کیا کرونا وبا کے دوران اساتذہ مفت تنخواہ لیتے رہے؟

ستمبر سے تعلیمی ادارے کھولنے کے حکومتی فیصلے پر اساتذہ نے سکھ کا سانس لیا کہ اب لوگوں کے منہ بند ہو جائیں گے جو انہیں مفت میں تنخواہیں لینے کے طعنے دیتے تھے۔

لیکن اگر یونیورسٹی کے اساتذہ کی بات کی جائے تو یونیورسٹی اساتذہ کو بالکل بھی آرام نہیں ملا۔ وہ شروع ہی سے آن لائن کلاسوں میں ڈالے گئے (پکسابے)

جب این سی او سی نے تمام وزرا‌‍ کے باہمی فیصلے کے بعد سکول کھولنے کے احکامات جاری کیے تب بے یقینی کی کیفیت تھی کہ شاید دوبارہ نوٹیفیکیشن آ جائے مگر پچھلے چار مہنیوں کے بعد پہلی دفعہ اس بات پر حکومت ثابت قدم رہی کہ اس دفعہ سکول 15 ستمبر کو ہی کھولے جائیں گے جو پہلے 15 اگست اور یکم ستمبر کو ہی کھولے جاتے تھے۔

اس پر اساتذہ نے سکھ کا سانس لیا کہ اب لوگوں کے منہ بند ہو جائیں گے جو انہیں مفت میں تنخواہیں لینے کے طعنے دیتے تھے حالانکہ اساتذہ نے اتنی زیادہ چھٹیاں نہیں کی ہیں۔ یہ چھٹیاں تو ویسے بھی جون سے ستمبر تک کرنی تھیں مگر اس دفعہ چند ہفتے اضافی ہو گئے جب کی ظاہر ہے، اضافی تنخواہ بھی ملنی تھی۔

لیکن اگر یہاں یونیورسٹی کے اساتذہ کی بات کی جائے تو یونیورسٹی اساتذہ کو بالکل بھی آرام نہیں ملا۔ وہ شروع ہی سے آن لائن کلاسوں میں ڈالے گئے۔ اور وہ بھی ان حالات میں کہ ان کے فرشتے بھی نہیں جانتے تھے کہ آن لائن تعلیم کیا بلا ہوتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یونیورسٹیوں کی جانب سے اساتذہ کی کسی بھی قسم کی تربیت کے بغیر طلبہ کو اچانک آن لائن پڑھانا آسان کام نہیں ہے۔ بہت سے اساتذہ ایسے ہیں جنہیں نے اپنی زندگیوں کا بیشتر حصہ کاغذ اور کتاب قلم کے دور میں گزارا ہے۔ ان کے لیے بغیر کسی تیاری کے زوم، سکائپ، آن لائن وائٹ بورڈ اور دوسری ٹیکنالوجیز پر عبور حاصل کرنا آسان کام نہیں تھا، لیکن وہ یہ بھی کر گزرے۔ 

عام حالات میں تو یہ ہوتا ہے کہ استاد نے کلاس لی اور گھر چلا گیا۔ لیکن آن لائن تعلیم کے دور میں طلبہ کے ساتھ ہر وقت رابطے میں رہنا پڑتا ہے، اور ان کے سوالوں کے جواب دینا پڑتے ہیں۔ یہ ایک الگ مشقت تھی۔ گویا یونیورسٹی اساتذہ کی سوشل لائف جو تھوڑی بہت تھی وہ اس کرونا نامی بلا نے ختم کر دی۔

یونیورسٹی کی جانب سے نئی نئی پالیسیاں، ایچ ای سی کی جانب سے دیے جانے والے احکامات کو بروئے کار لانا، اور پھر نتائج بھی بہترین دینا، یہ کوئی آسان کام تو نہیں۔

پہلے وقتوں میں اساتذہ بچوں کو ٹرخا دیتے تھے۔ اب وہ دور نہیں کہ ٹیچر بچوں کو لالی پاپ دے دے۔ جس استاد نے تیاری نہیں کی ہوتی وہ کلاس میں دس منٹ بھی نہیں گزار سکتا۔

یونیورسٹی کے بعض طالب علم اساتذہ سے زیادہ پڑھ کر آئے ہوتے ہیں۔ اور یہ آن لائن کلاسز میں اساتذہ کے ساتھ ہوا ہے۔ طلبہ چونکہ گھروں میں مقید تھے تو پڑھنے والے زیادہ پڑھ گئے جنہوں نے اساتذہ کو کافی ٹف ٹائم دیا۔

کلاسوں کے بعد آن لائن امتحان کی زحمت الگ تھی۔  

جب کنسیپچول پیپرز اور وہ بھی ایک کی بجائے دس بارہ پیپر بنانے کے احکامات ملے تو اساتذہ کے لیے مشکل پیدا ہو گئی، مگر انہوں نے یہ کام بھی خوش اسلوبی کے ساتھ سرانجام دیا۔ جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس