ٹک ٹاک نے مائیکروسافٹ کی پیش کش ٹھکرا دی

مشہور چینی ایپ نے اگر 20 ستمبر تک اپنا امریکی آپریشن کسی مقامی کمپنی کو فروخت نہ کیا تو اس پر پابندی لگنے کا خدشہ ہے۔

اتوار کو جاری ایک بیان کے مطابق ٹک ٹاک کو خریدنے کی دوڑ میں اس وقت واحد خریدار اوریکل موجود ہے۔ (اے ایف پی) 

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی مائیکروسافٹ نے بتایا ہے کہ مختصر ویڈیوز کی مشہور زمانہ ایپ ٹک ٹاک نے اس کی خریداری کی  پیش کش کو مسترد کر دیا ہے۔

اتوار کو جاری ایک بیان کے مطابق ٹک ٹاک کو خریدنے کی دوڑ میں اس وقت واحد خریدار اوریکل موجود ہے۔ امریکہ میں چینی ایپ ٹک ٹاک پر پابندی کے اطلاق کی ڈیڈ لائن میں محض چند روز باقی ہیں۔

امریکہ اور چین کے درمیان جاری سفارتی تنازعے میں ٹک ٹاک کو مرکزی حیثیت حاصل ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ملک میں ٹک ٹاک پر پابندی کے لیے وسط ستمبر کی ڈیڈ لائن دی تھی، جس کے بعد ٹک ٹاک کی مالک چینی کمپنی بائٹ ڈانس کو یہ ایپ کسی امریکی کمپنی کو فروخت کیے جانے پر مجبور ہونا پڑا۔

'وال سٹریٹ جنرل' اور 'نیویارک ٹائمز' میں رپورٹ کیا گیا ہے کہ اوریکل نے ٹک ٹاک کی بولی جیت لی ہے لیکن ابھی تک اوریکل نے اس  کی تصدیق نہیں کی۔ تاہم چینی سرکاری خبر رساں اداروں سی جی ٹی این اور چائنا نیوز سروس کے مطابق بائٹ ڈانس ٹک ٹاک اوریکل کو بھی نہیں بیچے گی۔

اوریکل کی بولی کو وائٹ ہاؤس اور امریکی بیرونی سرمایہ کاری کمیٹی سے منظوری درکار ہو گی لیکن ذرائع کے مطابق دونوں طرفین اس بات سے پریشان ہیں کہ اس حوالے سے امریکہ کے سکیورٹی خدشات سامنے آ سکتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اگست کے اوائل پر مائیکروسافٹ نے اشارہ دیا تھا کہ وہ ٹک ٹاک کے امریکی آپریشنز کو خریدنے میں دلچسپی رکھتے ہیں لیکن اتوار کو یہ اعلان سامنے آیا کہ اس حوالے سے مائیکروسافٹ کی پیش کش کو ٹھکرا دیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ 'بائٹ ڈانس نے ہمیں آج مطلع کیا ہے کہ وہ ٹک ٹاک کے امریکی آپریشنز ہمیں فروخت نہیں کریں گے۔'

اگست میں ہی صدرٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے ٹک ٹاک کو کسی امریکی کمپنی کو فروخت نہ کرنے کی صورت میں 20 ستمبر میں امریکہ میں پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔

امریکی صدر نے دعویٰ ٰکیا تھا کہ ٹک ٹاک کے ذریعے چین امریکی سرکاری ملازمین کی تفصیلات کو بلیک میلنگ اور جاسوسی کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ امریکہ میں ٹک ٹاک کو 17 کروڑ پچاس لاکھ بار ڈاؤن لوڈ کیا جا چکا ہے جبکہ دنیا بھر میں ٹک ٹاک کو استعمال کرنے والوں کی تعداد بھی تقریباً ایک ارب تک پہنچ چکی ہے۔

ٹک ٹاک کی جانب سے امریکی کریک ڈاؤن کے خلاف قانونی چارہ جوئی بھی کی جا رہی ہے۔ ٹک ٹاک کا موقف ہے کہ امریکی صدر نے اپنی اختیارات کا ناجائز استعمال کیا کیونکہ ٹک ٹاک کوئی ہنگامی یا خطرناک حیثیت رکھنی والی ایپ نہیں۔

ٹک ٹاک کی نیلامی ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان تعلقات مزید کشیدہ ہو رہے ہیں، جن میں اکثر تجارت، انسانی حقوق اور کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو موضوع تنقید بنایا جا رہا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی