'میرے خیال میں مرد چرچ کچھ تلاش کرنے نہیں آتے'

سویڈن کے چرچ میں خواتین پادریوں کی تعداد نہ صرف مردوں سے بڑھ گئی بلکہ چرچ آف سویڈن کی ہیڈ آف تھیالوجی کرسٹینا گرین ہوم کے مطابق چرچ آنے والوں میں بھی خواتین کی تعداد زیادہ ہے۔

(فائل فوٹو: اے ایف پی)

حال ہی میں سامنے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق دی چرچ آف سویڈن میں خواتین راہباؤں کی تعداد مرد راہبوں سے بڑھ گئی ہے۔

1960 میں خواتین کو رہبانیت اختیار کرنے کی اجازت دینے کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب خواتین راہباؤں کی تعداد مرد پادریوں سے زیاد ہو گئی ہے۔

سال 2000 تک سویڈن کا سرکاری اور ریاستی چرچ رہنے والے لوتھرن انسٹی ٹیوشن اس وقت خواتین راہباؤں کی تعداد 1533 جبکہ مرد راہبوں کی تعداد 1527 ہے۔ جب کہ یہاں کی آرک پشپ اور کئی بشپس بھی خواتین ہیں۔

خبر رساں ادارے اے پی سے بات کرتے ہوئے الزبیتھ اوبرگ ہینسن کا کہنا ہے کہ 'یہ ایک طرح سے معاشرے کا آئینہ ہے۔ اور اسے ایسے ہی ہونا چاہیے۔'

الزبیتھ ہینسن نے 30 سال قبل رہبانیت اختیار کی تھی اور وہ آج بھی اس امتیازی سلوک کو یاد کرتی ہیں جب انہیں ایک گرجا گھر بھیجا گیا جہاں انہیں مسترد کر دیا گیا۔

لیکن اب وقت بدل چکا ہے۔ گذشتہ سال یورپی انسٹی ٹیوٹ فار جینڈر ایکولیٹی نے سویڈن کو اپنی رینکنگ میں سرفہرست قرار دیا۔ سویڈن کا سکور پوری یورپی یونین کے 67.4 کے مقابلے میں 83.6 تھا۔

الزیبتھ اوبرگ اس کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیتی ہیں۔

سویڈن کی طرح سکینڈنیویا کے دوسرے ممالک میں بھی لگ بھگ ایسی ہی صورت حال ہے جہاں مذہبی طبقے میں خواتین کی تعداد تقریبا مردوں کے برابر ہے۔ چرچ آف ڈنمارک اور چرچ آف ناروے میں بھی خواتین پادریوں کی تعداد مرد پادریوں کے برابر ہے۔

چرچ آف سویڈن کی بشپ ایوا برونے کا کہنا کہ 'مجھ سے اپنے دس سالہ بشپ دور کے دوران پوچھا جاتا تھا کہ سب مرد کہاں ہیں؟ اگر آپ سویڈن کی یونیورسٹیوں میں دیکھیں تو وہاں بھی ایسا ہی ہے۔ وہاں بھی خواتین کی تعداد مردوں سے زیادہ ہے۔ اس کا مطلب ہے خواتین زیادہ وکیل اور ڈاکٹرز بن رہی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سویڈن کے چرچ کے تقریبا 58 لاکھ ارکان ہیں جو کہ ملک کی آبادی کا 57 فیصد سے زائد بنتا ہے لیکن کئی گرجا گھروں میں عہدے خالی ہیں اور ان پر خواتین کے آنے کے امکانات زیادہ ہیں۔

چرچ آف سویڈن کی ہیڈ آف تھیالوجی کرسٹینا گرین ہوم کہتی ہیں 'میرے خیال میں یہ کوئی پریشان کن بات نہیں ہے۔ لیکن جب ہم عدم توازن دیکھیں تو یہ پریشان کن ہے۔' ان کے مطابق عبادت گزاروں میں عدم توازن کافی واضح ہے۔

کرسٹینا گرین ہوم کا کہنا ہے کہ 'میرے خیال میں مرد چرچ کچھ تلاش کرنے نہیں آتے۔'

42 سالہ اینا انگامیر جو کہ تین بچوں کی ماں ہیں اور پادری کے عہدے کی امیدوار ہیں، کا کہنا ہے کہ چرچ میں مردوں اور عورتوں کے درمیان توازن قابل فہم ہے لیکن ان کے خیال میں باقی شعبوں میں برابری کے لیے مزید کام کرنا ہو گا۔

اینا انگامیر کہتی ہیں 'جیزز اپنے وقت میں تمام طبقات، اصناف اور افراد کے لیے انصاف کے لیے کھڑے ہوئے تھے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ خواتین اس حوالے سے مزید آگے بڑھیں۔ نمائندگی یقینی طور پر ایک اچھی بات ہے۔ خواتین کی نمائندگی بھی لیکن قومی اور طبقاتی نمائندی بھی ضروری ہے۔ ہمیں اس حوالے سے کام کرنا ہو گا۔ کیونکہ چرچ سب کا ہے۔'

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا