کاملہ ہیرس: امریکہ میں پہلی سیاہ فام نائب صدارتی امیدوار خاتون منتخب

سینیٹر کاملہ ہیرس پرائمریز کی دوڑ میں جو بائیڈن کی حریف تھیں اور ان کی جانب سے اپنی سابقہ حریف کو بطور نائب صدر منتخب کرنا بہت سے سیاسی پنڈتوں کے لیے حیران کن فیصلہ ہے۔ 

امریکی صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن نے سیاہ فام کاملہ ہیرس کو نائب صدر کا امیدوار چن کر امریکی انتخابات میں نئی تاریخ رقم کر دی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہو گا جب کوئی سیاہ فام خاتون نائب صدر کی امیدار کی حیثیت سے صدارتی انتخابات میں حصہ لیں گی۔

 بائیڈن کے اس اعلان نے نومبر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مقابلہ کرنے کے لیے ڈیموکریٹک کیمپ کی ایک ماہ سے جاری تلاش کو بالآخر ختم کر دیا۔

سینیٹر کاملہ ہیرس پرائمریز کی دوڑ میں جو بائیڈن کی حریف تھیں اور ان کی جانب سے اپنی سابقہ حریف کو بطور نائب صدر منتخب کرنا بہت سے سیاسی پنڈتوں کے لیے حیران کن فیصلہ ہے۔ 

77 سالہ بائیڈن نے منگل کی شب یہ اعلان کرتے ہوئے کہا: ’مجھے اب فخر ہے کہ کاملہ ہیرس اس مہم میں شراکت دار کی حیثیت سے شامل ہوں گی۔‘

سیاسی مبصرین کے مطابق 55 سالہ ہیرس بائیڈن کی نائب کی حیثیت سے تقریری ڈیموکریٹ پارٹی کے لیے ان انتخابات میں گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہیں جو خواتین، نوجوانوں اور نواحی علاقوں میں رہنےوالے رائے دہندگان کو اپنی جانب راغب کر سکتی ہیں۔

وہ 1984 میں ڈیموکریٹک جیرالڈین فریرو اور 2008 میں ریپبلکن سارہ پیلن کے بعد کسی بڑی جماعت کے لیے تیسری خاتون اور پہلی سیاہ فام خاتون نائب صدارتی امیدوار کے طور پر سامنے آئی ہیں۔

صدارتی بائب امیدار کا ٹکٹ ملنے کے بعد ہیرس کا کہنا تھا کہ یہ ان کے لیے اعزاز کی بات ہے اور وہ جیت میں مدد کے لیے جو بائیڈن کے ساتھ مل کر کام کریں گی۔

انہوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا: ’جو بائیڈن امریکی عوام کو متحد کرسکتے ہیں کیوں کہ انہوں نے اپنی زندگی ہمارے لیے لڑی ہے اور صدر کی حیثیت سے وہ ایسے امریکہ کی رہنمائی کریں گے جو ہمارے نظریات کے مطابق ہو گا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

20 اکتوبر 1964 کو ریاست کیلیفورنیا کے شہر اوکلینڈ میں پیدا ہونے والی کاملہ ہیرس 2016 میں امریکی سینیٹ کی رکن منتخب ہوئیں۔ وہ 2011 سے 2017 تک کیلیفورنیا میں پبلک پراسیکیوٹر کے طور پر بھی خدمات انجام دیتی رہی ہیں۔ اس دوران انہوں نے منشیات کی اسمگلنگ اور جنسی تشدد کے حوالے سے اپنے سخت مواقف کی وجہ سے شہرت پائی۔

ان کے والد امریکہ میں سیاہ فام تارک وطن تھے جن کا تعلق غرب الہند سے تھا جب کہ ان کی والدہ بھارت سے تھیں۔

کاملہ ہیرس نے 1986 میں معروف امریکی یونیورسٹی ہاورڈ سے پولیٹیکل سائنس اور اکنامکس میں گریجویشن کیا اور پھر 1989 میں ہیسٹنگز کالج سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔

وہ کیلیفورنیا کی اٹارنی جنرل کے طور پر منتخب ہونے والی پہلی سیاہ فام خاتون تھیں  اور امریکی سینیٹ میں خدمات انجام دینے والی دوسری سیاہ فام خاتون ہیں جن کی جڑیں جنوبی ایشیا سے ملتی ہے۔

بطور اٹارنی جنرل وہ کبھی کسی کے دباؤ میں نہیں آئیں یہاں تک کہ بعض معاملات میں انہوں نے سابق صدر باراک اوباما کے فیصلوں کو بھی مسترد کر دیا۔ 2012 میں ڈیموکریٹس کی نیشنل کانفرنس میں دبنگ خطاب سے انہوں نے سیاسی طور پر مقبولیت حاصل کی تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ