سعودی عرب میں 'کرپشن' پر فوجی کمانڈر اور ان کا بیٹا برطرف

سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان کے ایک شاہی حکم نامے کے تحت یمن میں سعودی فورسز کے جوائنٹ کمانڈر کے خلاف کرپشن کے الزام کی تحقیقات شروع۔

سعودی فورسز کے جوائنٹ کمانڈر لیفٹنٹ جنرل فہد بن ترکی بن عبدالعزیزنے یمن میں جاری ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف آپریشن میں کلیدی کردار ادا کیا تھا( اے ایف پی)

سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان نے ایک شاہی حکم نامہ جاری کیا ہے جس کے تحت یمن میں سعودی فورسز کے جوائنٹ کمانڈر لیفٹنٹ جنرل فہد بن ترکی بن عبدالعزیز کو برطرف کر کے ان کے خلاف کرپشن میں ملوث ہونے کے الزام کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

الجوف کے ڈپٹی گورنر عبدالعزیز بن فہد بن ترکی بن عبدالعزیز کو بھی برطرف کر کے ان کے خلاف تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

شاہ سلمان نے یہ فیصلہ ولی عہد محمد بن سلمان کے اس مشورے پر کیا جس کے تحت ملک بھر میں انسداد بدعنوانی کی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ اینٹی کرپشن اتھارٹی 'وزارت دفاع میں مشکوک لین دین کے معاملات کی تحقیق کرے گی۔'

شاہی حکم نامے میں محکمے کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ وزارت میں ہونے والی 'خفیہ مالی کرپشن' کو بے نقاب کرے جس کا تعلق فوجی کمانڈر اور شہزادے سے جڑتا ہے۔ کئی اور عہدیداروں، سول افسران اور اہلکاروں کو بھی اس تفتیش کا حصہ بنایا جائے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ عبدالعزیز کی خدمات برطرف کرتے ہوئے انہیں تفتیش کے لیے برخاست کیا جا رہا ہے۔ ڈپٹی چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل مطلق بن سالم العاظمہ کو کمانڈر کے اختیارات تفویض کر دیے گئے ہیں۔

شاہی حکم نامے میں تفتیش کے لیے جن باقی افراد کو شامل کیا گیا ہے ان کے نام یوسف بن رکن بن ہندی ال عتیبی، محمد بن عبدالکریم بن محمد الحسن، فیصل بن عبدالرحمٰن بن محمد الاجلان اور محمد بن علی بن محمد الخلیفہ شامل ہیں۔

حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ 'محکمہ انسداد بدعنوانی تمام متعلقہ فوجی اور سول اہلکاروں سے مکمل تحقیق کرے اور ان کے خلاف تمام ضروری اقدامات کرتے ہوئے نتائج پیش کرے۔'

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا