ہسپانیہ میں پاکستانیوں کی کرونا کے خلاف جنگ

 بچپن میں اماں جی سے سنا کرتے تھے کہ فلاں کی دہی (طبیعت) میں آرام کوئی نہیں اور پھر اس فلاں کی باقاعدہ ہڈی پسلی کی نوک پلک سنواری جاتی۔ اسی طرح پاکستانی ٹیکسی سیکٹربارسلونا کے شہباز کھٹانہ کی دہی بے آرام واقع ہوئی ہے۔

(اے ایف پی)

ہسپانیہ میں عہدِ کرونا (کرونا) کے اولین دنوں کے سب سے بڑے دو بحران جو درپیش تھے وہ ہسپاتولوں اور طبی مراکز میں ایس او پِیز کی بے پناہ کمی تھی پھر پاکستانی کمیونٹی کی کفالت تھی۔

اس آفت کے پیشِ نظر ہزاروں خاندان بے روزگار ہو چکے تھے اور پیٹ کا اژدہا منہ کھولے گلی کوچوں میں پھرتا تھا۔

طبی سامان کی کمی کو پورا کرنے میں اس وقت انفرادی سطح پر یہ چوہدری نوید وڑائچ تھے جنھوں نے ہسپتالوں میں دسیوں ہزاروں ماسک، دستانے، میڈیکل لباس بانٹنے کی رسم ڈالی اور یہ باقاعدہ اپنا لی گئی۔ پھر پاکستانیوں نے ہسپتالوں، تھانوں اور حکومتی دفاتر میں ماسک اور ہینڈ سینیٹائزرز پہنچائے۔ ںوید وڑائچ کو اس سماجی خدمت کے صلہ میں کاتالونیہ پولیس نے اعزازی شیلڈ سے نوازا۔

پی ٹی آئی ہسپانیہ کے صدر شہزاد بھٹی ہوں، ادارہ پاک آئی کیر کے سربراہ ملک عمران ہوں، پاکستانی کاروباری اور تجار لالہ پرویز اختر جانی ہوں یا شہزاد اکبر وڑائچ مراکز صحت، تھانوں اور حکومتی مراکز میں کرونا سے بچاؤ کا سامان پہنچاتے رہے۔

کرونا کے اوائل سے جہاں انفرادی کوششیں ہوئیں وہاں مضبوط ترین اجتماعی کاوش بلاشبہ پاک فیڈریشن کی ہے۔ پاک فیڈریشن نے ایک طرف اپنی مدد آپ کے تحت ہزاروں ماسکس بنا کر ہسپتالوں اور بنیادی مراکز صحت اور عامۃ الناس میں بانٹے وہاں بطور پلیٹ فارم معاشرتی آگاہی کا حق بھی ادا کیا۔ پاک فیڈیریشن عہدِ کرونا میں چوہدری ثاقب طاہر کی صدارت میں پُوری طرح فعال نظر آئی۔

طبی کمیونٹی کو مفت اشیائے خورد و نوش کی فراہمی کی ابتدا راجہ سعید کمال نے کی اور جب تک کرونا ٹھنڈا نہیں ہوا انہوں نے اپنے محلے کے بیسیوں مستحق ہسپانوی و غیر ہسپانوی خاندانوں کی ذمہ داری اٹھائے رکھی۔

 بچپن میں اماں جی سے سنا کرتے تھے کہ فلاں کی دہی (طبیعت) میں آرام کوئی نہیں اور پھر اس فلاں کی باقاعدہ ہڈی پسلی کی نوک پلک سنواری جاتی۔ اسی طرح پاکستانی ٹیکسی سیکٹربارسلونا کے شہباز کھٹانہ کی دہی بے آرام واقع ہوئی ہے۔ بارسلونا میں پاکستانی کمیونٹی کی جدید تاریخ میں ان کے رفیق خاص چوہدری عاصم گوندل اور سید شیرازسرفہرست ہوں گے۔ میڈیکل اور پیرا میڈیکل سٹاف کو مفت ٹیکسی سروس مہیا کرنا شہباز کھٹانہ کی دور بین آنکھ کا ایک پرتُو ہے جس کا ثمر پاکستانیوں کی نسلیں سمیٹتی رہیں گی۔

بارسلونا ٹیکسی سیکٹر سے پاکستان کے لیے ایک گھنٹہ میں 80 ہزار عطیـات کی مد میں اکٹھے کرنے ہوں، عام حالات میں کفالت سے لے کر تجیز و تکفین کے اخراجات اٹھانے ہوں، سماجی محفل سجانی ہو، ٹیکسی سیکٹر میں چوہدری شہباز کھٹانہ مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ کرونا وبا میں طبی اور نیم طبی عملے کو ٹیکسی کی مفت خدمات مہیا کرنے کے بعد اگلا مرحلہ شہباز کھٹانہ کی زیرِ قیادت، عاصم گوندل اور سید شیراز نے اپنے ذمہ لے لیا۔

بارسلونا کے پاکستانی نژاد جواں سال فجر نواب چیمہ سے پاکستانی خاندانوں تک پورے مہینے کا راشن مفت بذریعہ ٹیکسی سیکٹر پہنچانے کا اہتمام کیا۔ یہ انتظام اور اس کا انصرام ایسا تھا کہ ہسپانوی ریڈ کراس نے فجر نواب چیمہ کی کاشوں کو سراہا اوراپنایا بھی۔ اںہوں نے بلا تخصیص بارسلونا کے جس کونے کھدرے سے پیغام آیا، اپنے گودام کے دروا کیے رکھے۔

خاندانوں کا سپرمارکیٹس تک پہنچنا بھی اتنا ہی مشکل تھا۔ یہ بیڑا پاکستانی ٹیکسی سیکٹر نے اٹھایا۔ چوہدری جاوید طاہر اور میاں عامر رضا ٹیکسی سیکٹر کا ایک اور نام ہیں، چوہدری شہزاد اکبر وڑائچ جو کاتالونیہ کی مقامی صوبائی جماعت ای آر سی کے باقاعدہ سرگرم رکن بھی ہیں، قدیر خان صاحب، جوردی ماتیو، جاسنت سمیت بیسیوں ٹیکسی سیکٹرکے خواتین و حضرات نے اِدھر ڈوبے ادھر نکلے کے مصداق بارسلونا کے گلی محلوں کو سر پر اٹھائے رکھا۔ اڑھائی ہزارسے زائد افراد اور خاندانوں تک انہوں نے راشن پہنچایا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہسپانوی تنظیموں اور اداروں کے ساتھ مل کر اور آزادانہ طور پر سینکڑوں خاندانوں تک کھانا پہنچانے کا سہرا پِیس فار پِیس کے سر ہے۔ بچوں کی خوراک سے لے کر ہر قسم کا کھانے کا سامان بلا امتیاز پاکستانی، بنگالی، ہندوستانی اور ہسپانوی خاندانوں تک پہنچانے کی ذمہ داری نبھانا اِس ایسوسی ایشن کے روح رواں تجمل رشید بٹ کا خاصہ ہے جو کونسلر بارسلونا شہر کونسل طاہر رفیع اور ہسپانوی اداروں کے ساتھ مل کر بیت المال میں بھی حصہ ڈالتے رہے۔

ان کے برادر خورد علی رشید بٹ جو پِیس فار پِیس ایسوسی ایشن کے صدر بھی ہیں اور جنرل سیکریٹری مہر محمد ارسلان جہاں عہدِ کرونا میں سماجیات میں سرگرم رہے، اب بھی ان کا سفر جاری ہے۔ اشیائے خورو نوش میں ان کو بارسلونا کے معتبر کاروباری حضرات مہر عرفان، مہرعمران اور خواجہ بلال کی رفاقت مُیسر آئی۔

ہسپانوی اداروں کی زیرِ کفالت سینکڑوں خاندانوں تک غذا اور ادویہ پہچائی جاتی رہیں۔ کونسلر بارسلونا طاہر رفیع کی پاکستانی فیملی ایسوسی ایشن اور پِیس فارپِیس ایسوسی ایشن پاکستانیون کی نمائیندہ تنظیں ہیں جو مستقل بنیادوں پر بارسلونا شہری کونسل کے ساتھ براہ راست کام کر رہی ہیں۔

اس کمیونٹی کے سر کے تاج میں اتنے ہیرے ہیں کہ الگ الگ سب کا تذکرہ کرنے کو عُمرِ خضر چاہیے۔ عہدِ کرونا میں بارسلونا میں مقیم پاکستانیوں کی خدمات سنہری حروف میں لکھی جا رہی ہیں اور ابد الآباد یاد رکھی جائیں گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ