مولانا فضل الرحمٰن کی دعوت کے باوجود جماعت اسلامی کیوں نہ آئی؟

جے یو آئی ف کے سربراہ کی رہائش گاہ پر 'آپسی تحفظات دور کرنے' کے لیے مختلف اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس۔

اجلاس میں اختر مینگل، محمود اچکزئی، آفتاب شیرپاؤ، عوامی نیشنل پارٹی کے میاں افتخار اور امیر حیدر ہوتی،نیشنل پارٹی کے سینیٹر میر کبیر، پروفیسر ساجد میر، مولانا اویس نورانیشریک ہوئے (مونا خان/انڈپینڈنٹ اردو)

جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ  مولانا فضل الرحمٰن نے اپوزیشن کے درمیان تقسیم کے تاثر کو رد کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر نئے الیکشن کا مطالبہ کیا ہے۔

جمعرات کو اسلام آباد میں مختلف اپوزیشن جماعتوں کا مولانا فضل الرحمٰن کی رہائش گاہ پر اجلاس ہوا، جس کے بعد مولانافضل الرحمٰن نے میڈیا گفتگو میں بتایا کہ اتفاق رائے سے اعادہ ہواہے کہ 2018 کا الیکشن 'فراڈ' تھا۔ 'ہم نے اس وقت بھی نتائج تسلیم نہیں کیے تھے اور آج پھر اپوزیشن جماعتوں نے نئے انتخابات کا مطالبہ کیا ہے۔'

اجلاس میں اختر مینگل، محمود اچکزئی، آفتاب شیرپاؤ، عوامی نیشنل پارٹی کے میاں افتخار اور امیر حیدر ہوتی،نیشنل پارٹی کے سینیٹر میر کبیر، پروفیسر ساجد میر، مولانا اویس نورانی شریک ہوئے جبکہ جماعت اسلامی  دعوت ملنے کے باوجود شریک نہیں ہوئی۔

جب مولانا فضل الرحمٰن سے پوچھا گیا کہ جماعت اسلامی دعوت کے باوجود شریک کیوں نہیں ہوئی توانہوں نے کہا کہ یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ اپوزیشن منقسم ہے، یہ اجلاس بلانےکا مقصد ہی یہی تھا کہ جو بھی آپسی تحفظات ہیں انہیں دور کیا جائے۔

اس حوالے سے جماعت اسلامی نے ایک بیان میں کہا کہ پارٹی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے اجلاس سے قبل مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات میں واضح کر دیا تھا کہ انہیں پیپلز پارٹی اور ن لیگ پر اعتماد نہیں، انہوں نےمولانا فضل الرحمٰن کو یقین دہانی کرائی کہ اپوزیشن جماعتوں سے رابطہ برقرار رہے گالیکن اس مرحلے پر جماعت اسلامی اپوزیشن جماعتوں کے مشترکہ اجلاس میں شرکت نہیں کرے گی۔

جماعت اسلامی نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ اُن کا مولانا فضل الرحمٰن اور اپوزیشن جماعتوں کی حکومت مخالف جدوجہد سے کوئی اختلاف نہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ  اجلاس میں  مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی قیادت سے ہونے والی ملاقاتوں پر شرکا کو اعتماد میں لینا ضروری تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

واضح رہے کہ کچھ روز قبل مولانا فضل الرحمٰن کی قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور ن لیگ کے قائدشہباز شریف سے ملاقات ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ گذشتہ ماہ  پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے بھی مولانا فضل الرحمٰن کی ملاقات ہو چکی ہے، جس میں اپوزیشن کواکٹھا کر کے حکومت مخالف تحریک چلانے پر اتفاق کیا گیا تھا اور تمام چھوٹی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کی ذمہ داری مولانا فضل الرحمٰن کو سونپی گئی تھی تاکہ چھوٹی جماعتوں کے تحفظات دور کر کے ایک صفحے پر لایا جائے اور حکومت کے خلاف جامع تحریک بنائی جائے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا 'ہم ملک میں آئین کی بالادستی چاہتے ہیں۔ ہر ادارہ آئینی ذمہ داریاں سرانجام دے کوئی ادارہ کسی کے کام میں مداخلت نہ کرے۔'

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست