کیا نجی جاسوسوں کو کچھ بھی کرنے کی آزادی ہے؟

'دا موڈرن ڈیٹیکٹو' کے مصنف ٹائلر میرونی کے مطابق امریکہ میں 35 ہزار سے زائد نجی تفتیش کار موجود ہیں جبکہ فلوریڈا جیسی کچھ ریاستوں میں 4000 سے بھی زائد ہیں۔

فلم 'دا مالٹیز  فالکن' کے فکشنل کردار سیم سپیڈ، جنہوں نے ایک جاسوس کا کردار ادا کیا تھا۔ 

امریکی مصنف ٹائلر میرونی اپنی مئی میں شائع ہونے والی کتاب 'دا موڈرن ڈیٹیکٹو' میں پوچھتے ہیں کہ کوئی فرد ایک تفتیش کار کی خدمات کیوں حاصل کرتا ہے؟ پھر وہ خود ہی اس کا جواب دیتے ہیں: 'غلط کاموں کو سامنے لانے کے لیے۔ کسی حقیقی یا سمجھی گئی غلطی کو درست کرنے کے لیے۔ سزا دینے یا انتقام لینے کے لیے۔ مقابلہ کرنے والے پر فوقیت حاصل کرنے کے لیے۔ کسی تجسس کی تسکین کے لیے۔ لاپتہ شخص کو تلاش کرنے یا کسی چوری کی گئی چیز کو چھپانے کے لیے۔ مفاد عامہ میں۔ دوسرے لفظوں میں بنیادی انسانی خواہشات کی تسکین میں مدد کے لیے۔'

میرونی کو ان لوگوں کے مقاصد کو بیان کرنے میں بہت سے لوگوں سے بہتر مقام دیا گیا، جو پرائیویٹ سراغ رسانوں کی خدمات حاصل کرتے ہیں کیونکہ وہ خود ایک پرائیویٹ ڈیٹیکٹو ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ وہ نیویارک شہر میں سراغ رساں ایجنسی کوئسٹ اینڈ ریسرچ انویسٹی گیشنز کے شریک بانی ہیں۔ انہوں نے عالمی انویسٹی گیشنز فرم 'کرول' سے گریجویشن کر رکھی ہے۔ اس سے پہلے وہ ایک تحقیقی صحافی کے طور پر کام کرتے تھے اور اس سے بھی پہلے روزمرہ کے رپورٹر تھے۔ وہ خبریں بناتے اور امریکی میگزین 'ٹائم' اور 'فورچون' کے مدیروں کے حقائق کی جانچ پڑتال کرتے تھے۔

ان کا صحافت سے پرائیویٹ انویسٹی گیٹر بننے کا سفر مکمل طور پر خلاف معمول نہیں ہے۔ اگرچہ ان کا اصرار ہے کہ ان کی اپنی فرم میں کئی طرح کی مہارت رکھنے والے افراد ہیں: 'ہمارے ملازمین میں سے ایک سابق پراسیکیوٹر ہیں جو 15 برس تک ڈسٹرکٹ اٹارنی کے دفتر میں کام کرتے رہے ہیں۔ ایک اور ملازم کا تعلق درس و تدریس کے شعبے سے ہے۔ انہوں نے کولمبیا سے انگریزی زبان میں ڈاکٹریٹ کر رکھی ہے۔ یہ خاتون ملازم تفصیل پر ایسی توجہ دیتی ہیں جیسی اور کوئی نہیں دیتا۔ ایک ملازم سائبر سکیورٹی کے ماہر ہیں۔ میرے شریک بانی کا تعلق محنت کشوں کی تحریک سے رہا ہے۔'

دوسرے لفظوں میں جب ہماری خدمات لینے والے کی طرف سے کوئی کیس آتا ہے تو یہ لوگ تمام بنیادی نکات دیکھ چکے ہوتے ہیں۔

لیکن یہ کلائنٹس کون ہیں؟ میرونی کئی دلچسپ اور بہت بڑے کیسوں پر کام کر چکے ہیں جن میں عدنان سید کیس بھی شامل ہے جس پر سیریل بن چکی ہے۔ (1999 میں کوریائی نژاد امریکی شہری اور ہائی سکول کی طالبہ ہاؤمن لی کو قتل کر دیا گیا تھا۔ قتل کے جرم میں ان کے بوائے فرینڈ عدنان سید کو سزا ہو گئی تھی۔) میرونی نے 'بن بلائے جگہ جگہ جاکر' اپنے حصے کا کام خود کیا۔ تحقیقات اور صحافت میں 'جگہ جگہ پہنچ جانے' کی اصطلاح عام استعمال کی جاتی ہے۔ اس میں خاص طور پر ایک دلچسپ واقعہ شامل ہے جسے میرونی نے اپنی کتاب میں بیان کیا ہے۔

انہوں نے ایک ایسے مخبر کا سراغ لگایا، جنہوں نے 90 کی دہائی میں جیل میں مبینہ طور پر ایک شخص کو قتل کا اعتراف کرتے سنا تھا۔ 'دا ماڈرن ڈیٹیکٹو' لکھنے کے طویل عرصے بعد اس اپارٹمنٹ کا بیان جس میں وہ اس خاص موقعے پر داخل ہوئے، میرے پاس رہا ہے۔

'سیاہ رنگ کے چمڑے کے صوفے کو سختی سے پلاسٹک میں لپیٹا گیا تھا۔ دروازوں اور کھڑکیوں پر بنے آرائشی حاشیوں کا دہائیوں پہلے کیا گیا رنگ اڑ چکا تھا۔'

'آتشزدگی کی صورت میں نکلنے کے لیے بنائی گئی سیڑھیوں کے ساتھ واحد کھڑکی کے سامنے کچن کی دیوار پر نصب سکیورٹی کیمرہ صاف دکھائی دیتا تھا۔ ہولسٹر میں بند پستول ڈرائنگ روم کی میز پر تھا۔ ایف بی آئی کا ایک شناختی کارڈ صوفے کے اوپر ایک کیل سے لٹک رہا تھا۔ سامنے کے دروازے کے اوپرعمودی لگی ایک صلیب پر حضرت عیسیٰ کو مصلوب دکھایا گیا تھا۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس قسم کے بیانات بلیک اینڈ وائٹ فلموں یا شرلاک ہومز کے ناولوں سے آ سکتے تھے لیکن میرونی کہتے ہیں کہ ان کے کلائنٹ شک میں مبتلا میاں بیوی یا وہ لوگ نہیں ہیں جو ذاتی انتقام لینے کے درپے ہوں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس قسم کے کلائنٹس کو 'انڈسٹری کے چھوٹے موٹے لوگ دیکھتے ہیں۔ اکثراوقات سابق پولیس اہلکارجنہیں نگرانی کے طریقوں کا تجربہ ہوتا ہے۔'

میرونی کے مطابق کوئسٹ ریسرچ اینڈ انویسٹی گیشنز نے اس سے کچھ زیادہ کرنا ہے۔ وہ کہتے ہیں: 'ہم تعزیری انصاف کے نظام کی اصلاح، عدم مساوات اور ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف لڑائی میں لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔ یہ سب بڑے اور پرکشش اہداف جیسے دکھائی دے سکتے ہیں لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ آپ نظام انصاف کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں؟ شواہد کی تلاش کے لیے کام کرتے ہیں کہ کسی کو غلط سزا ہوئی ہے یا آپ کوثبوت ملتا ہے کہ اس ملک میں ہم نے لوگوں کو بڑے پیمانے پر قید میں ڈالنے کا جو نظام بنایا ہے وہ دھوکہ دہی پر مبنی ہے۔ مثال کے طور ماحولیاتی تبدیلی کے معاملے میں ہمیں ثبوت مل سکتا ہے کہ بڑے پیمانے پر آلودگی پھیلانے والے بڑے پیمانے پر غلط معلومات کی مہمات چلانے میں مصروف ہیں۔'

میرونی اس کتاب میں ایسے چند لوگوں کے بارے میں بتاتے ہیں جو سرعام اعتراف کر چکے ہیں کہ انہوں نے پرائیویٹ سراغ رساں کی خدمات حاصل کیں۔ ان لوگوں میں ایلون مسک، الیگزینڈر روڈریگیز، جے زیڈ، ایلزبتھ ٹیلر اور ٹام کروز شامل ہیں۔ مجھے یہ بات دلچسپ لگتی ہے کہ مکمل فہرست کا جھکاؤ غیرمتناسب طور پر مردوں کی جانب ہے۔ کیا یہ صنفی توازن ہے؟ جو ان کے کلائنٹس کی بنیاد پر درست ہے۔

وہ اس کا فوری طور پر نفی میں جواب دیتے ہیں: 'ہماری کلائنٹس اکثر خواتین ہوتی ہیں اور میں یہ وضاحت 'کلائنٹ' کی تعریف کرکے کروں گا۔ ہماری کمپنی وکلا کو خدمات فراہم کرتی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ وکیلوں کے بالآخر اپنے کلائنٹ ہوتے ہیں۔ مثال کے طور ایک خاتون وکیل جو پانچ مختلف کیس لیں گی (اوران مقدمات کے لیے ہماری خدمات حاصل کرتی ہیں۔)'

تب 'بنیادی انسانی خواہشات' کی زیادہ پروا نہیں کی جاتی یعنی کیس کو ہر پہلو سے دیکھا گیا ہے۔ اگرچہ میرونی کا اصرار ہے کہ ان کا کام جیسیکا جونز جیسی ٹیلی ویژن سیریز میں دکھایا گیا پوشیدہ، چھوٹا موٹا اور گھساپٹا بالکل نہیں ہے۔ افسانوی کردار جیسیکا جس انداز میں ہوگارتھ کمپنی کی ٹھیکے دار کے طور پر اپنے وکیل دوست کے ساتھ قریبی رابطے میں کام کرتی ہیں، اس میں واضح طور پر کچھ حقیقت ہوتی ہے۔

میرونی دا موڈرن ڈیٹیکٹو کے شروع میں لکھتے ہیں: 'ہم ہر جگہ ہوتے ہیں۔ ہم جن کے لیے کام کرتے ہیں، ان میں دوسروں کے علاوہ بڑی کمپنیاں، سرکاری ادارے، بڑے بڑے اداکار، پیشہ ور ایتھلیٹس، غیرمنافع بخش تنظیمیں، غیرممالک، میڈیا ادارے اور بڑی کاروباری شخصیات شامل ہیں۔'

'ہماری خدمات منجمد خوراک تیار کرنے والے، ویڈیو گیمز ڈیزائنرز، ہیروں کے بیوپاری، جیٹ انجن بنانے والے، خول دار میوہ جات کی چھانٹی کے کارخانے، جائیداد رہن رکھوا کر قرض دلانے والے بروکر، کافی کے بیجوں کی مال برداری کرنے والے، کتابیں شائع کرنے والے، پیٹنٹ کا لائسنس رکھنے والے، کھیلوں کی ٹیمیں، ریل کار بنانے والے، کان کنی سے وابستہ افراد، پرچون کی کئی دکانوں کے مالک، یونیورسٹیوں کے ڈین، پلاسٹک کو پریس کرنے والے، تعمیراتی ٹھیکے دار، افرادی قوت فراہم کرنے والے ادارے اور بسکٹ بیچنے والی کمپنیوں کے لوگ حاصل کرتے ہیں۔'

تاہم بسکٹ فروش اور بڑے اداکار عام طور پر ان کے لیے چائے کی پیالی نہیں ہوتے اور یہ کام ہمیشہ اتنا پرجوش اور پیچیدہ نہیں ہوتا، جتنا تعصب کے شکار نظامِ انصاف کی اصلاح میں مدد دینا یا عدم مساوات کے خاتمے کے لیے کام کرنا۔

(تصویر: پکسا بے)


میرونی کے تازہ ترین کیسوں میں ایک کیس ایسا بھی ہے جس نے ان کے ذاتی اخلاقی ضابطے کو چیلنج کر دیا۔  'جب ایک کمپنی نے ہماری خدمات حاصل کیں۔ کمپنی کے علم میں آیا تھا کہ اس کی چیف ایگزیکٹو افسر 20 سال سے کمپنی کا پیسہ چوری کر رہی تھیں۔ یقیناً یہ ایک جرم ہے کیونکہ چوری کی گئی رقم لاکھوں میں تھیں۔ تاہم کمپنی کی انتظامیہ نے فیصلہ کیا تھا اسے مذکورہ خاتون کو سزا دلوانے کے مقابلے میں رقم کی واپسی میں زیادہ دلچسپی ہے۔ اس لیے ہم نے ان سے رابطہ کیا اور ہمارے پاس جو شواہد تھے وہ انہیں دکھائے۔ جواب میں انہوں نے اعتراف اور رقم واپس کرنے کا وعدہ کیا۔'

میرونی کہتے ہیں کہ اگرچہ درست کام یہ تھا کہ اس خاتون کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے۔ قانونی چارہ جوئی سے بات کھل جاتی ہے، جس کا نتیجہ اس کمپنی پر ناروا دباؤ کی صورت میں نکل سکتا تھا جبکہ دوسری صورت میں پیسہ جلد واپس آ جاتا ہے، لوگ خاموشی سے ملازمت ختم کروا لیتے ہیں اور اس کے بعد دوسرے اداروں میں چلے جاتے ہیں۔ شاید دوسری جگہ اسی رویے سے دوبارہ کام لینے کے لیے۔

جب میں نے میرونی سے پوچھا کہ کیا کبھی ایسے فیصلوں کے اخلاقی نتائج ان پر گراں گزرتے ہیں تو انہوں نے کہا: 'یہ ایسے فیصلے ہیں جو بلاشہ ہم بطور 'حقائق معلوم کرنے والے افراد، پرائیویٹ انویسٹی گیٹرز' کبھی نہیں کرتے۔ ہمارے ہاتھ جو لگتا ہے اسے اپنے کلائنٹ کے سامنے رکھ دیتے ہیں۔ (بس اتنی سی بات ہے)

'ضروری نہیں کہ ہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اطلاع دینے کی ذمہ داری لیں۔ کیا میری کبھی خواہش ہوتی کہ ہمیں ایسا کرنے کے لیے کہا جائے تو جواب ہاں میں ہے۔ کیا میں جانتا ہوں کہ ہم ایسا کیوں نہیں کرتے؟ تو بلاشبہ جانتا ہوں۔'

جنگلی حیات پر دستاویزی فلم بنانے والوں کی طری وہ صرف اتنا ہی کر سکتے ہیں۔ اس بات کی کوئی اہمیت نہیں کہ وہ کس حد تک مداخلت کرنا چاہ رہے ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ اس بارے میں سوچتے نہیں ہیں۔

'میں اپنے کام کے طریقوں کے اخلاقی ہونے سے نہیں الجھتا بلکہ اکثر اوقات اس بات کے اخلاقی جواز سے الجھتا ہوں کہ ہمیں کیا کرنے کے لیے کہا جاتا ہے، ہمارے کلائنٹ کے مقاصد اور فیصلے کیا ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے کے برعکس ہم اپنے کلائنٹ کے پابند ہیں جب کہ قانون نافذ کرنے والا ادارہ کسی مجرمانہ رویے کی نشاندہی کی صورت میں کسی قسم کی کارروائی کا پابند ہوتا ہے۔ اپنے کام کے دوران اگر ہم کسی غلط کام سے پردہ اٹھاتے ہیں۔ مثال کے طور پر کوئی اخلاقی خامی یا کوئی مکمل مجرمانہ رویہ، دھوکہ دہی، کوئی ایسی چیز جو دشمنی کی حد تک پہنچ چکی ہو تو ایسی صورت میں ضروری نہیں کہ ہم پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ معاملہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کے علم میں لائیں۔ کیا میری کبھی خواہش ہوتی ہے کہ ہمیں ایسا کرنے کے لیے کہا جائے تو جواب ہاں میں ہے۔ بلاشبہ میں جانتا ہوں کہ ہم ایسا کیوں نہیں کرتے؟'

امریکہ میں 35 ہزار سے زائد نجی تفتیش کار موجود ہیں۔ کچھ ریاستیں جیسے کہ فلوریڈا میں میرونی کے مطابق 4000 سے بھی زائد ہیں اور ان کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ہر ریاست ان کے طریقہ کار کے حوالے سے اپنے قواعد رکھتی ہے۔

نیویارک سٹیٹ ڈویژن کی لائسینسنگ سروسز نجی تفتیش کاروں کو اجازت دیتی ہے کہ وہ 'کسی شخص یا گروہ کی شناخت، عادات، رویے، نقل و حرکت، نام، پتہ، تعلق، واسطے، لین دین، ساکھ اور کردار کے بارے میں معلومات اکٹھی یا حاصل کر سکتے ہیں۔'

میرونی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ یہ ایک وسیع گھیرا ہے اور 'ہم جرائم، غلط کاموں، امریکی حکومت، امریکی ریاستوں کے خلاف دی جانے والی دھمکیوں، گواہوں یا باقی افراد کی ساکھ، شناخت اور لاپتہ افراد سے متعلق معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ تفتیش کاروں کے لیے کرنے کو بہت زیادہ کام موجود ہے اور پابندیاں بہت کم ہیں۔'

نجی تفتیش کاروں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ امریکہ کے بڑے شہروں جیسے کے نیویارک تک ہی محدود ہیں اور یہ پیشہ شہری تنازعوں کی بدولت ہی بچا رہا ہے لیکن برطانیہ میں یہ سرد جنگ کے زمانے کے بعد سے بہت کم فعال رہا ہے۔ حقیقت میں پہلی نجی تفیتش کار یا نجی جاسوسی کی فرم امریکہ میں 19ویں صدر کے اواخر اور 20 ویں صدر کے اوائل میں شروع کی گئی تھی اور امریکہ میں وفاقی پولیس اور ایف بی آئی نہ ہونے کی وجہ سے اس کی طاقت میں اضافہ ہوا۔

لیکن جن لوگوں سے میری بات ہوئی تاکہ اس حوالے سے معلومات لے سکوں، ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک غلط فہمی ہے کہ برطانیہ میں تفتیش کی صنعت بڑے پیمانے پر موجود نہیں۔ یہ زیادہ تر 'انٹیلی جنس' کے لبادے میں کام کرتی ہے لیکن اس کا حکومتی اداروں جیسے کہ ایم آئی فائیو یا ایم آئی سکس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

(تصویر: پکسا بے)


برطانیہ میں ایسی کوششیں ہو چکی ہیں جن میں نجی جاسوسوں پر قواعد لاگو کرنے کی کوشش کی گئی ہے لیکن یہ ناکام ہوئی ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ برطانوی اپنے درمیان موجود جاسوسوں کی موجودگی سے مکمل انکاری ہیں اور وہ قوانین مقرر نہیں کرنا چاہتے کہ کہیں یہ ان کا حوصلہ نہ بڑھا دے۔

گو کہ کچھ نجی تفتیش کار ہیں جن سے برطانوی اچھی طرح واقف ہیں، 'بلیک کیوب' ان میں سے ایک کمپنی ہے۔ سابق اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنٹوں ڈین زوریلا اور ایوی یانوس نے اس کی بنیاد رکھی اور اس کے دفاتر لندن، تل ابیب اور میڈرڈ میں ہیں۔ یہ خود کو 'اسرائیلی انٹیلی جنس کمیونٹی کے چنیدہ تجربہ کار افراد کا گروپ' کہتی ہے جو 'پیچیدہ کاروباری معاملات اور قانونی مشکلات کے آسان حل' میں مخصوص مہارت رکھتی ہے۔

یہ ہاروی ویئنسٹن کی جانب سے 'می ٹو' تحریک کے بارے میں منفی معلومات اکٹھی کرنے کے لیے ہائر کیے جانے کے حوالے سے مشہور ہے۔ می ٹو تحریک سے تعلق رکھنے والی معروف شخصیت روزا میک گوان نے سکسٹی منٹس سے بات کرتے ہوئے بلیک کیوب کی تفتیش کا سامنا کرنے کے حوالے سے بتایا۔ فروری میں ان کی جانب سے کہا گیا کہ 'میں نہیں جانتی کہ لوگ کیوں اپنی روح کو فروخت کرکے ایک مجرم کی مدد کریں گے۔ میں ہمیشہ سوچتی ہوں کہ وہ لوگ جو ویئنسٹن کا ساتھ دے رہے ہیں چاہے وہ خاموش ہیں یا پیسے کے لیے ایسا کر رہے ہیں، خاص طور جو پیسے کے لیے ایسا کر رہے ہیں۔ ان کے ساتھ کیا مسئلہ ہے؟'

اس صنعت کو ویسے نہیں دیکھا جاتا جیسی یہ اصل میں ہے یعنی کہ پیشہ ور کنسلٹنٹ جو کہ اپنے گاہکوں کو مسائل حل کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

رونن فیرو وہ صحافی ہیں جنہوں نے سب سے پہلے وئینسٹن کی جنسی بدسلوکی کی خبر دی۔ وہ بلیک کیوب کے ساتھ اپنے تجربے کو اپنی کتاب کیچ اینڈ کل اور اسی نام سے اپنے پوڈ کاسٹ میں بیان کرتے ہیں۔ انہوں نے دی نیویارکر کے لیے ایک سیریز بھی لکھی ہے، جسے انہوں نے 'بلیک کیوب کرونیکلز' کا نام دیا ہے۔ اس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ وئینسٹن نے نہ صرف بلیک کیوب کو ہائر کیا بلکہ انہوں نے ایک اور تفتیشی فرم کی خدمات بھی لیں جس کے شریک بانی جیک پلاڈینو ہیں جو 'ان خواتین کو بدنام کرنے کے حوالے سے معروف ہیں جنہوں نے بل کلنٹن پر جنسی بدسلوکی کے الزام عائد کیے تھے۔'

یہ بات بھی اچھی طرح جانی جاتی ہے کہ بلیک کیوب سے تعلق رکھنے والے آپریٹرز اور ذیلی طور پر کام کرنے والے افراد نے صحافیوں کی فہرست بھی تیار کی تاکہ ان کی نگرانی کی جا سکے اور فیرو کا ان کی رہائش سے ان کے دفتر تک پیچھا کیا گیا۔ فیرو نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ایک روسی سب کنٹریکٹر کی جانب سے بلیک کیوب کے لیے ان کا فون ہیک کیا گیا جبکہ بلیک کیوب کا کہنا ہے کہ وہ ایسی کسی ہیکنگ سے آگاہ نہیں اور نہ ہی اس کی اجازت دی ہے۔

فیرو نے پاسہ پلٹتے ہوئے ان دو ذیلی کنٹریکٹرز کے بارے میں خود تحقیق شروع کر دی جن میں استروسکی اور خیکن شامل ہیں۔ فیرو بیان کرتے ہیں کہ 2017 میں بلیک کیوب جب ہاروی ویئنسٹن کے لیے کام کر رہی تھی تو اس کی جانب سے ان کی کڑی نگرانی کی جاتی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ 'اوستروسکی اور خیکن نے میرے اپارٹمنٹ کی عمارت جو کہ مین ہیٹن کے شمال مغرب میں ہے، کے قریب ملنا شروع کر دیا۔'

'کچھ دن وہ خیکن کی نسان پاتھ فائنڈر سلور رنگ کی کار میں بیٹھتے تھے اور بعض اوقات وہ الگ الگ گاڑیاں استعمال کرتے تھے۔ خیکن میرے عمارت سے باہر نکلتے ہی میرا پیچھا کرنے کے لیے تیار ہو جاتا تھا جبکہ اوستروسکی میرے گھر پر نظر رکھتا تھا۔ جب وہ الگ الگ ہوتے تو وہ ٹیکسٹ کے ذریعے رابطے میں رہتے تھے۔ تفتیش کاروں کو میری تصاویر فراہم کی گئی تھیں اور وہ اپنے طور پر میری معلومات تلاش کر رہے تھے۔ وہ میرے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور میرے دوستوں اور رشتہ داروں کے اکاؤنٹس پر نظر رکھتے تھے اور میری نقل و حرکت کو جاننے کی کوشش کرتے تھے۔ یہ دونوں افراد میرے اپارٹمنٹ کے سامنے بیٹھ کر چین سموکنگ کرتے تھے اور گلی کے کونے پر موجود ریسٹورنٹ سے پیزا کھاتے تھے۔ یہ نگرانی اکثر گھنٹوں تک جاری رہتی تھی گو کہ اس دوران انہیں باتھ روم جانے کے لیے وقفہ لینا پڑتا تھا۔ ایک بار استروسکی نے خیکن کو پیغام بھیجا کہ مجھے بوتل استعمال کرنی ہے۔ اگر تم قریب ہو تو میں انتظار کر سکتا ہوں۔ پھر وہ بوتل استعمال کرنے چلا گیا۔ انہی دو افراد نے دی نیو یارک ٹائمز کے صحافی جوڈی کنٹور کی نگرانی کرتے ہوئے بھی یہی سب کیا۔ وہ بھی می ٹو کی سٹوری پر کام کر رہے تھے۔'

میرونی کے پاس بلیک کیوب یا اسی طرز سے کام کرنے والوں کے لیے بہت کم وقت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 'میرے مطابق وہ میدان جس میں بلیک کیوب اور میں کام کرتے ہیں وہ بالکل مختلف ہیں۔ اگر ان کے بارے میں جو رپورٹ کیا جا رہا ہے وہ درست ہے تو یہ جرائم پیشہ ہیں جو ہائر کیے جاتے ہیں۔' ان کا مزید کہنا ہے کہ وہ خود کو 'ہیکنگ کے لیے ہائر کرنے سے بھی دور رکھتے ہیں جو ان کے نزدیک ٹیکنالوجی کے ماہر افراد ہیں، جنہیں نجی تفتیش کار کہا جاتا ہے لیکن وہ بنیادی طور پر ڈیجیٹل نیوی سیلز ہیں۔ جن کا کام ہیکنگ کے ذریعے یا کسی بھی غیر قانونی طریقے سے معلومات اکٹھی کرنا ہے۔'

انہیں اس بات کا احساس ہے کہ جب بھی کوئی تھوڑی دلچسپی رکھنے والا ریسرچر بھی 'پرائیویٹ انویسٹی گیٹرز' گوگل کرتا ہے تو ایسی فرمز شائد ٹاپ ٹین سرچز میں سامنے آتی ہوں گی۔ لیکن اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ ہیڈلائنز میں رہی ہیں۔ میرونی کا کہنا ہے کہ یہ ہمارے قانون کی ہائی پروفائل استثنیٰ رکھنے والی فرمز ہیں۔ مجھے اکثر احساس ہوتا ہے کہ ہماری انڈسٹری کو ایک یکساں روایتی طور پر دیکھا جاتا ہے۔ چاہے یہ تصور ہو کہ ہم نگرانی کا کام کرتے ہیں یا ہمارے طریقہ کار نیم قانونی ہیں۔ بعض اوقات اس پیشے کو اسی طرح دیکھا جاتا ہے جیسا یہ ہے۔ یعنی کہ پیشہ ورانہ مشیر جو کہ اپنے گاہکوں کو مسائل حل کرنے، مواقع جانچنے اور ان کے سوالوں کا جواب ڈھونڈنے میں مدد دیتے ہیں۔'

اس یقین دہانی کے باوجود میں نے میرونی سے پوچھا کہ کیا وہ اپنے طریقے اور اپنے پاس موجود سافٹ ویئر استعمال کرتے ہوئے اس فیچر کے لیے میری جاسوسی کر سکتے ہیں۔ میں یہ جاننا چاہتی تھی کہ وہ میرے بارے میں کیا تلاش کرتے ہیں خاص طور پر کہ میں امریکہ میں مقیم ایک برطانوی امیگرنٹ ہوں۔ تو مجھ پہ یہاں رہنے والے امریکیوں کے مقابلے میں امریکہ کی چھاپ کم ہی ہو گی۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ میری جاسوسی کرنا ممکن ہے لیکن اس کے لیے مختلف طریقہ کار ہیں اور ان کے مختلف استعمال ہیں اور مجھے انہیں معلومات تلاش کرنے کے لیے وقت دینا ہو گا۔ اس حوالے سے اگلے کچھ ہفتوں تک اپ ڈیٹ کے لیے تیار رہیں۔

میرونی سے میرا آخری سوال یہ ہے کہ میرا خیال ہے ہم میں سے زیادہ تر لوگ کسی جاسوس کو وہ تلاش کرنے کا کہیں گے جو لوگ غیر ارادی طور پر بھول جاتے ہیں کہ آپ اب کتنا جانتے ہیں، آپ نے اپنی زندگی میں کیا بدلا ہے؟ میں نے خود کو سکھایا ہے کہ بے چینی میں پرسکون کیسے رہنا ہے۔ لوگوں کے برے منصوبوں کے بارے میں ہوشیار رہنے کی ایک عادت۔ ان کا جواب تھا: 'میرا کام مجھے موقع دیتا ہے کہ میں دیکھ سکوں کہ یہ دنیا کتنی خطرناک ہے لیکن یہ غلط کاموں کو تلاش کرنے کا ایک موقع بھی ہے اور زندگی کو بہتر کرنے کا بھی لیکن میں اس کے خطرات جانتا ہوں اور انہیں دور رکھنا بھی جانتا ہوں۔'

وہ ایک لمحے کے لیے رکتے ہیں اور پھر کہتے ہیں: 'سالوں تک پرائیویٹ تفتیش کار کے طور پر کام کرنے کے بعد میں اس ہیجان خیز دنیا میں رہنے کے لیے مزید تخلیقی انداز میں سوچتا ہوں۔'

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی میگزین