مظفرآباد کے محمد فرید جنہیں بیوی کی جدائی نے خدمت خلق میں لگا دیا

آٹھ سال قبل بروقت گاڑی نہ ملنے کی وجہ سے بیوی کے علاج میں تاخیر کے باعث موت کے بعد سے محمد فرید نے ان کے ایصال ثواب کے لیے مریضوں اور نادار افراد کے لیے مفت رکشہ سروس چلانے کا فیصلہ کیا۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے شہر مظفرآباد کے محمد فرید قریشی گذشتہ آٹھ سالوں سے اپنے رکشے پر معذور افراد، مریضوں اور یتیم بچوں کو بغیر کسی معاوضے کے پِک اینڈ ڈراپ کی سہولت دیتے ہیں۔

ان کی زندگی میں یہ سب آٹھ سال پہلے شروع ہوا جب ان کی اہلیہ چھت سے گرنے کی وجہ سے ریڑھ کی ہڈی ٹوٹنے سے معذور ہو گئیں۔ بروقت گاڑی نہ ملنے کی وجہ سے ہسپتال جانے میں تاخیر ہوئی اور وقت پر علاج نہ ہو پایا اور وہ چل بسیں۔ 

اہلیہ کے دنیا سے جانے کے بعد محمد فرید قریشی نے اپنی بیوی کی محبت اور ایصال ثواب کے لیے مریضوں اور نادار افراد کے لیے مفت رکشہ سروس چلانے کا فیصلہ کیا۔

محمد فرید قریشی کا کہنا ہے: 'میں اپنی بیوی سے بہت محبت کرتا تھا اور ان کی موت کے بعد ان کے بغیر رہنا مشکل تھا تو سوچا کہ کیوں نہ ایسا کام کروں جس سے بیوی کی یاد ہمیشہ میرے ساتھ رہے اور ان کو ثواب بھی ملتا رہے۔'

انہوں نے مزید کہا: 'میری بیوی بروقت ہسپتال نہ پہنچنے کی وجہ سے فوت ہوئیں، میری طرح کے کتنے اور لوگ ہوں گے جو پیسے نہ ہونے کی وجہ سے ہسپتال نہیں جا سکتے ہوں گے تو مجھے ان کے لیے کچھ کرنا چاہیے۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

محمد فرید قریشی نے بتایا کہ انہوں نے غریب اور نادار افراد کے لیے مفت گاڑی چلانے کے حوالے سے سوچ بچار شروع کی لیکن وسائل نہ ہونے کی وجہ سے گاڑی لینا مشکل تھا تو ایک آدمی کے پاس رکشہ تھا اس سے بات کی اور چار سو روپے دہاڑی پہ رکشہ لے لیا۔

رکشہ حاصل کرنے کے بعد انہوں نے ایک بینر بنوایا جس پر اپنے موبائل نمبر کے ساتھ یہ تحریر لکھی۔ 'غریب نابینا، معذور افراد مفت سفر کر سکتے ہیں۔'

محمد فرید قریشی کے مطابق: 'جس کو بھی رکشہ چاہیے ہو وہ مجھے کال کر کے بلا لیتا ہے اب تو مظفرآباد میں ایک سو سے زیادہ لوگ مستقل رابطے میں ہیں جن کو گھر سے ہسپتال اور ہسپتال سے گھر پہنچانا ہوتا ہے۔

محمد فرید قریشی نے بتایا کہ مستحق افراد کی سروس سے جو وقت بچتا ہے اس میں وہ عام سواری بٹھاتے ہیں اور ان سے مناسب پیسے لیتے ہیں جس سے رکشے کے مالک کو روز کے چار سو روپے ادا کرتے اور پیٹرول ڈلواتے کرتے ہیں۔  

وہ کہتے ہیں: 'میرا مقصد اب یہی ہے کہ میں ان لوگوں کی خدمت کرتا رہوں اور کر بھی رہا ہوں۔ میری خواہش ہے کہ میری اپنی ایک ایمبولینس ہو تا کہ میں مزید لوگوں کے کام آ سکوں۔'

محمد فرید قریشی کا مزید کہنا تھا: 'پورا دن اگر لوگوں سے پیسے لے کر رکشہ چلاتا رہوں تو سکون نہیں ملتا لیکن ایک بھی غریب نادار یا یتیم بچہ میرے ساتھ بیٹھے جس کے پاس پیسے نہ ہوں اس منزل پر پہنچا کر جو سکون ملتا ہے اس کا کوئی نعم البدل نہیں۔'

'میری تمام لوگوں سے درخواست ہے کہ مستحق لوگوں کی مدد کے لیے سامنے آئیں اس سے دلی سکون بھی نصیب ہو گا اور بھلائی بھی ملے گا۔ میرا یہ کام دلی سکون کے ساتھ ساتھ اپنی بیوی کے لیے ہے کہ اس کی محبت ہمیشہ امر رہے۔'

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان