٹی لکڑیاں اور اس کے بعد اس کے اوپر ٹہنیاں جس کو پشتو میں ’لوحہ‘ کہتے ہیں جو ایک خاص قسم کی ٹہنیاں ہوتی ہیں جو دریا کے کنارے اگتی ہیں۔

رحمان نے بتایا: ’ٹہنیوں کو ایک طریقے سے رکھا جاتا ہے کیونگہ اگر ایسا نہ کیا جائے تو اس میں بارش کا پانی آ جاتا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ٹہنیوں کو رکھنے کے بعد انہیں ایک دھاگے کے ذریعے لکڑی کے فریم کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے تاکہ ہوا کی وجہ سے چوپال خراب نہ ہو۔

چوپال آج  کل کس مقصد کے لیے استعمال ہوتا ہے؟

محمد عمران نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ تین چار سال پہلے انہوں نے یہ چوپال اس مقصد کے لیے بنایا تھا تاکہ دوست یہاں اکھٹے بیٹھ کر گپ شپ لگائیں اور اس کو بطور حجرہ بھی استعمال کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا: ’شام کے بعد ہم سارے دوست یہاں بیٹھتے ہیں۔ لڈو وغیرہ کھیلتے ہیں اور مختلف کھانے کی محفلیں بھی سجاتے ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ اس کا فائدہ یہ بھی ہے کہ یہاں وہاں گھومنے کی بجائے یہاں دوستوں کے ساتھ آرام سے بیٹھے رہتے ہیں۔

کنکریٹ عمارت اور چوپال کا موازنہ کرتے ہوئے عمران نے بتایا کہ چوپال کنکریٹ سے بہتر اس لیے ہے کیونکہ یہ ہوادار بھی ہوتا ہے اور یہ ایک روایتی حجرے کا احساس بھی دلاتے ہیں جبکہ کنکریٹ عمارت میں یہ مزہ نہیں ہوتا۔

چوپال کا استعمال کتنا پرانا ہے؟

چوپال یا ہٹ کا استعمال تقریباً چھ  ہزار سال پرانا ہے۔ تحقیقاتی مقالوں کے مطابق لکڑی سے بنے ہٹ یا چوپال کا استعمال رومی دور میں شروع ہوا تھا اور وہ  لوگ اسے  رہنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔

لوکل ہسٹری نامی ایک ادارے کے مطابق کہ عموماً  ایک چوپال ایک کمرے کی طرح ایک خاندان استعمال کرتا تھا جبکہ کچھ لوگ اسی ایک کمرے میں جانوروں کو بھی باندھتے تھے اور پھر سردیوں میں جانوروں کی درجہ حرارت سے چوپال بھی گرم رہتا تھا۔

روم دور کے چوپال میں کھڑکی کا کوئی خیال نہیں تھا جبکہ چوپال کا فرش مٹی یا اس  کے اوپر لکڑی کا بورڈ لگا دیا جاتا تھا کیونکہ اس دور میں قالین وغیرہ کا استعمال عام نہیں تھا۔

تقریباً 16ویں صدی میں خشت کا استعمال شروع ہوا اور چوپال کا استعمال بعد میں وہ لوگ کرتے تھے جو معاشی طور پر کمزور تھے اور کنکریٹ یا خشت سے گھر نہیں بنا سکتے تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان