کشمیر سے اٹھنے والی بے خوف آوازیں

ملیے پیر وقار الاسلم اور صائم مصطفیٰ سے جنہوں نے نئی دہلی کی ڈرانے اور دھمکانے کی پالیسیوں کے باوجود کشمیریوں کی آواز دنیا تک پہنچائی۔

پیر وقار الاسلم (بائیں) اور صائم مصطفیٰ (دائیں)

بھارتی حکومت نے جب 2019 میں اپنے زیر انتظام کشمیر کی آئینی حیثیت کے خاتمے کے لیے آرٹیکل 370 کو منسوخ کیا تو اس سے قبل ہی جموں وکشمیر میں مرکزی دھارے کے تمام سیاست دانوں سمیت حریت رہنماؤں کو حراست میں لے لیا گیا۔

بھارتی حکومت کے نافذ کردہ لاک ڈاؤن اور سیاسی قیادت کی نظربندی نے نہ صرف ایک سیاسی خلا پیدا کیا بلکہ نئی دہلی کی اس متنازع پالیسی کے خلاف بولنے والے ہر شخص کو خوف زدہ کردیا۔ تاہم اس دوران کچھ لوگ ایسے بھی تھے، جو ان حالات میں بھی بھارتی حکومت کی پالیسیوں کے بارے میں بات کرنے کے لیے سامنے آئے۔

ان ہی میں سے ایک صحافی اور سماجی کارکن پیر وقار الاسلم بھی تھے، جو نہ صرف نئی دہلی میں ٹی وی چینل کے سٹوڈیوز میں بیٹھ کر کشمیریوں کے حقوق کی بات کرتے نظر آئے بلکہ مختلف فورمز پر آرٹیکل 370 کی وکالت کرنے کی کوشش بھی کی۔

 

پیر وقار الاسلم بی جے پی حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو منسوخ کرنے کے اقدام کے خلاف ہیں اورانہوں نے جموں و کشمیر سے لداخ کو الگ کرنے کے فیصلے کی سختی سے مخالفت کی ہے۔ 

ان کی طرح بڑھ چڑھ کر کشمیر کا مقدمہ لڑنے والے صائم مصطفیٰ جموں و کشمیر سوشیو پولیٹیکل ایکٹوسٹ موومنٹ (جے کے ایس پی اے ایم) کے صدر ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سماجی و سیاسی سرگرمی کا انتخاب کرنے سے پہلے صائم ایک کامیاب کرکٹر تھے، جن کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد جموں و کشمیر کے لوگوں کی اجتماعی مشکلات نے انہیں اپنی سرگرمیوں میں دوری پر مجبور کردیا ، کیونکہ اہم سیاسی قیادت اور لوگوں کو جیلوں میں قید کردیا گیا تھا یا پھر وہ لاک ڈاؤن کے تحت گھروں میں بند تھے، جس سے مقامی اور کشمیری تاجروں کو اربوں ڈالرز کا نقصان ہوا۔

جے کے ایس پی اے ایم کا خیال ہے کہ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد جو سیاسی خلا پیدا ہوا ہے وہ کشمیر کے لیے خطرناک ہے لہذا آوازوں کو اٹھنا چاہیے تاکہ کشمیر مخالف پالیسیوں کو روکا جاسکے، کیونکہ بہت سے سیاسی فیصلے عوام کی مرضی کے بغیر کیے جا رہے ہیں۔ یہ گروپ بی جے پی حکومت کے ایسے یک طرفہ فیصلوں سے پیدا ہونے والے سیاسی خلا کا مقابلہ کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا