'بیروت دھماکوں کی وجہ ضبط شدہ بارودی مواد ہو سکتا ہے'

لبنان کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق دارالحکومت بیروت میں دو زوردار دھماکوں نے شہر کو ہلا کر رکھ دیا جبکہ اطلاعات کے مطابق متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

وزیر صحت حماد حسن کے مطابق دھماکوں سے بہت بڑی تعداد میں شہری زخمی ہوئے ہیں (اے ایف پی)

لبنان کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق دارالحکومت بیروت میں دو زوردار دھماکوں نے عمارتوں، کھڑکیوں کو ہلا کر رکھ دیا جبکہ اطلاعات کے مطابق متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

مقامی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر تصاویر اور ویڈیوز سامنے آئی ہیں جو انتہائی خوفناک منظر پیش کر رہی ہیں، جبکہ بعض میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کئی افراد عمارتوں اور اپنے مکانوں میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔

وزیر صحت حماد حسن کے مطابق دھماکوں سے بہت بڑی تعداد میں شہری زخمی ہوئے ہیں، جبکہ بعض سرکاری حکام کے مطابق ان دھماکوں کے نتیجے میں دس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

یہ زوردار دھماکے بیروت بندر گاہ کے قریب ہوئے ہیں لیکن ان کی شدت شہر کے کئی علاقوں میں محسوس کی گئی ہے۔

تاحال ان دھماکوں کی اصل وجہ تو معلوم نہیں ہو پائی ہے تاہم لبنان کے سکیورٹی جنرل عباس ابراہیم کا کہنا ہے کہ دارالحکومت بیروت میں ہوئے زور دار دھماکوں کی وجہ وہ ضبط شدہ دھماکہ خیز مواد ہو سکتا ہے جس میں سوڈیم نائٹریٹ بھی شامل تھا اور اسے کئی سال پہلے بندرگاہ کے قریب رکھا گیا تھا۔

سینیئر سکیورٹی اہلکار کا کہنا ہے کہ ’ایسا لگتا ہے کہ وہاں ایک گودام تھا جس میں کئی سال قبل ضبط کیا گیا مواد موجود تھا اور بظاہر اس میں بڑی تعداد میں دھماکہ خیز مواد بھی شامل تھا۔‘

خیال رہے کہ سوڈیم نائٹریٹ بنیادی طور پر ایک پریزروینگ ایجنٹ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے لیکن پائیروٹکنکس اور دھواں پیدا کرنے والے بموں میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق منگل کی شام یہ دھماکے بیروت کے شمال میں 20 کلومیٹر دور بندرگاہ کے علاقے میں ہوئے ہیں۔ ان شدید دھماکوں کی آوازیں کئی کلومیٹر دور تک سنی گئی اور ان سے دور کئی ایک عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔ سڑکوں پر کھڑی دسیوں گاڑیاں جل بھی گئی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسرے دھماکے کی ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نارنجی رنگ کا ایک دائرہ بنتا ہے اور اس کے بعد قریبی عمارتوں کے شیشے اور دروازے ٹوٹ گئے۔

منصوریہ ضلع کی ایک رہائشی جنہوں نے دوسرا دھماکہ اپنی آنکھوں سے دیکھا کہتی ہیں کہ ’ہم نے ایک دھماکے کی آواز سنی اور اس کے بعد مشروم دکھائی دیا۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’دھماکہ اتنا زوردار تھا کہ اس کی شدت سے ہم پیچھے جا گرے۔‘

لبنان کے وزیراعظم کی جانب سے بدھ کو یوم سوگ منانے کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ صدر نے دفاعی کونسل کی میٹنگ طلب کر لی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا