پولیس کے ہاتھوں سات گولیاں کھانے والے جیکب بلیک

امریکی ریاست وسکانسن کے شہر کینوشا میں ایک پولیس اہلکار کے ہاتھوں سات گولیاں کھانے کے بعد ہسپتال میں داخل سیاہ فام شہری جیکب بلیک نے ایک ویڈیو پیغام میں بتایا ہے کہ واقعے کے بعد وہ چوبیس گھنٹے تکلیف میں ہیں۔

23 اگست کو وسکانسن پولیس کے اہلکار رسٹن شیسکی کی فائرنگ کا نشانہ ببنے کے بعد بلیک کا کمر سے نیچے کا حصہ مفلوج ہوگیا ہے (اے ایف پی/ بین کرمپ ٹوئٹر )

امریکی ریاست وسکانسن کے شہر کینوشا میں ایک پولیس اہلکار کے ہاتھوں سات گولیاں کھانے کے بعد ہسپتال میں داخل سیاہ فام شہری جیکب بلیک نے بتایا ہے کہ وہ واقعے کے بعد کتنی تکلیف میں ہیں۔

ٹوئٹر پر ان کی وکیل بین کرمپ کی جانب سے پوسٹ کیے گئے ایک ویڈیو پیغام میں بلیک نے کہا: 'میری کمر میں، پیٹ میں، ٹانکے لگے ہوئے ہیں۔۔۔ 24 گھنٹے بس درد ہی درد ہے۔'

ان کا مزید کہنا تھا: 'سانس لیتے ہوئے درد ہے، نیند میں درد، ہلنے میں درد، کھانے پینے میں درد ہے۔'

23 اگست کو وسکانسن پولیس کے اہلکار رسٹن شیسکی کی فائرنگ کا نشانہ ببنے کے بعد بلیک کا کمر سے نیچے کا حصہ مفلوج ہوگیا ہے۔ ان پر گولیاں چلائے جانے کے نتیجے میں امریکہ میں پولیس کے تشدد کے خلاف ملک گیر مظاہرے شروع ہوئے۔

ویڈیو میں بلیک نے کہا: 'پلیز، میں آپ سے کہہ رہا ہوں کہ اپنی زندگیاں بدلیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ رہیں، پیسے بنائیں، ہماری لوگوں کے لیے مشکلات آسان کریں کیونکہ ہم نے اتنا سارا وقت ضائع کیا ہے۔'

ویڈیو ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بلیک کو ایک دن قبل زخمی ہونے کے بعد پہلی بار دیکھا گیا تھا۔

29 سالہ بلیک، جو تین بچوں کے والد ہیں، ویڈیو لنک کے شوٹنگ سے الگ ایک کیس میں ذریعے عدالت میں پیش ہوئے۔

ہلکی نیلی شرٹ اور سنہری ٹائی لگائے بلیک اپنے بستر میں اٹھ کر بیٹھے اور اپنے وکیل کے ذریعے اپنے خلاف لگائے گئے جنسی حملے، کرمنل ٹریس پاس (بغیر اجازت جرم کے مقصد سے داخلے) اور ڈس آرڈرلی کانڈکٹ (غلط طرز عمل) کے چارجز میں ملوث نہ ہونے کا دعویٰ کیا۔ اس کیس میں ان کے وکیل پیٹرک کیفرٹی ان کے ساتھ بیٹھے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان پر یہ فرد جرم تین مئی کو ہونے والے ایک مبینہ واقعے کے حوالے سے لگائے گئے تھے جس کے بارے میں بیان ان کی سابقہ گرل فرینڈ اور تین بچوں کی والدہ نے دیں۔ خاتون کا کہنا تھا بلیک ان کے گھر میں گھس آئے، ان کو جنسی حملے کا نشانہ بنایا اور پھر ان کا ٹرک اور ڈیبٹ کارڈ چوری کر کے فرار ہوگئے۔

بلیک نے کینوشا کاؤنٹی جوڈیشل کورٹ کی کمشنر لورن کیٹنگ کو  ہاتھ اٹھا کر سلام کیا۔ جب ان کو مخاطب کرکے پوچھا گیا کہ آیا ان کو آواز صحیح سنائی دے رہی تھی اور انہیں اپنے مالیتی دس ہزار ڈالر مچلکے کی صحیح سے سمجھ ہے تو انہوں نے 'جی سر' کہہ کر جواب دیا۔

پراسیکیوٹر زیکے ویڈنفلیڈ نے کہا: 'ریاست اس بات کا ادراک کرتی ہے کہ یہ سنگین چارجز ہیں اور اس بات کا بھی ادراک کرتی ہے کہ مدعی علیہ سنگین طور پر زخمی ہیں اور ہسپتال میں صحت یاب ہو رے ہیں۔'

عدالت نے کہا کہ ٹرائل نو نومبر کو جیوری کے انتخاب سے ہوگا۔ بیلک کے خلاف درج شکایت میں ان کی سابقہ گرل فرینڈ کو نام سے ظاہر نہیں کیا گیا۔

وسکانسن کے محکمہ انصاف کے کرمنل انویسٹیگیشن ڈیوژن نے بلیک کی شوٹنگ پر تحقیقات شروع کردی ہیں۔ جبکہ وفاقی پراسیکیوٹرز اور ایف پی آئی اس معاملے میں شہری حقوق کے حوالے سے تحقیقات کر رہے ہیں۔

جمعرات کو صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے بلیک کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور ان سے فون پر بات کی۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ