بین الافغان مذاکرات: فوری جنگ بندی کی امید کم؟ 

ماہرین اس امکان کو رد کرتے ہیں کہ طالبان افغانستان کے سیاسی مستقبل کے ممکنہ سیٹ اپ میں اپنی پوزیشن واضح ہونے سے قبل جنگ بندی کا اعلان کریں گے۔ افغان صدر اشرف غنی نے ابتدا میں کسی عبوری حکومت کی تجویز سختی سے مسترد کر دی تھی۔ 

افغانستان کی  طالبان اسلامی تحریک اپنے قیام کے 26 سال بعد پہلی مرتبہ تاریخی بین الافغان مذاکرات میں حصے لے رہی ہے۔  

خلیجی ریاست قطر کے دارالحکومت دوحہ میں اس سال 29 فروری کو طے پانے والے امریکہ – طالبان امن معاہدے کے دوسرے مرحلے میں بین الافغان مذاکرات منعقد ہونے جا رہے ہیں۔ یہ پہلی مرتبہ ہوگی کہ طالبان اور کابل حکومت جو ایک دوسرے کو تسلیم نہیں کرتے آمنے سامنے ہوں گے تاکہ ملک کے مستقل کے بارے میں اہم فیصلے کر سکیں۔ 

انٹرا افغان مذاکرات دوحہ معاہدے کے مطابق اس سال 10 مارچ سے شروع ہونے چاہیے تھے لیکن فریقن کے قیدیوں کی رہائی میں تاخیر کی وجہ سے چھ ماہ کی تاخیر ہوئی۔

آخری چھ طالبان قیدیوں کی جمعرات کو رہائی کے بعد دو روز میں مذاکرات کا منعقد ہونا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ فریقین قیام امن کی اس کوشش کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ 

مذاکرات سے توقعات؟ 

امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدے کے مطابق انٹرا افغان مذاکرات میں ’جامع اور مستقل جنگی بندی ایجنڈے پر شامل ہوں گے۔‘ یہی مطالبہ افغان حکومت اور امریکہ کا بھی ہوگا۔  

لیکن وائس آف امریکہ کی پاکستان و افغانستان کے لیے بیورو چیف عائشہ تنظیم کہتی ہیں طالبان فوری جنگ بندی پر رضامند نہیں ہوں گے۔ ’ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اس وقت طالبان کا سب سے بڑا مذاکرات کا آلہ ہے وہ طاقت کا استعمال ہے۔ 29 فروری کے معاہدے کے بعد سے ان کے حملوں میں تیزی دیکھی گئی ہے۔ جو میدان جنگ میں تیز ہوتا ہے اس کا وزن مذاکرات میں بھی بڑھ جاتا ہے۔‘ 

طالبان نے امریکہ کے ساتھ طویل مذاکراتی عمل میں بھی کبھی جنگ بندی کا فیصلہ نہیں کیا تھا۔ تجزیہ نگاروں کے خیال میں طالبان جنگ بندی کا اعلان کرکے اپنی فائٹنگ فورس کو منتشر نہیں کرنا چاہتے۔ عائشہ کہتی ہیں کہ ’سب اپنے گھر بار کھیتی باڑی چھوڑ کر لڑ رہے ہیں واپس چلے گئے تو دوبارہ میدان جنگ میں شاید لانا مشکل ہوگا۔‘ 

اگر جنگ بندی کا عارضی فائدہ بھی نہیں ملتا تو ان مذاکرات میں کسی فوری نتیجے پر پہنچنے کا امکان بھی کم ہے۔ عائشہ تنظیم کہتی ہیں کہ فریقین کے نکتہ نظر میں 180 ڈگری کا فرق ہے۔ میرے خیال میں ایک، ڈیڑھ سے دو سال کسی جامع حتمی نتیجے میں پہنچنے میں لگ سکتے ہیں۔‘ 

عبوری سیٹ اپ 

ماہرین اس امکان کو رد کرتے ہیں کہ طالبان افغانستان کے سیاسی مستقبل کے ممکنہ سیٹ اپ میں اپنی پوزیشن واضح ہونے سے قبل جنگ بندی کا اعلان کریں گے۔ افغان صدر اشرف غنی نے ابتدا میں کسی عبوری حکومت کی تجویز سختی سے مسترد کر دی تھی۔ 

عائشہ کہتی ہیں کہ آئندہ چھ ماہ یا اس سے قبل کسی عبوری سیٹ اپ کی توقع کی جاسکتی ہے۔ ’پہلے یہ طے کرنا ہوگا کہ افغانستان میں نظام کیسا ہوگا۔ طالبان مکمل اسلامی نظام کے خواہاں ہیں۔ اگر اس پر بات شروع ہوتی ہے تو یہ سلسلہ طوالت پکڑ سکتا ہے۔‘ 

اشارے یہی ہیں کہ طالبان کسی بھی مستقبل کے سیٹ اپ میں اپنی اکثریت اور زیادہ سے زیادہ وزن رکھنا چاہیں گے۔ کیا اس پر ان کے مخالفین راضی ہوں گے؟ اب تک کے مصالحتی عمل میں جس طرح سے طالبان کا ’اپر ہینڈ‘ رہا ہے اس سے لگتا ہے کہ اس کے بغیر کسی معاہدے کے امکانات کم ہوں گے۔ 

خواتین کی مذاکرات میں شمولیت 

اس مرتبہ طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے لیے سرکاری وفد میں چار افغان خواتین بھی شامل ہیں۔ اس سے کوئی فرق پڑے گا نتائج پر؟ 

عائشہ کہتی ہیں کہ کچھ عرصے سے افغانستان سے متعلق جاری ڈائیلاگ میں خواتین کو نمائندگی ملتی رہی ہے اور وہ طالبان کو براہ راست مخاطب بھی کرتی رہیں ہیں۔ ’طالبان بھی خواتین سے بات چیت میں اب کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔‘ 

ایک سینیئر طالبان رہنما نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں خواتین سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ افغان صدر کی اہلیہ کو کتنا میڈیا میں یا سرکاری معاملات میں پیش پیش دیکھا جاتا ہے جو آپ ہم سے خواتین کی نمائندگی کی بات کرتے ہیں۔ 

مذاکرات کار کون ہیں؟ 

فریقین نے ان مذاکرات کے لیے 21 رکنی ٹیموں کا اعلان کر رکھا ہے۔  

بین الافغان مذاکرات کے آغاز سے چند روز قبل ہی طالبان نے اپنی مذاکراتی ٹیم میں ایک اہم تبدیلی کی جو شیر محمد عباس ستانکزئی کی جگہ شیخ عبدالحکیم کو اس کا سربراہ بنانا تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بعض لوگ اسے تنظیم کے اندر مختلف دھڑوں کی اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ایک گروپ کے خیال میں اس تبدیلی سے طالبان سربراہ ہیبت اللہ نے اپنی گرفت مضبوط کی ہے تو دوسرے کے خیال میں اس سے سیاسی دفتر کے سربراہ ملا برادر اخوند مضبوط ہوئے ہیں۔ 

افغان حکومت کی ٹیم کی قیادت معصوم ستانکزئی کر رہے ہیں جو افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کے سابق سربراہ ہیں۔ تمام 21 اراکین حکومت سے نہیں جن میں چار خواتین بھی شامل ہیں۔ افغان سرکاری ٹیم میں بھی صدر اشرف غنی اور مصالحتی کمیشن کے سربراہ عبداللہ عبداللہ کے حامیوں پر مشتمل ہے۔ اس میں حزب اسلامی افغانستان کے رہنما گلبدین حکمت یار کی نمائندگی ان کے داماد غیرت بھیر کر رہے ہیں۔ 

تاہم روس کو شکایت تھی کہ تمام گروپوں کو اس وفد میں نمائندگی نہیں دی جا رہی ہے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا