بیروت کے لیے 25 کروڑ 20 لاکھ کی ہنگامی امداد کا اعلان

اتوار کو ایک آن لائن کانفرنس میں بین الاقوامی سطح پر امداد دینے والوں نے بیروت کے لیے ہنگامی امداد کا وعدہ کیا جبکہ مظاہروں کے بعد ملک کے دو وزرا نے مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔

بیروت کی بندر گاہ پر ہونے والےدھماکے میں 158 افراد ہلاک اور چھ ہزار سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے جبکہ شہر کے وسیع حصوں میں تباہی پھیلی۔(اے ایف پی)

 

گذشتہ ہفتے دارالحکومت بیروت میں دھماکے سے ہونے والی تباہی کے بعد مختلف ملکوں نے لبنان کو ہنگامی امداد کے طور پر 25 کروڑ 20 لاکھ یورو (22 کروڑ 80 لاکھ پاؤنڈ) کی امداد دینے کا وعدہ کیا ہے۔

دوسری جانب لبنان کے دو وزرا نے ملک میں جاری مظاہروں کے بعد حکومت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر امداد دینے والوں نے امداد کا وعدہ اتوار کو ہونے والی ایک آن لائن کانفرنس میں کیا ہے۔ یہ وعدہ بیروت میں ہونے والے تباہ کن دھماکے کے بعد ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں کیا گیا ہے۔

دھماکے میں 158 افراد ہلاک اور چھ ہزار سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے جبکہ شہر کے وسیع حصوں میں تباہی پھیلی۔

جس روز عالمی رہنما اکٹھے ہوئے تا کہ لبنان کو ہنگامی امداد کی فراہمی پر بات کی جا سکے، اسی دن لبنان کی وزیر اطلاعات اور ماحولیات کے وزیر نے مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔

وزیراطلاعات منال عبدالصمد نے اپنے استعفے میں دھماکے اور اصلاحات میں حکومت کی ناکامی کا ذکرکیا ہے۔

دریں اثنا وزیر ماحولیات اور وزیراعظم حسان دیاب کے اہم اتحادی ڈیمیانوس کتر نے کہا ہے کہ حکومت اصلاح کے متعدد مواقعے ضائع کر چکی ہے۔

مظاہروں کے دوسرے روز اتوار کو پولیس مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس استعمال کی۔ مظاہرین نے پتھراؤ کیا اور پارلیمنٹ کی طرف جانے والی سڑک بند کر دی۔ مظاہرین ایوان اور وزارت ٹرانسپورٹ کے دفاتر میں بھی داخل ہو گئے۔

مظاہرین میں شامل ایک بےروزگار شخص ولیدجمال نے کہا: 'ہم نے ان رہنماؤں کو ہماری مدد کے کئی مواقعے دیے اور وہ ہمیشہ ناکام ہوئے۔'

اتوار کوسڑکوں پر آنے والوں کی تعداد ہفتے کو ہونے والے مظاہروں کے مقابلے میں کم تھی جن میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔

حکومت کے خلاف غصے میں اس کے بعد اضافہ ہوا کہ جب یہ اطلاعات سامنے آئیں جن میں بتایا گیا کہ حکام کو 2750 ٹن امونیم نائیٹریٹ کی موجودگی کا کئی سال سے علم تھا لیکن وہ کوئی کارروائی کرنے میں ناکام رہے۔

حتیٰ کہ دھماکے سے پہلے لبنان میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے اور حکومت کو بدعنوان اور ملک کو دہائیوں میں متاثر کرنے والے بدترین مالی بحران کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بین الاقوامی ڈونرز نے اتوار کو وعدہ کیا کہ ہے امداد لبنان کے لوگوں کو براہ راست دی جائے گی۔ ان کا اصرار ہے کہ بدعنوانی کے خدشات کے پیش نظر حکومت کو کوئی پیسہ نہیں دیا جائے گا۔

ہنگامی امداد کا مرکز ادویات، ہسپتال، سکول، خوراک اور رہائش ہو گی۔ ورچوئل کانفرنس کی میزبانی کرنے والے فرانس کے صدر ایمانوئل میکروں نے اپنے ابتدائی کلمات میں کہا ہے کہ اقوام متحدہ کو لبنان میں اس مصیبت پر بین الاقوامی جواب کو مربوط بنانا چاہیے جس نے بیروت کو تباہ کر دیا۔ 

ویڈیو کال میں میکروں نے کہا: 'آج ہمارا کام کہ ہم تیزی اورمستعدی کا مظاہرہ کریں تا کہ ہماری امداد  کو  موقعے پر مربوط بنایا جا سکے۔ تا کہ یہ امداد جس قدر جلد ممکن ہو سکے لبنان کے لوگوں تک پہنچ جائے۔'

انہوں نے مزید کہا: 'ہمارا کام ان کے ساتھ کھڑے ہونا ہے۔ لبنان کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔'

فرانس کے صدر نے یہ بھی کہا کہ بین الاقوامی امداد میں چار اگست کو ہونے والے دھماکے کی غیرجانبدارانہ اور آزادانہ تحقیقات کی حمائت شامل ہو گی۔

کانفرنس  جس میں عالمی رہنما اور سرکاری حکام شامل تھے، کے دوران سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے بھی دھماکے کی 'شفاف اور آزادانہ تحقیقات' پر زور دیا۔

وائیٹ ہاؤس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے کانفرنس کے شرکا کو بتایا کہ امریکہ لبنان کی مدد کے لیے اسے امداد دینے پر تیار ہے۔

دھماکے سے بیروت کے کئی حصے تباہی کا شکار ہوئے ہیں جس کی وجہ سے اڑھائی لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہو گئے ہیں۔

حادثے کے مالی اثرات کے اہم ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔ بعض ماہرین معاشیات نے پیش گوئی ہے کہ لبنان کی مجموعی قومی پیداوار میں نتیجے کے طور پر 25 فیصد کمی ہو سکتی ہے۔

 

برطانیہ کے بین الاقوامی ترقی کی وزیر این میری ٹریولیان نے اتوار کو 'لبنان کے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہونے لیے دو کروڑ پاؤنڈ کی اضافی امداد  دینے کا وعدہ کیا جو پانچ کروڑ پاؤنڈ کے علاوہ ہو گی جس کا برطانیہ نے پہلے ہی وعدہ کیا ہے۔

جرمن وزیر خارجہ ہائیکوماس نے اتوار کو اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک لبنان کو اضافی ایک کروڑ یورو (90 لاکھ پاؤنڈ) گا۔ اپنے بیان میں ماس نے کہا کہ لبنان دھماکے سے پہلے 'سنگین مسائل' کا سامنا کرچکا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ 'بدترین ملبے کی صفائی کے بعد بھی' مزید بہت کچھ کرنا ہو گا۔

فرانس نے لبنان کے لیے 18 ٹن طبی امداد اور 663 ٹن خوراک کی پیش کش کی ہے جب کہ بین الاقوامی ترقی کے امریکی ادارے نے کہا ہے کہ وہ  لبنانی حکومت کی بجائے بیروت میں ان لوگوں کو براہ راست ڈیڑھ کروڑ ڈالر (ایک کروڑ 20 لاکھ پاؤنڈ) دے گا جنہیں ان کی اشد ضرورت ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا