کیا کشمیری عسکریت پسند نوکریوں اور کاروبار کے بدلے ہتھیار ڈالیں گے؟

بھارتی حکومت نے ماضی کی طرح ایک مرتبہ پھر کشمیری عسکریت پسندوں کو ہتھیار ڈالنے کے بدلے سرکاری نوکریوں اور اپنا کاروبار شروع کرنے کی پیشکش کی ہے، لیکن کیا کشمیری نوجوان اس آفر سے فائدہ اٹھائیں گے؟

ایک کشمیری نوجوان احتجاج کے دوران سکیورٹی اہلکار پر پتھر پھینک رہا ہے(روئٹرز)

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں حکومت نے مقامی عسکریت پسندوں کو ہتھیار ڈالنے کے بدلے سرکاری نوکریوں اور اپنا  کاروبار شروع کرنے کے مواقعے فراہم کرنے کی پیشکش کر دی ہے۔

کشمیری عسکریت پسندوں کو یہ پیشکش سری نگر میں تعینات بھارتی حکومت کے نمائندے یا لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کی۔انہوں نے گذشتہ روز عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں کا مرکز سمجھے جانے والے جنوبی کشمیر میں ایک تقریب کے حاشیے پر نامہ نگاروں کو بتایا: 'میری مقامی عسکریت پسند نوجوانوں سے اپیل ہے کہ وہ قومی دھارے میں شامل ہوجائیں۔'

ان کا مزید کہنا تھا: 'یہ نوجوان جموں و کشمیر کو بھارت کی سب سے اچھی اور مستحکم ریاست بنانے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ہم انہیں روزگار اور کاروبار شروع کرنے کے مواقعے فراہم کریں گے۔'

ایک سرکاری عہدے دار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ بھارت کی وزارت داخلہ نے کشمیر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اشتراک سے مقامی عسکریت پسندوں کی گھر واپسی (سرنڈر) اور بازآبادکاری کے لیے ایک نئی پالیسی بنائی ہے جس کو بہت جلد نافذ کیا جائے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ مذکورہ پالیسی کے مسودے پر کام 2018 میں اس وقت شروع ہوا تھا جب یہاں ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اور مقامی سیاسی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی مخلوط حکومت تھی۔ذرائع نے بتایا کہ اس پالیسی کو 2019 میں نافذ کیا جانا تھا لیکن پانچ اگست، 2019 کو کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے کے بعد اس پر عمل درآمد کو التوا میں رکھا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ بھارتی حکومت کا ماننا تھا کہ کشمیر کو بھارت کے ساتھ ضم کرنے سے یہاں عسکریت پسندی ختم ہوجائے گی لیکن مختلف اقدامات، بشمول عسکریت پسندوں کے جلوس جنازوں کو ناممکن بنانے، کے باوجود مقامی نوجوانوں کی جانب سے عسکریت پسندوں کی صفوں میں شمولیت کا گراف بلند ہوتا نظر آ رہا ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو نے عسکریت پسندوں کی گھر واپسی اور بازآبادکاری کے لیے نافذ ہونے والی نئی پالیسی کے اہم پہلوؤں کے بارے میں معلومات  حاصل کرنے کے لیے حکومتی ترجمان روہت کنسل سے کئی مرتبہ رابطہ کیا لیکن ان کا ہر بار کہنا تھا کہ 'ابھی میں بہت مصروف ہوں'۔

کشمیر کے سابق گورنر ستیہ پال ملک نے گذشتہ برس 24 جنوری کو انکشاف کیا تھا کہ عسکریت پسندوں کی گھر واپسی اور بازآبادکاری کے لیے ایک نئی پالیسی بنائی جا رہی ہے۔ان کا تب کہنا تھا: 'مجھے انسانی جانوں ،چاہے وہ عسکریت پسند ہی کیوں نہ ہوں، کے زیاں سے تکلیف پہنچتی ہے۔ ہم لوگ چاہتے ہیں کہ سبھی کشمیری عسکریت پسند واپس آئیں۔ ہم ان کو بازآبادکاری کی پیشکش کریں گے۔ مارنا کوئی علاج نہیں۔'

ستیہ پال ملک کے اس انکشاف کے بعد سری نگر میں موجود فوج کی 15 ویں کور کے اس وقت کے جی او سی لیفٹیننٹ جنرل کنول جیت سنگھ ڈھلن نے کشمیری والدین سے کہا تھا: 'مہربانی کر کے آپ اپنے بچوں سے کہیں کہ وہ خودسپردگی اختیار کریں۔ حکومت ایک بہت اچھی سرنڈر و بازآبادکاری پالیسی بنا رہی ہے۔ اس کا مقصد ہے کہ بھٹکے ہوئے نوجوان خودسپردگی اختیار کر کے اپنی زندگی آرام سے گذاریں، جس کسی نے بندوق اٹھائی ہے اس کو مارا جائے گا۔ خودسپردگی اختیار کرنے والے نوجوان بچ جائیں گے۔'

تاہم بھارت نواز سیاسی جماعت نیشنل کانفرنس کے سینیئر رہنما ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال نے مجوزہ سرنڈر و بازآبادکاری پالیسی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ کشمیری عسکریت پسندوں کو پیسوں سے خریدا نہیں جاسکتا۔

انہوں نے یہ الزام بھی لگایا تھا کہ ریاستی اور مرکزی حکومت اس مجوزہ پالیسی کے ذریعے خود میدان میں اتارے گئے ایجنٹوں کی بازآبادکاری کرنا چاہتی ہے۔

بھارتی سکیورٹی اداروں کے مطابق کشمیر میں اس وقت 250 سے300 عسکریت پسند سرگرم ہیں جن میں سے قریب 100 غیر ملکی ہیں۔ نیز اس سال اب تک مارے جانے والے عسکریت پسندوں کی تعداد 180 بتائی جا رہی ہے۔

این ڈی ٹی وی نے حال ہی میں اپنی ایک رپورٹ میں بھارتی وزارت داخلہ کے عہدےداروں کے حوالے سے کہا کہ کشمیر میں رواں سال کے پہلے سات ماہ کے دوران 90 مقامی نوجوانوں نے عسکریت پسندوں کی صفوں میں شمولیت اختیار کی۔

 کیا کشمیری عسسکریت پسند ہتھیار ڈالیں گے؟

انڈپینڈنٹ اردو نے جب کشمیر پولیس کے سابق سربراہ ڈاکٹر شیش پال وید سے پوچھا کہ کیا یہ مجوزہ پالیسی کامیاب ثابت ہوگی؟ تو ان کا جواب تھا: 'مجھے امید ہے کہ اس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔کشمیری نوجوانوں کو پاکستان میں بیٹھے لوگ بھڑکاتے ہیں اور یہ بے چارے مارے جاتے ہیں۔ ان کے کنبے برباد ہو جاتے ہیں۔'

ڈاکٹر وید نے یہ بھی تصدیق کی کہ اس بازآبادکاری پالیسی پر کام سیاسی طور پر منتخب بی جے پی اور پی ڈی پی کی مخلوط حکومت کے دوران شروع ہوا تھا اور اس کا بنیادی خاکہ بھی تیار کیا گیا تھا۔ان کا کہنا ہے کہ پالیسی کی کامیابی میں عسکریت پسندوں کے کنبوں اور ان کے رشتہ داروں کا اہم کردار بنتا ہے۔'میں جب پولیس سربراہ تھا ہم نے کنبوں اور رشتہ داروں کی مدد سے بہت سے نوجوانوں کو واپس لانے میں کامیابی حاصل کی تھی۔'

یہ پوچھے جانے پر کہ کشمیری نوجوان بندوق کیوں اٹھاتے ہیں؟ تو سابق پولیس سربراہ کا کہنا تھا: 'کسی کو مارنا حل نہیں۔ جب مقامی نوجوان مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں تو اس کا فائدہ پار والے اٹھاتے ہیں۔ وہ سوشل میڈیا استعمال کر کے ان کو بھڑکاتے ہیں۔ نتیجتاً وہ عسکریت پسندی کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔

'بھارت ایک بہت بڑا ملک ہے۔ کہیں کوئی مجرمانہ واقعہ پیش آتا ہے تو اس کو میڈیا میں خوب اچھالا جاتا ہے۔ یہ بتایا جاتا ہے کہ بھارت میں آپ کا رہنا ٹھیک نہیں۔ اس سے بھی لڑکے بھڑک جاتے ہیں۔ کوئی بیف لے کر جا رہا ہے تو اس کو شرارتی عناصر مارتے پیٹتے ہیں۔ ہر ایک کو اپنی پسند کی چیزیں کھانے کا حق ہے۔ اس طرح کے واقعات سے پورے ملک کی شبیہ خراب ہو جاتی ہے۔ اس طرح کے واقعات کو پاکستان میں بیٹھے لوگ بہت اچھالتے ہیں۔'

ڈاکٹر وید نے بتایا کہ وہ ذاتی طور پر عسکریت پسندی کو روکنے کے لیے کثیر الجہت حکمت عملی کے حق میں ہیں تاکہ مختلف محاذوں پر نوجوانوں کے مسائل کا حل نکالا جائے۔ 'زیر تعلیم طلبا غلط راستے پر نہ جائیں اس کو یقینی بنانے میں سول انتظامیہ کا کردار بنتا ہے۔ نوجوانوں کو مختلف سرگرمیوں میں مصروف رکھنے کی ضرورت ہے۔ نوجوان اچھی اچھی سرگرمیوں میں مصروف رہیں گے تو ان میں تعمیری سوچ پیدا ہوگی۔ وادی اتنی بڑی نہیں،  یہ چیزیں بہ آسانی کی جا سکتی ہیں۔'

کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ انگریزی کی سابق پروفیسر اور کشمیر سینٹر فار سوشل اینڈ ڈیولپمنٹ سٹڈیز کی چیئرپرسن ڈاکٹر حمیدہ نعیم نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اس طرح کی پالیسیوں سے آج تک کچھ نہیں بدلا۔'یہ ایسی پالیسیاں لاتے رہیں گے۔ آج تک ان پالیسیوں سے کچھ نہیں بدلا ہے۔ یہ محض ایک شوشہ ہے۔ اب لڑکے سرنڈر کریں گے یا نہیں بہتر یہ ہوتا اگر کوئی یہ سوال ان لڑکوں سے پوچھتے۔

'ہم سے سب کچھ چھینا گیا ہے۔ نوجوانوں کو لگتا ہے کہ ان کا کوئی مستقبل نہیں۔ ہم سب کی حیثیت اب غلاموں جیسی ہے۔ یہ باتیں کرنے سے بھی اب بہت تکلیف ہوتی ہے۔'

نیشنل کانفرنس کے سینیئر رہنما اور رکن پارلیمان جسٹس (ر) حسنین مسعودی نے  کہا کہ ایسی پالیسیاں بنانے کی بجائے بنیادی مسئلے کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔ 'کشمیر کا مسئلہ ترقی یا روزگار نہیں۔ یہ وہ مسئلہ ہے جو سیاسی خواہشات کو پورا کرنے سے حل ہوگا۔ اگر حکومت واقعی امن قائم کرنا چاہتی ہے تو اس کو یہاں کے لوگوں کی سیاسی خواہشات کو پورا کرنا ہوگا۔ جب آپ سیاسی خواہشات کو پورا کریں گے تو ترقی بھی آئے گی اور امن بھی۔

'لیکن ہمارا تجربہ کہتا ہے کہ اب تک حکومت کے تمام وعدے اور دعوے سراب ثابت ہوئے ہیں۔ اب وہ جو بھی نئے ٹولز استعمال کرتے ہیں وہ بھی بے نتیجہ ثابت ہوں گے۔'

حسنین کے مطابق بھارتی حکومت کو اس بات کا احساس ہوچکا ہے کہ کشمیر عوام نے پانچ اگست، 2019 کے یکطرفہ فیصلوں کو مسترد کیا ہے۔'میں نے بھارتی پارلیمان میں بھی کہا کہ آپ نے کشمیر میں بہت تجربے کیے لیکن یہ ہر بار ناکام ثابت ہوئے،  جذبات کو مارا نہیں جا سکتا، یہ یہاں تیز رفتار انٹرنیٹ خدمات کو بحال کرنے کی ہمت نہیں کر پاتے ہیں۔

'یہ لوگ کشمیر اور اس کی سرحدوں پر خاموشی بنائے رکھنے کے لیے ہر سال 65 بلین روپے خرچ کرتے ہیں۔ اس پیسے پر بھارت کی غریب عوام کا حق ہے جو پینے کے صاف پانی اور سڑک رابطوں سے محروم ہیں۔'

جواہر لعل نہرو یونیورسٹی نئی دہلی کے ایک کشمیری ریسرچ سکالر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ اگرچہ ماضی میں ایسی کوششیں ناکام ثابت ہوئی ہیں لیکن اب دیکھنے والی بات یہ ہوگی کہ نئی پالیسی میں نیا کیا ہے۔'حکومت کو اس طرح کی پالیسی لانے کے ساتھ ساتھ مسئلے کے تمام  فریقین کے ساتھ مذاکرات بھی شروع کرنے چاہییں۔ مذاکرات اگر خلوص پر مبنی ہوں تو ہوسکتا ہے کہ عسکریت پسندی کا گراف نیچے آئے۔'

 سابقہ پالیسیاں

کشمیر میں عسکریت پسندوں کے لیے سرنڈر و بازآبادکاری کی پہلی پالیسی1995 میں بنائی گئی۔ اس پالیسی کے تحت سرنڈر کرنے والے عسکریت پسندوں کو ڈیڑھ لاکھ روپے ان کے بینک کھاتوں میں فکسڈ ڈیپازٹ کے طور پر جمع کیے جانے اور انہیں ماہانہ 18 سو روپے بطور مشاہرہ دیے جانے کا اعلان کیا گیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نیز اسلحہ سرنڈر کرنے پر نقدی انعام سے نوازنا اور انہیں روزگار کے حصول کے لیے پیشہ ورانہ تربیت دینا بھی شامل تھا۔

اس پالیسی کے تحت پہلے دو برسوں کے دوران 1317 مبینہ عسکریت پسندوں نے خود سپردگی اختیار کی اور مجموعی طور پر قریب 2200 مبینہ عسکریت پسندوں نے سرنڈر کیا۔

سال 2004 میں عسکریت پسندوں کے لیے ایک اور بازآبادکاری پالیسی کا اعلان کیا گیا۔ اس پالیسی کے تحت عسکریت پسندی کا راستہ ترک کرنے اور آئین ہند کو تسلیم کرنے والے عسکریت پسندوں کو سہولیات بہم پہنچانا مقصود تھا۔

یہ پالیسی سال 1995 کی سرنڈر پالیسی جیسی تھی۔ اس کے تحت اسلحہ سرنڈر کرنے پر نقدانعام اور پیشہ ورانہ تربیت کے علاوہ ڈیڑھ لاکھ روپے بینک اکاؤنٹ میں فکسڈ ڈیپازٹ کے طور پر جمع کیے جانے کا اعلان کیا گیا، تاہم ماہانہ وظیفہ 18 سو بڑھا کر دو ہزار روپے کر دیا گیا تھا۔

عسکریت پسندوں کی اس گھر واپسی و بازآباد کاری پالیسی کے تحت سال 2015 تک 432 مبینہ عسکریت پسند اس کے مالی مراعات سے بہرہ مند ہوئے۔ تاہم سال 1995 کی پالیسی کی طرح اس پالیسی کا محور بھی عسکریت پسندوں کو مالی مراعات دے کر سرنڈر کرنے کے لیے آمادہ کرنا ہی تھا۔

سال 2010 میں سرحد پار کرنے کے بعد وہاں عسکریت پسندی کا راستہ ترک کرنے والے سابق عسکریت پسندوں کی وطن واپسی کے لیے ایک پالیسی کا اعلان کیا گیا، یہ پالیسی گذشتہ دو پالیسیوں کے نسبت ایک جامع پالیسی تھی۔

اس پالیسی کے تحت پاکستان یا پاکستان زیر انتظام کشمیر میں رہائش پذیر سابق کشمیری عسکریت پسندوں کو کشمیر واپس آنے کے لیے چار راستے متعین کیے گئے ایک واہگہ اٹاری، دوسرا چکن دا باغ تیسرا سلام آباد اور چوتھا اندرا گاندھی بین الاقومی ایئر پورٹ نئی دہلی۔

چونکہ ان کشمیری سابق عسکریت پسندوں میں سے کئیوں نے پاکستان میں گھر بسائے تھے لہٰذا انہیں اپنے اہل و عیال کے ساتھ واپس لوٹنے کی اجازت تھی۔ یہ پالیسی بھی زیادہ کارگر ثابت نہیں ہوئی۔  اس کے تحت 4587 کشمیری وطن واپس لوٹے باقی ماندہ کشمیریوں نے سرحد پار ہی زندگی گذر بسر کرنے کو ترجیح دی۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا