تازہ سیاسی راؤنڈ: کون کتنا عریاں ہوا؟

فریقین ایک دوسرے کو گندا کرنے کے چکر میں سیاست کا ہی منہ کالا کر رہے ہیں۔ دوسری جانب دکھاؤے کی سیاست اور پس پردہ کچھ اور بھی ثابت ہوا کہ ہماری سیاست کا معیار برقرار ہے۔

(سوشل میڈیا)

سیاست واقعی ایک گورکھ دھندا ہے لیکن اتنا گندا اور اتنا بدلحاظ کہ توبہ ہی بھلی۔ سابق حکمراں جماعت مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف نے پہلے گذشتہ اتوار اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کل جماعتی کانفرنس میں کیا کیا اور اب فوج نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے ایک ’خفیہ‘ ملاقات کا کچا چٹھا عام کر دیا۔

فریقین ایک دوسرے کو گندا کرنے کے چکر میں سیاست کا ہی منہ کالا کر رہے ہیں۔ دوسری جانب دکھاؤے کی سیاست اور پس پردہ کچھ اور بھی ثابت ہوا کہ ہماری سیاست کا معیار برقرار ہے۔

مسلم لیگ ن تو بےنقاب ہوئی ہی لیکن ملکی فوجی قیادت جس طرح چاہتی ہے کہ سیاست میں نہ گھسیٹا جائے سیاست دانوں سے تواتر میں رابطے میں ہے اور ملاقاتیں جاری رکھے ہوئے ہیں، اس پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا ہے اور لوگ پوچھ رہے ہیں کہ کیا یہ ملاقاتیں ہونی چاہیے تھیں؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گلگت بلتستان کو تو چلیں سکیورٹی مسئلے کا رنگ دے کر کہا جا سکتا ہے کہ فوجی قیادت سیاسی اتفاق رائے کی خواہاں تھی لیکن مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما اور مریم نواز کے قریبی ساتھی محمد زبیر کی فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ گذشتہ ایک ماہ میں دو ملاقاتیں کیا بتاتی ہیں؟

نجی ٹی وی چینل اے آر وائی سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ آرمی چیف سے محمد زبیر کی دو ملاقاتیں اگست کے اواخر اور ستمبر کے آغاز میں ہوئی ہیں جن میں نواز شریف اور مریم نواز بھی گفتگو کا موضوع رہے۔

خود کو پاکستان فوج کا سیاسی ترجمان مقرر کرنے والے وفاقی وزیر شیخ رشید کے بیانات سے بھی شاید وہ مطمئن نہیں تھے۔ اس مرتبہ کسی ذرائع سے خبر نہیں چلائی گئی بلکہ خود اپنے پسندیدہ چینل پر آ کر ملاقات کے بارے میں بتانا ظاہر کرتا ہے کہ  فوج اپنی شبیہہ بچانے کی خاطر کتنی پریشان ہے۔

اگرچہ محمد زبیر کے مطابق ملاقات کا موضوع معاشی صورت حال تھی لیکن انہوں نے تسلیم کیا کہ پارٹی قیادت سے متعلق بھی بات ہوئی۔

محمد زبیر کا ان ’خفیہ‘ ملاقاتوں کے بارے میں مریم نواز کو آگاہ نہ کرنا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ پھر مریم نواز کا احتساب عدالت میں پیشی کے موقعے پر گلگت بلتستان کو پارلیمان میں لانے کی بات بظاہر آدھا سچ دکھائی دیتا ہے۔ انہیں پھر اپنے ’سیاسی مقدمات‘ کو بھی پارلیمان میں لانے کی بات کرنی چاہیے تھی۔

ٹوئٹر پر ان کے مخالفین کے لیے یقیناً یہ سنہرا موقع ہے۔ MaryamExposedAgain# کا ٹرینڈ قابل فہم ہے۔

ایک صارف آزاد رینچ نے لکھا کہ مریم نواز نے ایک مرتبہ پھر اپنے آپ کو مسلم لیگ کے بیانیے کی خود تباہی کی طاقت ثابت کیا ہے۔

مسلم لیگ نے فی الحال خاموش ہے۔ یقیناً جو کچھ کیا اس پر کیسا اور کون سا پردہ ڈالنا ہے اس پر تفصیل سے غور ہو رہا ہوگا۔ نیا بیانیہ شاید بنانے میں وقت لگتا ہے۔

اب تلواریں ایک مرتبہ پھر نیام سے باہر ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ کس کا امیج کتنا مزید زخمی ہوتا ہے۔ فوج نے جو کہنا تھا کہہ دیا بہتر یہی ہے کہ مزید کچھ نہ کہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست