ٹک ٹاک، پب جی کے استعمال کے قواعد طے کر رہے ہیں: پی ٹی اے

پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ وہ 25 سال سے زائد عمر کے نوجوانوں کے ٹک ٹاک کے محدود استعمال کا طریقہ وضع کر رہے ہیں جبکہ پب جی گیم کے اندر ایسی تبدیلیاں چاہتے ہیں کہ اس کا جنون کی حد تک استعمال نہ ہو۔

اعدادوشمار کے مطابق ٹک ٹاک ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے حساب سے پاکستان دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے(اے ایف پی)

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے گذشتہ مہینے خودکشی کے تین واقعات کو بنیاد بنا کرمشہور زمانہ ویڈیو گیم 'پب جی' پر عارضی پابندی لگا دی تھی اور اب اتھارٹی نے ایک قدم مزید آگے بڑھ کر 'بیگولائیو' ایپ کو بند جبکہ 'ٹک ٹاک' ایپ کو 'معاشرتی ومذہبی اقدار کو نقصان پہنچانے کے خدشے' پر خبردار کیا ہے۔

پی ٹی اے کا اس حوالے سے اپنے بیان میں کہنا تھا کہ نوجوان نسل کو اس طرح کی سرگرمیوں میں ایک حد تک مصروف رکھنے اور خطرناک نتائج روکنے کے لیے ان ایپس کوعارضی طور پر بند کرکے طریقہ کار طے کیا جا رہا ہے۔

اتھارٹی کے مطابق سوشل میڈیا ایپس کے مثبت استعمال کا طریقہ سمجھانے کے لیے میٹرک تک تعلیمی اداروں میں خصوصی مضمون شامل کرنے کی حکمت عملی بنائی جارہی ہے۔ دوسری جانب پب جی ویڈیو گیم کھیلنے کے شوقین نوجوان نہ صرف سوشل میڈیا پر اپنا مقدمہ لڑ رہے ہیں بلکہ یہ عارضی پابندی اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت بھی ہے۔

آن لائن گیمز اور ویڈیو ایپس صارفین کاریکارڈ جمع کرنے والی ویب سائٹ 'پروپاکستانی' کے مطابق 2019 تک پاکستان میں ٹک ٹاک استعمال کرنے والوں کی کل تعداد ایک کروڑ 95 لاکھ تھی جو اب مزید بڑھ چکی ہے جبکہ ٹک ٹاک ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے حساب سے پاکستان دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے۔
اسی عرصے میں پب جی کھیلنے والوں کی تعداد ایک کروڑ 30 لاکھ تھی جبکہ بیگو لائیو استعمال کرنے والوں کی تعداد بھی لاکھوں میں ہے۔
ٹک ٹاک استعمال کرنے والے کئی بچے اور نوجوان  خطرناک مقامات مثلاً دریا کے کنارے وغیرہ پر منفرد ویڈیو بنا کر اپنے فالوورز کو حیران کرنے کی خواہش میں حادثات کا شکار ہو چکے ہیں جبکہ مبینہ طور پر پب جی گیم کھیلنے سے منع کرنے پر گذشتہ ماہ تین نوجوانوں نے خود کشی کرلی تھی۔

پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ اسے ٹک ٹاک ایپ کی وجہ سے لڑکیوں اور بچوں میں  بے راہ روی کی شکایات موصول ہوئی ہیں جبکہ بیگو لائیو کو بند کرنے کی وجہ بھی 'فحاشی پھیلانے اور نوجوان سادہ لوح لڑکیوں کو بلیک میل کرنے 'جیسی سنگین شکایات بنیں۔

 ویڈیو ایپس اور پب جی گیم بند کیسے کی گئیں؟

پی ٹی اے کے ڈائریکٹرجنرل سائبر ویجیلنس نثار احمد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ قانون میں پی ٹی اے کو 'شہریوں کے لیے مشکلات کا باعث بننے والی اور قابل اعتراض' ویب سائٹس اور ایپس بند کرنے کا اختیارہے۔
انہوں نے کہا کہ 'پابندی عائد کرنے کے لیے کسی سے اجازت درکار نہیں، تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ جدت کے اس دور میں آن لائن تفریح کے مواقع روکنے کے حق میں نہیں کیونکہ ہر ریاست کے شہریوں کا بنیادی حق ہے کہ آن لائن کوئی بھی ویب سائٹ یا ایپلی کیشن اور گیم استعمال کرسکتے ہیں۔'
نثار احمد نے بتایا کہ  انہیں پب جی گیم سے منع کرنے پر نوجوانوں کی خود کشیوں کی شکایات موصول ہوئیں، اسی طرح بیگو لائیو پر فحش، مذہبی منافرت پھیلانے اور بچے، بچیوں کو گمراہ کرنے سے متعلق بھی شکایات ملیں، یہی صورت حال ٹک ٹاک سے متعلق ہے۔

ان کا کہنا تھا: 'پی ٹی اے نے انسانی جانوں کے ضیاع پر پب جی پر فوراً پابندی لگادی، بیگو لائیو کو بھی کافی حد تک قابل اعتراض مواد زیادہ سے زیادہ شیئر ہونے پر بند کردیا گیا جبکہ ٹک ٹاک انتظامیہ کو وارننگ دی ہے کہ وہ قابل اعتراض مواد روکنے کے لیے فوری اقدامات کریں ورنہ اسے بھی بند کر دیا جائے گا۔'

انہوں نے کہا: 'ہمارامقصد اس گیم اور ویڈیو ایپس کو مستقل بند کرنا نہیں، تاہم ان کمپنیوں کی انتظامیہ سے قواعد وضوابط طے کیے جارہے ہیں اور جیسے ہی ہم کسی متفقہ نتیجے پر پہنچتے ہیں تو یہ سب کھولنے کی مشروط اجازت دی جاسکتی ہے۔'

نثار احمد کے مطابق: 'ہم 25 سال سے زائد عمر کے نوجوانوں کے ٹک ٹاک کے محدود استعمال کا طریقہ وضع کر رہے ہیں جبکہ پب جی گیم کے اندر ایسی تبدیلیاں چاہتے ہیں کہ اس کا جنون کی حد تک استعمال نہ ہو۔'

انہوں نے کہا کہ اتھارٹی ایسی تجاویز تیار کر رہی ہے کہ میٹرک تک تعلیمی اداروں میں سوشل میڈیا اور اپیس کے محتاط استعمال اور ان کے منفی اثرات سے بچاؤ کے بارے میں باقاعدہ خصوصی مضمون شامل کیے جائیں۔

بچوں اور نوجوانوں کی ذمہ داریاں اور مطالبات

انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہر عبدالحنان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ انٹرنیٹ نے دنیا کو گلوبل ویلج تو بنا دیا لیکن پاکستان میں اس کے منفی اثرات  کی ایک بڑی وجہ نوجوان نسل کا زیادہ باشعور نہ ہونا ہے۔ والدین نے بچوں کو پب جی گیم سمیت آن لائن گیمز کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا لیکن جب وہ عادی ہوگئے تو انہیں  روکنے کی کوشش کی جس سے خرابی پیدا ہوئی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

'اسی طرح ویڈیو ایپس کے استعمال  سے سستی شہرت اور فحش ویڈیوز سے خود کو نمایاں کرنے کا شوق دیکھنے میں آیا جس سے کافی لڑکیوں کو معاشرتی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑااور کئی نوجوانوں نے جرم  کو ذریعہ بنا لیا۔'

انہوں نے کہا کہ پی ٹی اے ایپس سٹورز پر آنے والی ہر ایپ کو پہلے سے مانیٹر نہیں کرسکتی، نہ ہی کسی آن لائن ویب سائٹ کو چیک کیا جاسکتا ہے، لیکن ان ہزاروں ایپس اور ویب سائٹس میں سے زیادہ استعمال ہونے والی ایپس چیک کی جاسکتی ہیں اور ان کے منفی ومثبت پہلوؤں کو پرکھا جاسکتا ہے، کیونکہ ہر ایپ یا ویب سائٹ کے معاشرے پر ایک جیسے اثرات نہیں ہوتے۔ 'کئی ایپس اور ویب سائٹس کاروبار اور مارکیٹنگ کے لیے بھی بڑے پیمانے ہر استعمال ہوتی ہیں۔'

یاد رہے کہ  پب جی گیم کی بندش اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کی گئی تھی۔ شہری عبدالحسیب ناصر کی درخواست پر عدالت نے پی ٹی اے سے وضاحت  طلب کرتے ہوئے جامع حکمت عملی تیار کرنے کی ہدایت دی تھی، تاہم اس کیس کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں سنایا گیا۔

دوسری جانب  بیشتر شوقین افراد  وی پی این کے ذریعے پب جی گیم اور بیگو لائیو کو اب بھی استعمال کر رہے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان