دلت کون ہیں اور ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟

بھارتی ریاست اترپردیش میں ایک دلت عورت کے ریپ اور قتل نے بھارتی معاشرے میں ذات پات کی تقسیم کی حدوں کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

بھارت میں دلت عورت کے ریپ کے بعد بڑے پیمانے پر مظاہرے ہو رہے ہیں (اے ایف پی)

پہلے اچھوت کہلانے والی بھارت کی دلت برادری سے تعلق رکھنے والے ایک عورت کے بیہمانہ گینگ ریپ اور قتل نے ایک بار بھر ملک کی ہندو ذاتوں کے درمیان ذات پات کو موضوع  بحث بنا دیا ہے۔

بھارت کی سب سے گنجان آباد ریاست اتر پردیش میں 19 سالہ خاتون پر حملے کے بعد ریاست کے حکمران یوگی ادتیہ ناتھ اور وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مظاہروں اور تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔ دونوں کا تعلق قوم پرست ہندو جماعت سے ہے۔

خواتین کے ایک گروہ کا کہنا ہے کہ مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کے تحت اتر پردیش ’بھارت کی ریپ ریاست‘ بن چکی ہے۔ آل انڈیا ڈیموکریٹک ویمنز ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب حکومتی اعداد و شمار میں اتر پردیش کو خواتین کے لیے ملک کی سب سے غیر محفوظ ریاست قرار دیا گیا ہے۔

بھارت میں ذات پات کا نظام کیا ہے؟

ملک میں ذاتوں کی تاریخ ابھی تک ایسا موضوع ہے جس پر بہت بحث ہوتی ہے لیکن دانشوروں کا عمومی طور پر خیال ہے کہ یہ تین ہزار سال قدیم نظام ہے جس کے تحت ہندوؤں کے مختلف گروہوں کو طبقات میں تقسیم کیا گیا تھا۔

البتہ اس کی شدت میں صدیوں کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا آیا ہے۔ یہ نظام نام نہاد اونچی ذاتوں کے ارکان کے حق کو مزید مضبوط کرتا ہے جب کہ نچلی ذاتوں کے ساتھ برے سلوک کو جائز قرار دیتے ہوئے ان کے لیے خاص طرح کی اور کم اہمیت کے حامل پیشوں کو مخصوص کرتا ہے۔

تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ یہ نظام صدیوں سے ایسے ہی موجود تھا یہاں تک کہ برطانوی نو آبادیاتی حکمرانوں نے اسے بھارت میں مردم شماری کو آسان بنانے کے اور حکومت میں آسانی کے لیے نافذ کر دیا۔

سال 1950 میں آزاد بھارت کے آئین نے ملک میں ذاتوں پر مبنی امتیاز پر پابندی عائد کر دی تھی جب کہ اس کے بعد آنے والی حکومتوں نے نچلی ذاتوں کی ترقی کے لیے مختلف پالیسیوں کا اطلاق بھی کیا ہے۔ لیکن بھارت بھر میں خاص طور پر بڑے شہروں کے باہر یہ نظام مختلف قسم سطحوں پر آج بھی رائج ہے۔

بھارت میں کون کون سی ذاتیں ہیں؟

جدید دور میں اس نظام کی تعریف کے مطابق ہندووں کو چار مختلف طبقات میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں سب سے اونچا درجہ برہمنوں کو دیا گیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تنزلی کے اعتبار سے کشتری (جنگجو اور حکمران) دوسرے، ویش (کسان اور تجار) تیسرے جب کہ شودر (مزدور) چوتھے درجے پر ہیں۔ یہ تعرفیں ہندووں کی مقدس کتابوں خاص طور پر ’منوسمرتی‘ سے لی گئی ہیں۔

ان طبقات کے اندر پھر تین ہزار مزید ذاتیں اور 25 ہزار ذیلی ذاتیں ہیں جن کو عام طور پر ایک ہی قسم کے پیشے تک محدود رکھا جاتا ہے۔ دیہی بھارت میں ایک ہی ذات سے تعلق رکھنے والے افراد کو خاندانی نام سے پہچانا جاتا ہے۔

سال 2019 میں آنے والی کتاب ’دا ٹروتھ اباؤٹ اس‘ میں سنجوئے چکرورتی نے لکھا کہ ذاتوں پر مبنی نظام 18ویں اور 19ویں صدی میں برطانوی نو آبادیاتی دور میں بڑے پیمانے پر نافذ کیا گیا جس کا مقصد بھارتی آبادی کی مردم شماری کو آسان بنانا تھا جس کو حکمرانی میں سہولت پیدا کرنے کے لیے بھی استعمال کیا گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ اس سے قبل بھارت میں ذاتوں کو دوسری سماجی تقسیم کے مقابلے میں اتنی زیادہ اہمیت حاصل نہیں تھی۔

دلت کون ہیں؟

دلت بھارت میں ایک اقلیت ہیں جن کی آبادی لگ بھگ 20 کروڑ ہے جو تاریخ میں ہندو طبقاتی نظام میں اچھوت کے طور پر رہے ہیں اور انہیں ہمیشہ معمولی نوکریاں دی جاتی تھیں۔ یہ اس سے قبل اچھوت، یا جن کو چھوا نہ جا سکے، کے نام سے بھی جانے جاتے تھے۔

یہ ایسی اقلیت کی نمائندگی کرتے ہیں جسے مختلف طریقوں سے دبایا جاتا ہے اور ان کی سماجی ترقی کی راہ میں مشکلات کھڑی کی جاتی ہیں اور تعصب برتا جاتا ہے لیکن کچھ دلت رہنما ملک کے اہم عہدوں تک پہنچنے میں بھی کامیاب رہے ہیں۔

آج کے بھارت میں یہ نظام کتنا حاوی ہے؟

بھارتی شہری علاقوں میں یہ نظام کم حاوی ہے جہاں سماج کے مختلف طبقات قریب رہتے ہیں اور مختلف ذاتوں کے درمیان شادیاں ہوتی ہیں، لیکن دیہی بھارت میں ایک ہی ذات سے تعلق رکھنے والے افراد ایک ساتھ رہتے ہیں جن کی برادری کی حدود واضح ہوتی ہیں جب کہ مختلف علاقوں کے درمیان ہونے والے تنازعات کو مختلف ذاتوں کے ارکان کے درمیان تنازعے کے طور پر ہی دیکھا جاتا ہے۔

الیکشن کے دنوں میں ذات پات کے اس نظام پر بہت کھل کر بولا جاتا ہے۔ زیادہ تر ووٹنگ اپنی ذات کے حوالے سے مدنظر رکھ کر ہی کی جاتی ہے جبکہ ہمیشہ یہی امید رکھی جاتی ہے کہ ایک خاص ذات کے لوگ لگ بھگ ایک ہی انداز میں ووٹ دیں گے۔

ایسی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں جو اس مشکل سچائی کا سامنا کرنے میں مدد دیں۔ ان کوششوں میں 2019 میں ایوشمان کھرانا کی فلم ’آرٹیکل 15‘ شامل ہے جو بالی وڈ کی پہلی بلاک بسٹر فلم تھی جس نے ذات پات پر مبنی مظالم کو کھل کر للکارا ہے۔

جنوبی بھارت میں زیادہ تر لوگ خود کو ایک ہی نام سے پکار کر ذات پات کی نفی کر رہے ہیں۔ اس کا مقصد ذات پات کے اس نظام کو مسترد کرنا ہے جو خاندانی نام سے منسلک ہوتا ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا