ایران نے سلامتی کونسل میں امریکہ پر فتح حاصل کر لی: حسن روحانی

کابینہ اجلاس میں ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ’ایرانی قوام نے اقوام متحدہ میں ایک عظیم سیاسی، قانونی اور سفارتی فتح حاصل کی ہے۔‘

ایرانی صدر نے کابینہ اجلاس میں خطاب کے دوران کہا کہ ’ہماری کامیابی عوام کی حمایت اور مزاحمت میں پوشیدہ ہے۔‘ (اے ایف پی/ ایچ او/ ایرانی صدارتی محل)

ایران کے صدر حسن روحانی کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکی پابندیوں کو ’مسترد‘ کیا جانا ایران کی ’فتح‘ ہے۔

ایرانی ٹیلی ویژن پر براہ راست دکھائے جانے والے کابینہ اجلاس میں ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ’ایرانی قوام نے اقوام متحدہ میں ایک عظیم سیاسی، قانونی اور سفارتی فتح حاصل کی ہے۔‘

حسن روحانی نے بدھ کو کابینہ اجلاس میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران پر پابندیوں کی کوشش کو مسترد کرنے کو ایران کی ’فتح‘ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ’ہماری کامیابی عوام کی حمایت اور مزاحمت میں پوشیدہ ہے۔‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حسن روحانی کا کہنا تھا کہ ’امریکہ کی وہ عالمی برتری ختم ہو چکی ہے جس کے بارے میں وہ سوچتے تھے۔‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018 میں ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے یک طرفہ علیحدگی کے بعد ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

یہ پابندیاں ایران کی تباہ حال معیشت کے لیے مزید مشکلات کا باعث بن رہی ہیں جبکہ رد عمل میں ایران نے اپنے یورنیم افزودگی کی مقدار کو بتدریج بڑھانا شروع کر دیا ہے۔

ایران کے مطابق ایسا امریکی پابندیوں کے جواب میں کیا جا رہا ہے جبکہ امریکہ اس کو ایران کے ساتھ کیے جانے والے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی قرار دے کر ایران پر مزید پابندیاں عائد کرنے کا خواہاں ہے۔

امریکہ بضد ہے کہ وہ ابھی تک ایران کے ساتھ کیے جانے والے جوہری معاہدے کا ایک فریق ہے لیکن اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان نے امریکہ کے اس دعوے کو ’مسترد‘ کر دیا ہے۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں نے ایران کی ’خلاف ورزیوں‘ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپ امریکہ کے ساتھ ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کرنے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

تاہم ایرانی صدر حسن روحانی نے فرانسیسی صدر کے بیان پر کوئی رد عمل نہیں دیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب عرب نیوز کے مطابق سعودی عرب کی کابینہ کے اجلاس میں مشرق وسطیٰ کو عدم استحکام سے دوچار کرتی اور دنیا بھر میں ’دہشت گردی‘ پھیلانے پر مبنی ایران کی کوششوں کا بھرپور سامنا کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ایسے اشتعال انگیز ’رویے‘ کو ختم کرنے پر رضامندی ظاہر کر کے ہی ایران کو عالمی برادری میں واپس شامل کیا جا سکتا اور اس پر عائد پابندیاں اٹھائی جا سکتی ہیں۔

کابینہ اجلاس کی صدارت سعودی عرب کے فرماں رواہ شاہ سلمان نے کی۔

اجلاس میں مزید کہا گیا کہ ایسا رویہ ہی ایرانی عوام کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ سعودی کابینہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کے ساتھ  مستقبل میں ہونے والے کسی بھی معاہدے میں جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ اور خطے کو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے پاک رکھنے کو یقینی بنانے کی شقوں کو ضرور شامل کیا جانا چاہیے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا