ایران کے یورینیم ذخائر مقررہ حد سے دس گنا زیادہ ہیں: آئی اے ای اے

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کا کہنا ہے کہ ایران اپنے افزودہ شدہ یورینیم کے ذخائر میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔

ایران کی جانب سے طویل عرصے بعد بین الااقوامی مبصرین کو اپنی دو جوہری تنصیبات کا معائنہ کرنے کی اجازت گذشتہ ہفتے دی گئی تھی(اے ایف پی)

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کا کہنا ہے کہ ایران اپنے افزودہ شدہ یورینیم کے ذخائر میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔

 آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں نے ایران کی دو جوہری تنصیبات میں سے ایک کا دورہ کیا ہے۔

ایران کی جانب سے طویل عرصے بعد بین الااقوامی مبصرین کو اپنی دو جوہری تنصیبات کا معائنہ کرنے کی اجازت گذشتہ ہفتے دی گئی تھی۔

ایجنسی کی جمعے کو سامنے آنے والی سہ ماہی رپورٹ کے مطابق ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے میں مزید اضافہ ہوا ہے گو کہ افزودہ شدہ یورینیم کی مقدار 2015 میں معاہدے پر دستخط سے پہلے موجود زخیرے سے کافی کم ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایجنسی کے اہلکاروں کی جانب سے جوہری تنصیب سے ماحولیاتی نمونے بھی اکٹھے کیے گئے جن میں اس مقام پر جوہری مواد کے موجود ہونے کی تصدیق کی جا سکے گی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے معائنہ کار ’ایران کے ساتھ طے شدہ تاریخ پر ستمبر کے آخر میں دوسری تنصیب کا دورہ کریں گے اور وہاں سے بھی نمونے اکٹھے کیے جائیں گے۔‘

ادھر خبر رساں ادارے اسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق آئی اے ای اے  کی جانب سے معاہدے میں شریک ممالک کو فراہم کیے جانے والے خفیہ دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ ایران افزودہ یورنیم کے ذخائر میں اضافہ کر رہا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خفیہ دستاویزات کے مطابق ایران میں موجود افزودہ یورنیم کی مقدار گذشتہ سہ ماہی میں 534 کلو اضافے کے بعد 2105 کلو تک پہنچ چکی ہے جبکہ رواں سال مئی میں یہ مقدار 1571 کلو تھی۔

سال 2015 میں بین الااقوامی طاقتوں کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے مطابق ایران پر افزودہ یورینیم کی مقدار 202 کلو تک رکھنے کی حد مقرر کی گئی تھی جبکہ موجودہ مقدار طے کردہ مقدار سے دس گنا زیادہ ہے۔

ایران نے امریکہ کی جانب سے معاہدے سے یکطرفہ طور پر علیحدگی کے بعد یورینیم افزودہ کرنے کی مقدار میں اضافہ کر دیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا