نرگس خاتون: کشمیری گلوکارہ جن کے پاکستانی گلوکار بھی شیدائی ہیں

بحیثیت سٹیج پرفارمر نرگس خاتون کے پرستاروں کی تعداد محدود تھی لیکن سوشل میڈیا پر پاکستانی گلوکاروں علی سیٹھی، علی ظفر اور بھارتی اداکارہ سشمیتا سین کی جانب سے سراہے جانے کے بعد موسیقی کے ہزاروں شوقین ان کے پرستار بن گئے ہیں۔

(ظہور حسین)

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت سری نگر سے تعلق رکھنے والی 21 سالہ گلوکارہ نرگس خاتون نے اپنی مدھر آواز سے پاکستانی گلوکاروں علی سیٹھی اور علی ظفر کو بھی اپنا شیدائی بنا لیا ہے۔

بحیثیت سٹیج پرفارمر نرگس خاتون کے پرستاروں کی تعداد محدود تھی لیکن سوشل میڈیا پر پاکستانی گلوکاروں اور بھارتی اداکارہ سشمیتا سین کی جانب سے سراہے جانے کے بعد مختلف ممالک بالخصوص پاکستان، بھارت اور متحدہ عرب امارات میں موسیقی کے ہزاروں شوقین ان کے پرستار بن گئے ہیں۔

سری نگر کے علمگری بازار نامی علاقے سے تعلق رکھنے والی نرگس خاتون نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا: 'میں سٹیچ پر پرفارم کرنے والی گلوکارہ ہوں۔ سٹیج پر جو نغمے اور غزلیں سامعین کے سامنے پیش کرتی ہوں ان میں سے اکثر میری اپنی لکھی ہوئی ہوتی ہیں۔'

'کرونا (کورونا) وائرس کی وجہ سے جب میں بھی اپنے گھر تک ہی محدود ہو کر رہ گئی تو میں نے نغمے اور غزلیں ریکارڈ کر کے سوشل میڈیا پر ڈالنی شروع کر دیں۔ میری یہ ویڈیوز کافی وائرل ہوئیں۔'

نرگس خاتون علی سیٹھی اور علی ظفر کی مدح سرائی حاصل ہونے کے بارے میں کہتی ہیں: 'میں نے انسٹاگرام پر علی سیٹھی کی ایک غزل گائی۔  پانچ جولائی کو انہوں نے میری آواز والی یہ غزل انسٹاگرام سٹوری کے طور پر شیئر کی۔ انہوں نے میری آواز کو بہت سراہا۔ میرے لیے یہ بہت بڑی بات تھی۔'

'اس کے بعد 14 جولائی کو علی ظفر نے میری ایک ٹویٹ کو ری ٹویٹ کیا۔ وہ میرے ایک نغمے کی ویڈیو تھی جو میں نے اپ لوڈ کی تھی۔ ان کا بھی کہنا تھا کہ آپ کی آواز بہت خوبصورت ہے'۔

یہ پوچھے جانے پر کہ کیا دونوں میں سے کسی نے آپ سے رابطہ قائم کیا، تو نرگس کا کہنا تھا: 'میری آواز والی غزل کو انسٹاگرام سٹوری کے طور پر شیئر کرنے کے بعد علی سیٹھی نے مجھے ان باکس میں پیغام بھیج کر کہا کہ نرگس آپ کی آواز بہت خوبصورت ہے اور آپ بڑے سر میں گاتی ہیں۔ میں نے ان سے بہت بہت شکریہ کہا۔ اس سے زیادہ بات نہیں ہوئی۔'

تاہم ان کے بقول علی سیٹھی اور علی ظفر جیسے عالمی شہرت یافتہ گلوکاروں سے تعریف ملنے کے بعد ان کا حوصلہ کافی بلند ہوا ہے۔

'ان کی جانب سے سراہے جانے سے میری کام کی توثیق ہوئی ہے۔ مجھے اطمینان ہوا کہ میں صحیح سمت میں جا رہی ہوں۔'

'چونکہ یہ سب جولائی میں ہی ہوا اس لیے یہ مہینہ میرے لیے یادگار رہے گا۔ میری خوشیوں کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔ اسی مہینے میں بھارتی اداکارہ سشمیتا سین نے بھی میری آواز کے تئیں اپنے پیار کا اظہار کیا۔'

نرگس خاتون نے بتایا کہ علی سیٹھی، علی ظفر اور سشمیتا سین جیسے منجھے ہوئے فنکاروں کی مدح سرائی سے میرے پرستاروں کا دائرہ کافی حد تک وسیع ہوا ہے۔

'فی الوقت اس سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ میرے پرستاروں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ مجھے لوگ صرف کشمیر یا بھارت کی کچھ ریاستوں میں ہی جانتے تھے لیکن اب میرے دنیا کے کئی ممالک بالخصوص پاکستان، بھارت اور متحدہ عرب امارات میں پرستار ہیں۔'

'علی سیٹھی اور علی ظفر کے پرستاروں نے مجھے فالو کرنا شروع کر دیا۔ ان میں سے اکثر پرستاروں کا تعلق پاکستان اور متحدہ عرب امارات سے ہے۔ دو دن پہلے کینیڈا سے مجھے ایک خاتون کا پیغام ملا جس میں انہوں نے میری آواز کو کافی سراہا ہے۔ ایسے پیغامات مجھے مختلف ممالک سے موصول ہو رہے ہیں۔ یہ پیغامات میری حوصلہ افزائی کا ذریعہ بن رہے ہیں۔'

نرگس خاتون کا کہنا ہے کہ اگر انہیں کبھی کوک سٹوڈیو میں اپنے فن کے جوہر دکھانے کا موقع ملتا ہے تو ان کی زندگی کا سب سے بڑا خواب پورا ہوگا۔

'کسی بھی گلوکار کے لیے کوک سٹوڈیو میں گانے کا موقع ملنا بہت بڑی بات ہے۔ وہاں منجھے ہوئے موسیقار ہوتے ہیں۔ان سے ایک ابھرتا ہوا گلوکار بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔'

نرگس خاتون کے مطابق قرۃ العین بلوچ ان کی پسندیدہ گلوکارہ ہیں اور وہ ان سمیت جاوید بشیر، علی سیٹھی اور علی ظفر جیسے پاکستانی گلوکاروں سے ملنے کی تمنا رکھتی ہیں۔

کہتی ہیں: 'ان سے ملنے کی کوئی خاص وجہ نہیں ہے لیکن انسان چاہتا ہے کہ اچھے لوگوں سے ملاقات ہو ہی جانی چاہیے۔ ان سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے اور ان کی صحبت سے انسان خودبخود سیکھ جاتا ہے۔

'فن کی کوئی سرحدیں نہیں ہوتی ہیں۔ اس کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ سرحدوں پر تناؤ اور ممالک کے درمیان کشیدگی کا اثر کم از کم فن پر نہیں پڑنا چاہیے۔'

نرگس خاتون کے مطابق ان سے بہت پہلے موسیقی کے ایک استاد نے کہا تھا کہ 'آپ کی آواز پاکستانی گلوکاروں جیسی ہے۔'

ان کے بقول: 'ایک دفعہ ہمارے سکول میں موسیقی کا ایک پروگرام ہونے والا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب میں آٹھویں جماعت میں پڑھتی تھیں۔ بچوں کو اس کے لیے تیار کرنے کے لیے ایک موسیقار کی خدمات حاصل کی گئیں۔

'جب میں نے ان کے سامنے گایا تو ان کا کہنا تھا کہ نرگس آپ کی آواز تو پاکستانی گلوکاروں جیسی ہے۔ آپ کا موسیقی میں اچھا کیریئر بن سکتا ہے۔ مذکورہ موسیقار کی ان باتوں نے مجھے اس مقام پر پہنچا دیا ہے۔ مجھ میں تبھی بہت اعتماد پیدا ہوا تھا۔'

گلوکاری کا سفر

نرگس خاتون، جنہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم تاریخی امامیہ ہائی سکول جڈی بل سے حاصل کی ہے، کا کہنا ہے کہ انہوں نے گانا چھ سال کی عمر میں شروع کیا ہے۔

'ابتدائی طور پر میں سکول میں ہونے والی تقاریب میں ہی گاتی تھیں۔ 2015 میں جب میں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا تو اپنا پہلا نغمہ ریکارڈ کیا۔ بعد ازاں یہ نغمہ میں نے سرکاری ٹیلی ویژن دور درشن پر نشر ہونے والے بچوں کے پروگرام میں بھی گایا۔ اس پروگرام کے لیے میں نے قریب 9 نغمے گائے۔'

نرگس موسیقی کے شعبے میں انٹری کو اپنی والدہ کے سپورٹ کا نتیجہ قرار دیتی ہیں۔

کہتی ہیں: 'مجھے ابتدائی سپورٹ اپنی والدہ سے ملا ہے۔ ایک بار میری والدہ نے مجھ سے کہا کہ ژہ چھے واریہ اصل آواز (تمہاری آواز بہت اچھی ہے)۔ والدہ کے ان الفاظ نے بھی مجھ میں بہت اعتماد پیدا کیا تھا۔'

نرگس فی الوقت گاندھی کالج سری نگر کے تین سالہ بیچلر آف بزنس ایڈمنسٹریشن کورس میں زیر تعلیم ہیں۔

یہ پوچھے جانے پر کہ 'آپ نے میوزک کی بجائے بی بی اے کورس میں داخلہ کیوں لیا ہے' تو نرگس خاتون کا کہنا تھا: 'کشمیر میں مجھے ایسا کوئی میوزک انسٹی ٹیوٹ نظر نہیں آیا جہاں میں داخلہ لے سکتی تھیں۔ اب میوزک کی پڑھائی کے لیے باہر جاتی لیکن گھر کی مجبوریاں تھیں جن کی وجہ سے میں باہر نہیں جا پائی۔ بالآخر مجھے بی بی اے کورس میں داخلہ لینا پڑا۔'

نرگس کے بقول کشمیر میں موسیقی کوئی نئی چیز نہیں ہے لیکن حالات نے لوگوں کو کڑوا بنا دیا ہے۔

کہتی ہیں: 'ہمارے یہاں راج بیگم اور شمیمہ دیو کو کون نہیں جانتا ہے۔ راج بیگم نے اپنے گانے اُس وقت گائے ہیں جب یہاں صنفی عدم مساوات کا دور دورہ تھا۔ آرٹ کو پنپنے کے لیے سازگار ماحول چاہیے۔ جب یہاں حالات خراب ہو جاتے ہیں تو لوگوں میں کڑواہٹ پیدا ہو جاتی ہے۔

'یہاں کے نوجوان میرے گانوں کو بہت پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھی ایک دو خراب تبصرے بھی آتے ہیں لیکن ان کا مجھ پر کوئی بھی اثر نہیں پڑتا ہے کیونکہ میں جانتی ہوں کہ یہ حالات کا نتیجہ ہے۔'

نرگس کے مطابق کشمیری نوجوانوں میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے لیکن انہیں اپنے ٹیلنٹ کو نکھارنے کے لیے درکار سہولیات دستیاب نہیں ہیں۔

وہ مزید کہتی ہیں: 'کشمیر کی میوزک انڈسٹری بہت کمزور ہے۔ شوز نہیں ہوتے ہیں۔ کوئی انفراسٹرکچر نہیں ہے۔'

بھارت میں سٹیج پرفارمنس

نرگس خاتون اب تک کئی بھارتی ریاستوں جیسے دہلی، پنجاب اور ہریانہ میں سٹیج پر پرفارم کرچکی ہیں اور انہیں سامعین کی طرف سے خوب سراہا جا رہا ہے۔

'کرونا لاک لاک ڈاؤن سے پہلے میرا ایک شو دہلی میں ہوا۔ اس میں، میں نے شہریار (اخلاق محمد خان) کی غزل 'تمہارے شہر میں کچھ بھی نہیں ہوا ہے کیا ۔۔۔۔ کہ تم نے چیخوں کو سچ مچ سنا نہیں ہے کیا' اپنی دھن میں گائی۔ 

'یہ غزل مجھے ایسی لگی جو کشمیر کے حالات کو بخوبی بیان کر رہی تھی۔ جہاں کشمیر میں سب کچھ بند تھا وہیں باقی دنیا اپنے کام میں مصروف تھی۔ یہ غزل گانے کا مقصد یہ بتانا تھا کہ ہمارے ساتھ جو ہوا ہے اس کی چیخ باہر کسی تک کیوں نہیں پہنچی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

'وہاں پر خوش قسمتی سے سامعین بھی اچھے تھے۔ آسام سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی روتے روتے میرے پاس آئیں اور کہا کہ ہمارے ہاں بھی بھارتی شہریت کے قوانین میں ترمیم کے خلاف احتجاجوں کے دوران ہلاکتیں ہوئیں اور آواز کہیں نہیں سنی گئی۔'

نرگس خاتون نے کشمیر میں پانچ اگست 2019 کے بعد پیدا شدہ حالات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھول گئی تھیں کہ وہ ایک گلوکارہ ہیں۔

'میں اپنی شناخت کھو بیٹھی تھیں۔ چھ ماہ بعد جب ہم کشمیر سے باہر ایک شو کرنے کے لیے گئے تو وہاں مجھے اپنا انسٹاگرام دیکھنے کے لیے انٹرنیٹ نصیب ہوا۔

'ہم کشمیری بیشتر چیزیں انٹرنیٹ سے ہی سیکھتے ہیں۔ میں خود بہت سی چیزیں انٹرنیٹ سے ہی سیکھ رہی ہوں۔ جب یہاں انٹرنیٹ بند کیا جاتا ہے تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے ہم سے سب کچھ چھین لیا گیا ہے۔

'آج علی سیٹھی اور علی ظفر مجھے جانتے ہیں، یہ انٹرنیٹ کی بدولت ہی ممکن ہو پایا ہے۔ انٹرنیٹ کی بدولت ہم گھر بیٹھے ہی پوری دنیا تک پہنچ سکتے ہیں۔ لیکن یہاں انٹرنیٹ کی معطلی اور بحالی کا کوئی شیڈول نہیں ہے۔'

زیادہ پڑھی جانے والی فن