’شہباز شریف انقلاب لیڈ کرنے کو تیار‘: کیا بلاول کی توقع پوری ہوگی؟

پاکستان کی سیاست میں ایک بار پھر ہل چل دکھائی دے رہی اور اس بار سیاسی میل ملاقاتوں کا مرکز اسلام آباد کی بجائے لاہور ہے۔

مولانا فضل الرحمن نے بلاو بھٹو زرداری اور شہباز شریف سے پہلے الگ الگ ملاقاتیں کیں اور اس کے بعد بلاول بھٹو زرداری اور شہباز شریف کی ملاقات ہوئی (پی پی پی/ سوشل میڈیا)

پاکستان کی سیاست میں ایک بار پھر ہل چل دکھائی دے رہی اور اس بار سیاسی میل ملاقاتوں کا مرکز اسلام آباد کی بجائے لاہور ہے۔

خاص طور پر مولانا فضل الرحمن کی چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرادری اور صدر مسلم لیگ ن سے ملاقاتیں ہوئی ہیں جبکہ  بلاول بھٹو زرداری نے بھی شہباز شریف سے ان کی رہائش گاہ ماڈل ٹاؤن میں ملاقات کی۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں بلاول بھٹو نے دعویٰ کیا کہ ’شہباز شریف سے مسلسل رابطہ رہا ہے اور اب وہ انقلاب لیڈ کرنے کو تیار ہیں۔‘

مولانا فضل الرحمن نے بھی میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ اے پی سی سے پہلے اپوزیشن کی رہبر کمیٹی فعال کی جارہی ہے اور موجودہ حالات میں حکومت مخالف تحریک کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔

کیا اس بار پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن مولانا کی توقعات پر پورا اتریں گی؟

سینیئر تجزیہ کار سلمان غنی اس سوال کے جواب میں کہا کہ اپوزیشن فوری حکومت گرانے کی تحریک شروع نہیں کرسکتی۔

’بلاول کی شہباز شریف سے انقلاب لیڈ کرنے کی توقع فل الحال پوری ہوتی دکھائی نہیں دے رہی کیونکہ پہلے دیکھنا پڑے گا کہ کیا تمام اپوزیشن جماعتیں منتخب حکومت ختم کرنے میں متحد ہوں گی۔ کیونکہ حکومت مخالف تحریک سے متعلق نہ صرف مسلم لیگ ن دو دھڑوں میں تقسیم ہے بلکہ پیپلز پارٹی بھی سندھ حکومت قربان کرنے کو تیار نہیں ہوگی۔‘

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف، مریم نواز اور شاہد خاقان عباسی گروپ فوری حکومت سے نجات چاہتا ہے اور نئے انتخابات کا خواہاں ہے جبکہ شہباز شریف، خواجہ آصف، ایاز صادق، خواجہ سعد رفیق و دیگر جمہوری حکومت کو ہٹانے کی بجائے ان کا سٹیبلشمنٹ سے اتحاد ختم کرنے کو اہم سمجھتے ہیں۔

’مولانا فضل الرحمن کے پاس کوئی سیاسی عہدہ یا حکومت میں حصہ نہ ہونے پر وہ ہر طرح کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سلمان غنی نے کہا کہ ملکی تاریخ میں جتنی بھی حکومت مخالف تحریکیں کامیاب ہوئیں ان میں غیر جمہوری قوتوں کا ساتھ ہوتا ہے لیکن اس بار اپوزیشن کو ایسی کوئی حمایت حاصل نہیں ہے۔ ’اس لیے اپوزیشن پہلے کی طرح اس بار بھی صرف حکومت پر پریشر ڈالنے اور غیر جمہوری حلقوں کو موجودہ سیٹ اپ سے علیحدہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ موجودہ حکومت کی کارکردگی مایوس کن ہے لیکن یہ بات اہم ہے کہ کیا عوام ایک جمہوری حکومت کے خلاف اپوزیشن کا ساتھ دیں گے۔ لہذا اپوزیشن چاہتی ہے کہ مل بیٹھ کر پہلے اپنے اندر کے تحفظات دور کیے جائیں اس لئے ابتدائی طور پر میل ملاقاتیں ہیں، کوئی بڑی تحریک چلتی دکھائی نہیں دیتی۔‘

اپوزیشن جماعتوں کے علیحدہ نقطہ نظر

پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں مولانا فضل الرحمن نے بلاو بھٹو زرداری اور شہباز شریف سے پہلے الگ الگ ملاقاتیں کیں اور اس کے بعد بلاول بھٹو زرداری اور شہباز شریف کی ملاقات ہوئی۔

اس سے پہلے بھی جب جمعیت علما اسلام فضل الرحمن کی جانب سے آزادی مارچ ہوا اور اسلام آباد میں دھرنا دیا گیا تو مولانا فضل الرحمن نے اسی طرح دونوں بڑی جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کی تھیں مگر بعد میں دونوں جماعتیں مصلحتوں کا شکار نظر آئیں اور مولانافضل الرحمن کے دھرنے میں علامتی شرکت کی گئی تھی۔

وزر اعظم کے استعفے کے مطالبے سے شروع ہونے والا یہ دھرنہ بظاہر کوئی مطالبہ منظور کرائے بغیر ختم ہووگیاوتھا۔

اس بار بھی صورتحال ابھی تک واضح نہیں ہووپائی کہ اپوزیشن کن اصولوں اور نکات پر متحد ہوگی جس سے حکومت کو ٹف ٹائم دیا جاسکے۔

دوسری جانب شہباز شریف یہ بیان بھی دے چکے ہیں کہ پہلے مرحلہ میں اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کو متحرک کیا جائے گا۔

خیال رہے نیب قوانین میں ترامیم کا معاملہ بھی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان طے ہونا ہے جبکہ چیئر مین کی مدت ملازمت پوری ہونے پر انہیں ہٹانے یا مدت ملازمت میں توسیع جیسے معاملات بھی حل ہونا باقی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست