عظیم کھلاڑیوں کا پانی پلانا، ماجرا کیا ہے؟

سوشل میڈیا پر ماضی کی تصاویر پیش کرنے والے افراد یہ ثابت کرنے میں لگے رہے کہ سرفراز کے ساتھ زیادتی نہیں ہوئی ہے بلکہ ماضی میں سینیئر اور نامور کھلاڑی یہ کام کرچکے ہیں اور پانی پلانا کوئی بری بات نہیں۔

انگلینڈ کے خلاف حالیہ سیریز کے پہلے ٹیسٹ کے دوسرے دن سرفراز احمد اوپنر اور سنچری میکر شان مسعود کے لیے جوتے اور پانی لے کر گراؤنڈ میں داخل ہوئے۔(تصاویر: سوشل میڈیا)

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سرفراز احمد کا بارہویں کھلاڑی کی حیثیت سے پانی پلانا اور خصوصاً جوتے لے کر جانے کے واقعے پر سوشل میڈیا پر طوفان مچا ہوا ہے اور عوام کے ساتھ ساتھ سینیئر کھلاڑیوں نے بھی ٹیم انتظامیہ کے فیصلے کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

انگلینڈ کے خلاف حالیہ سیریز کے پہلے ٹیسٹ کے دوسرے دن جب پاکستان کی پانچویں وکٹ 176 رنز پر گری تو اسی وقت سرفراز احمد اوپنر اور سنچری میکر شان مسعود کے لیے جوتے اور پانی لے کر گراؤنڈ میں داخل ہوئے، ٹیلی ویژن پر میچ دیکھنے والے تماشائی اور سرفراز احمد کے لاکھوں پرستاروں کو سابق کپتان کی یہ سبکی برداشت نہ ہوسکی اور انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنا سارا غصہ نکال ڈالا۔

دوسری جانب ایسی تصاویر بھی سامنے آئیں، جن میں آسٹریلیا کے عظیم بلے باز سرڈان بریڈ مین، آسٹریلیا کو دو عالمی کپ جتوانے والے رکی پونٹنگ، بھارت کے کامیاب کپتان مہندر سنگھ دھونی، انٹرنیشنل کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے سچن ٹنڈولکر اور بھارت کے موجودہ کپتان اور دور حاضر کے نمبر ون بیٹسمین ویراٹ کوہلی میچ میں پانی پلاتے اور بارہویں کھلاڑی کا کردار ادا کرتے دکھائی دیے۔

ان تصاویروں کو پیش کرنے والے افراد یہ ثابت کرنے میں لگے رہے کہ سرفراز کے ساتھ زیادتی نہیں ہوئی ہے بلکہ ماضی میں سینیئر اور نامور کھلاڑی یہ کام کرچکے ہیں اور پانی پلانا کوئی بری بات نہیں وغیرہ وغیرہ ۔

جب اتنے معتبر کھلاڑیوں کی تصاویر سامنے آئیں تو ہم نے بھی تحقیق کی کہ آیا یہ بات درست ہے کہ نہیں۔ اس تحریر میں سرفراز احمد کا بارہواں کھلاڑی بننا اور دیگر عظیم کھلاڑیوں کی یہ ذمہ داری اٹھانے میں واضح فرق نظر آئے گا۔

سر ڈان بریڈ مین

بیسویں صدی کے عظیم کرکٹر سرڈان بریڈ مین نے اپنے کیریئر میں صرف ایک بار ہی بارہویں کھلاڑی کی حیثیت سے میچ میں شرکت کی۔ انگلینڈ کے خلاف ڈیبیو ٹیسٹ میں ناکامی کے بعد سیریز کے دوسرے ٹیسٹ میں جو 14 دسمبر 1928 کو سڈنی میں شروع ہوا، ڈان بریڈ مین پانی پلاتے نظر آئے۔ اس میچ میں بل پونسفورڈ کے زخمی ہوجانے کے باعث انہوں نے متبادل کھلاڑی کی حیثیت سے فیلڈنگ بھی کی۔ سیریز کے اگلے ٹیسٹ میں جو میلبرن میں کھیلا گیا بریڈمین کو دوبارہ آسٹریلوی ٹیم میں شامل کرلیا گیا۔

رکی پونٹنگ

ایک تصویر جس میں رکی پونٹنگ پانی کی بوتل لے جاتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں وہ ایک سائیڈ میچ کی ہے۔ یہ سہ روزہ میچ 25 سے 27 اگست 2011 کو کولمبو میں کھیلا گیا۔ اس میچ میں نئے کھلاڑیوں کو موقع دیا گیا تھا۔ تین دن بعد 31 اگست سے گال میں شروع ہونے والے سری لنکا کے خلاف سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں رکی پونٹنگ پلینگ الیون میں شامل تھے۔

ایم ایس دھونی

بھارت کو ٹی ٹوئنٹی اور 50 اوور کا عالمی کپ کے ٹائٹلز دلانے والے مہندر سنگھ دھونی بھی دو مرتبہ بارہویں کھلاڑی کا کردار نبھاتے نظر آئے۔ پہلی بار 29 جون 2018 کو آئرلینڈ کے خلاف سیریز کے دوسرے اور آخری ٹی ٹوئنٹی میچ میں ٹیم منیجمنٹ نے انہیں آرام کا موقع فراہم کرتے ہوئے دنیش کارتھک کو ٹیم میں شامل کیا۔ دھونی سیریز کے پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ میں شرکت کرچکے تھے۔ پھر 3 جولائی 2018 کو انگلینڈ کے خلاف سیریز کے اولین ٹی ٹوئنٹی میچ میں وہ دوبارہ بھارتی ٹیم کاحصہ بن گئے۔

اس سے قبل 2017 کی چیمپیئنز ٹرافی میں بنگلہ دیش کے خلاف وارم اپ میچ میں بھی دھونی گراؤنڈ میں پانی لے کرگئے۔ یہ میچ 30 مئی کو اوول، لندن میں کھیلا گیا تھا۔ 4 جون 2017 کو پاکستان کےخلاف چیمپیئنز ٹرافی کا پہلا میچ بھارت نے برمنگھم میں کھیلا تو دھونی وکٹوں کے عقب میں کھڑے دکھائی دیے۔

سچن ٹنڈولکر

یکم اگست 2004 کے ایشیا کپ کے فائنل کے بعد بھارت کے سچن ٹنڈولکر کہنی کی تکلیف میں مبتلا ہوگئے اور جب اکتوبر میں آسٹریلیا کی ٹیم نے بھارت کا دورہ کیا تو وہ انجری کے باعث سیریز کے پہلے دوٹیسٹ میں شرکت نہ کرسکے تاہم سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں انہوں نے بارہویں کھلاڑی کی حیثیت سے فرائض انجام دیے اور میچ کے پانچویں دن 10 اکتوبر2004 کو انہوں نے پانی پلانے کے فرائض انجام دیے۔

فٹ ہوکر سیریز کے آخری دونوں ٹیسٹ میں انہوں نے اپنے ملک کی نمائندگی کی، وہ دوسری بار سونامی سے متاثرہ افراد کی امداد کے لیے منقعد کیے جانے والے میچ میں پانی لے کر گراؤنڈ میں داخل ہوتے دکھائی دیے۔ یہ میچ 10 جنوری 2005 کو میلبرن میں کھیلا گیا۔

آئی سی سی ورلڈ الیون کے کپتان رکی پونٹنگ 38 ویں اوور کی آخری گیند پر آؤٹ ہوکر پویلین لوٹ رہے تھے تو اس وقت ٹنڈولکر ہاتھ میں پانی کی بوتلیں لے کر داخل ہوئے حالانکہ ایشین الیون کے بارہویں کھلاڑی الوک کپالی تھے لیکن ٹنڈولکر اپنے پرستاروں کو جھلک دکھانے کے لیے پانی کی بوتلیں اٹھائے میدان میں پہنچ گئے۔

ویراٹ کوہلی

آسٹریلیا کے خلاف 2017 کی ہوم سیریز کے آخری ٹیسٹ میں ویراٹ کوہلی بھی پانی پلاتے نظر آئے۔ وہ چار میچوں کی اس ٹیسٹ سیریز میں میزبان ٹیم کے کپتان تھے لیکن کاندھے کی تکلیف کے باعث چوتھے ٹیسٹ میں شرکت نہ کرسکے۔ یہ میچ 25 سے 28 مارچ تک دھرم شالہ میں کھیلا گیا۔ میچ کے آغاز سے قبل ویراٹ کوہلی فٹنس ٹیسٹ میں ناکامی کے بعد ٹیم میں جگہ نہ بناسکے، دھرم شالہ میں کوہلی کے ہزاروں پرستار جو اس خبر سے شدید مایوس تھے انہیں خوش کرنے کے لیے ویراٹ کوہلی خود پانی لے کر گراؤنڈ پہنچ گئے اور ان کا تماشائیوں نے پرتپاک استقبال کیا۔ اس کے بعد انگلینڈ کے خلاف ہوم ٹیسٹ سیریز میں کوہلی نے پھر سے بھارتی ٹیم کی قیادت سنبھالی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان سارے عظیم کھلاڑیوں کے پانی پلانے والے واقعات درج کرنے کا مقصد صرف یہی ہے کہ ان میں اور سرفراز میں کیا واضح فرق ہے۔ سوائے بریڈ مین کے تمام کھلاڑیوں نے آرام کی غرض سے میچ میں شرکت نہیں کی یا پھر انجری کے باعث وہ میچ میں حصہ نہیں لے سکے۔ صرف بریڈ مین کو کیریئر کے اولین ٹیسٹ میں ناکامی کے بعد دوسرے ٹیسٹ سے ڈراپ کیا گیا لیکن پھر تیسرے ٹیسٹ میں دوبارہ ان کو ٹیم میں شامل کر لیا گیا اور کسی میچ میں یہ سارے عظیم پلیئرز جوتے لے کر جاتے ہوئے دکھائی نہیں دیے۔ اگر سرفراز بارہواں کھلاڑی تھا بھی تو یہ کام کسی اور کو سونپا جاسکتا تھا۔ اوپر سونامی امدادی میچ میں ٹنڈولکر کی مثال پیش کی گئی ہے جو ایک انٹرنیشنل میچ درجہ رکھتا ہے۔

عوام کا اعتراض اس بات پر ہے کہ سکواڈ میں جونیئر کھلاڑیوں کے ہوتے ہوئے پاکستان کو واحد چیمپیئنز ٹرافی جتوانے والے کپتان، پاکستان کو ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں طویل عرصے تک نمبر ایک پوزیشن پر برقرار رکھنے والے اور انڈر 19 ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو 12 واں کھلاڑی کیوں منتخب کیا گیا؟ اور اگر بارہواں کھلاڑی بنانا ہی تھا تو جوتے کوئی اور کھلاڑی بھی لے کر جاسکتا تھا۔ ایسا ماضی میں ہوتا رہا ہے۔ جس طرح سرفراز احمد سے کپتانی لے کر انہیں ٹیم سے ڈراپ کرکے تذلیل کی گئی، یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی سوشل