پیسے لانا بھول گئی تو کیا ہوا؟ وزیراعظم ہیں نا

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جسینڈا آرڈرن کو سپرمارکیٹ میں اپنا پرس گھر بھول آنے والی خاتون کے سامان کے پیسے اپنی جیب سے ادا کرنے پر بہت سراہا جارہا ہے۔

جسینڈا آرڈرن  کے مطابق انہوں نے خاتون کی شاپنگ کے پیسے اس وجہ سے ادا کیے، کیونکہ وہ ایک ماں تھی۔فائل تصویر: روئٹرز

گزشتہ ماہ کرائسٹ چرچ کی مساجد پر حملوں کے بعد اپنے ردعمل اور بیانات کی وجہ سے نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جسینڈا آرڈرن کو بے حد پذیرائی ملی اور اب سپرمارکیٹ میں اپنا پرس گھر بھول آنے والی خاتون کے سامان کے پیسے اپنی جیب سے ادا کرنے پر بھی انہیں بہت سراہا جارہا ہے۔

یہ خبر اُس وقت پھیلی جب مذکورہ خاتون کی دوست ہیلن برنیس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جسینڈا آرڈرن کی اس نیک دلی کی کہانی بیان کی۔

ہیلن نے لکھا، ’جسینڈا آرڈرن نے سپرمارکیٹ میں اُس وقت میری دوست کی شاپنگ کی ادائیگی کی، جب وہ اپنا پرس گھر بھول آئی تھی اور اس کے ساتھ دو بچے موجود تھے، جو رو رہے تھے، ہم ان کی محبت کا قرض نہیں چکا سکتے۔‘

ہوا کچھ یوں کہ جب وہ خاتون اپنے بچوں کے ہمراہ ادائیگی کرنے والے کاؤنٹر پر پہنچیں تو انہیں احساس ہوا کہ ان کے پاس تو پرس ہی نہیں ہے۔

خوش قسمتی سے قطار میں خاتون کے پیچھے وزیراعظم موجود تھیں، جنہوں نے فوراً خاتون کی شاپنگ کی ادائیگی کر ڈالی۔

بعدازاں جمعرات کو میڈیا سے گفتگو میں جسینڈا آرڈرن نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خاتون کی شاپنگ کے پیسے اس وجہ سے ادا کیے، ’کیونکہ وہ ایک ماں تھی۔‘

اخبار نیوزی لینڈ ہیرالڈ کے مطابق خاتون، جن کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، نے بتایا کہ جسینڈا آرڈرن نے اُس وقت ان کی خریداری کی ادائیگی کی، جب وہ پرس نہ ہونے کی وجہ سے تمام سامان واپس رکھنے جارہی تھیں۔

خاتون کے مطابق، ’جسینڈا آرڈرن جیسا کوئی لیڈر نہیں ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین