خیبر پختونخوا میں اب پیپر باہر کی یونیورسٹیوں میں چیک ہوں گے

بہت سے یونیورسٹی اساتذہ اور طلبہ اس فیصلے سے خوش ہیں تو کئی ناخوش بھی۔ اس خوشی اور ناخوشی کی وجہ کیا ہے؟

اس  فیصلے کے بعد نالائق طلبہ کے لیے سمسٹر سسٹم میں پڑھنا ناممکن ہو جائے گا کیونکہ اپنا استاد تو پھر پاس کر دیتا تھا باہر کا ٹیچر تو جو لکھا ہے اسی پر نمبر دے گا(پکسا بے)

ایک وقت تھا جب مجھے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی ٹیوٹر شپ کا شوق چڑھا کہ بہت سے پی ایس ٹی اساتذہ ٹیوٹر شپ کر کے پیسے کما رہے ہیں تو ہمیں بھی اس گنگا میں اشنان کرنا چاہیے۔

ہم علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے پشاور دفتر پہنچ گئے۔ اپنا مدعا بیان کیا۔ وہ بہت خوش ہوئے کہ ایم فل کا بندہ اب پیپرز چیک کرے گا اور ہمارے خیبر پختونخوا کے طلبہ کی ورک شاپ لے گا۔ جو ضروری لوازمات تھے وہ پوری کیے۔ دستاویزات اور ایک درخواست ہی درکار تھی۔ ایک مہینہ فون کر کر کے مجھے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کا ٹیوٹر کارڈ موصول ہو گیا۔

بہت خوشی تھی کہ ہم نے ایک معرکہ سر کر لیا ہے، اب پیپرز چیک ہوں گے اور پیسے ملیں گے۔ ایک مہینہ اور گزرا کوئی خبر نہیں ہوئی۔ مجھے چار کورسز الاٹ کیے گئے تھے کہ ان کا تیا پانچہ آپ نے کرنا ہے مگر جب دفتر گئے تو میرے سارے کورسز پی ایس ٹی اور سی ٹی ٹیچرز کو دے دیے گئے تھے، جن کی جرنلزم ڈگری ہی نہیں تھی۔

پھر وہاں ایک موصوف نے ہمیں اور کورس دے دیے کہ یہ آپ کی پہلی باری ہے اس لیے اپنے کورسز کے علاوہ یہ کورسز اس دفعہ چیک کر کے طریقہ سمجھ جاﺅ، دوسری باری میں تمھیں مطلوبہ کورسز دے دیے جائیں گے۔

کورسز میں غذا اور غذائیت، سوشل ورک، انتھروپالوجی اور چائیلڈ سائیکالوجی جیسے مضامین شامل تھے، جن کا علم میرے فرشتوں کو بھی نہیں تھا۔ جب شکایت کی کہ یہ تو میں نے پڑھے ہیں نہیں تو جواب دیا گیا کہ پڑھنے کو کون کہہ رہا ہے؟ ان مضامین کے پیپرز آئیں گے وہ چیک کرنے ہیں، بس اور کچھ نہیں کرنا۔

مجھے یہ بات بڑی ہی عجیب لگی۔ خیر پرچے ہمارے پاس آنے کی دیر تھی کہ صوبے کے ہر ضلعے سے رابطے کیے گئے۔ دوستوں، رشتہ داروں، جانے لوگوں نے کہاں کہاں سے جگاڑ بنائے تھے کہ ہمیں نمبر اچھے سے دیں۔ میرے بہت سے اساتذہ نے رابطے کیے کہ ان طلبہ کو 90 سے زیادہ مارکس دیں۔

جوں توں کر کے سمسٹر ختم ہوا۔ پوسٹ آفس کے درجنوں چکر لگے تو دوسرے سمسٹر کے لیے مجھے پھر سے کورسز دیے گئے جس میں صرف ایک کورس براڈ کاسٹ میڈیا کا تھا، باقی دوبارہ وہی عجیب سے تھے۔

کال ملائی کہ میں نے نہیں کرنی ٹیوٹر شپ، تو طلبہ کے مستقبل کے حوالے دیے گئے، حالانکہ وہ خود تعلیم کے ساتھ کھلواڑ میں لگے تھے۔ وہ سمسٹر تو جوں توں گزرا، پھر ہم نے پھر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے سامنے ہاتھ جوڑ دیے۔ سنا ہے وہاں اب سب کچھ آن لائن ہو گیا ہے۔ مگر یقین مجھے سسٹم پر پھر بھی نہیں آ رہا۔

اس کہانی کے بعد اب آتے ہیں گورنر شاہ فرمان کے فرمان پر جس کے مطابق اب یونیورسٹی طلبہ اور طالبات کے پیپر ان کے اساتذہ چیک نہیں کریں گے بلکہ دوسری یونیورسٹی کے اساتذہ کو پیپر چیک کرنے بھجوائے جائیں گے، جہاں مارکنگ کی جائے گی اور پھر رزلٹ تیار کیا جائے گا۔

اپریل میں اس حوالے سے ہونے والی میٹنگ میں بہت سی باتوں پر گفتگو ہوئی تھی مگر گورنر شاہ فرمان نے مذکورہ فیصلہ کر کے عجیب سی صورت حال پیدا کر دی ہے۔ اب ساری یونیورسٹیاں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی طرح پیپرز اور اسائنمنٹس چیکنگ کے لیے باہر بھجوائے گیں۔

یعنیٰ پہلے مڈ کے پیپرز دوسری یونیورسٹی بھجوائے جائیں گے جہاں سے مارکنگ کے بعد فائنل ٹرم کے پیپرز بھجوائے جائیں گے اور یوں پیپر کی مارکنگ کے بعد یہ شعبہ امتحانات میں آ جائیں گے جس کے بعد رزلٹ اناﺅنس کیا جائے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نوٹیفیکیشن میں یہ ذکر نہیں ہے کہ پیپرز کون بنائے گا؟ اور کون فیصلہ کرے گا کہ پیپرز کس یونیورسٹی کو بھیجے جائیں گے اور پیپر چیکنگ کے علاوہ اسائنمنٹ، کوئزز، پریزنٹیشن کے مارکس کون دے گا؟

گذشتہ رات سے اس بارے میں سوشل میڈیا پر بہت سے طلبہ اور طالبات کے کمنٹس چیک کر رہا ہوں جو کہہ رہے ہیں کہ گورنر شاہ فرمان جیسے بھی گورنر ہیں لیکن ایک فیصلہ کام کا کیا ہے کہ ہمیں ہمارے ظالم اساتذہ سے نجات دلا دی۔ ان کا کہنا ہے کہ اب ہم کلاسوں میں دیر سے آئیں گے، اساتذہ کی کوئی بات نہیں مانیں گے کیونکہ ان کے ہاتھوں میں اختیار ہی نہیں۔

جواب میں ایک نے کمنٹ کیا کہ فیورٹزم سے چھٹکارا مل گیا ہے۔ اب کوئی استاد کے آگے پیچھے نہیں ہو گا نہ ہی اساتذہ کی بے جا تعریف کی جائے گی۔ اس جیسے نجانے اور کتنے کمنٹس میرا منہ چڑا رہے تھے جن میں اساتذہ سے چھٹکارا پانے پر جشن کی کیفیت تھی۔

بہت سے یونیورسٹی اساتذہ اس فیصلے سے خوش تھے کہ اللہ نے ہماری سن لی ہے اب انہیں اب اپنے طلبہ کے پیپرز چیک نہیں کرنے پڑیں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب تک رزلٹ تیار نہیں ہو جاتا ان طلبہ کے باعث ہماری نیندیں حرام ہو جاتی ہیں۔ اب آرام سے اگر دوسری یونیورسٹی کے پیپرز آگئے تو چیک کر لیں گے۔ ہمارا کیا ہے۔ اپنے طلبہ کے پیپرز ہوں یا دوسرے طلبہ کے، بات تو ایک ہی ہے۔

میرے ایک لیکچرر دوست بصر علی خوشحال خان خٹک یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں۔ میں نے جب ان سے بات کی تو اُن کا کہنا تھا کہ بہت معذرت کے ساتھ آج کل ایچ ای سی، ایچ ہی ڈی یا چانسلر صاحبان کے دفاتر سے نکلے فیصلے بھونچال ہی لاتے ہیں، اور بھونچال سے کبھی بھی ترقی نے جنم نہیں لیا۔

وہ کہتے ہیں کہ خیبر پختونخوا کی تمام یونیورسٹیوں کے چانسلر اور جناب گورنر شاہ فرمان کا یونیورسٹی امتحانات سے متعلق فیصلہ نہ صرف ان کی بلکہ ایچ ای ڈی کے افسران کی تعلیمی اہلیت پر بھی سوالات کھڑے کر رہا ہے۔ سمسٹر سسٹم ویسے بھی ایک مستعار لیا گیا نظام ہے، لیکن اس نظام کو جیسے ایچ ای سی اور یونیورسٹیاں استعمال کر رہی ہیں اگر اس کے موجدین کو پتہ چلے تو وہ ایک دفعہ کانوں کو ہاتھ ضرور لگا لیں۔

شاہ فرمان صاحب کو اگر واقعی یہی والی شفافیت چاہیے تو وہ یونیورسٹیوں کو ایک سا کورس سلیبس دے دیں اور سمسٹر کی بجائے سالانہ طریقہ امتحانات رائج کر دیں۔ البتہ ویمن یونیورسٹی کے ایڈیشنل رجسٹرار عزیر محمد نے گورنر شاہ فرمان کے فیصلے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک اچھا فیصلہ ہے جس سے شفافیت آ جائے گی اور ساتھ میں شعبہ امتحانات میں ایک بندے کی اضافی ضرورت بھی پیش ہو گی جو ان پیپرز کو چیک کرے گا کہ پیپرز کہاں بھجوانے ہیں اور کس ٹیچر کو بھجوانے ہیں۔ باقی جب پالیسی مکمل طور پر سامنے آ جائے گی تو پتہ چلے گا کہ اس میں کیا ٹھیک ہے اور کیا غلط ہے۔

ایک طالبہ کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ میری ایک ٹیچر میرے ساتھ بہت پرسنل تھی جس کے باعث میری سی جی پی اے کم رہی ہے۔ اگر یہ پالیسی پہلے بنتی تو مجھے اپنی ٹیچر کے عتاب سے چھٹکارا مل جاتا۔ لیکن دوسری جانب ان کا کہنا تھا کہ نالائق طلبہ اور طالبات کے لیے اب سمسٹر سسٹم میں پڑھنا ناممکن ہو گیا ہے کیونکہ اپنا ٹیچر کچھ نہ کچھ مارکس دے کر پاس کر ہی لیتا ہے، اب تو باہر پیپر چیک کرنے والے تو جو لکھا ہو گا اس کے مطابق ہی نمبر دیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس