سانحہ آٹھ اکتوبر: 'ہڈیاں اور خواب ٹوٹے، مگر حوصلہ سلامت رہا'

آٹھ اکتوبر 2005 کو آنے والے زلزلے نے ڈاکٹر وقاص علی کوثر کا بیڈ منٹن کا قومی کھلاڑی بننے کا خواب چکنا چور کر دیا مگر انہوں نے اپنے خوابوں کو ایک الگ انداز میں پورا کیا۔

آٹھ اکتوبر 2005 کو آنے والے تباہ کن زلزلے کو پندرہ سال مکمل ہو گئے ہیں۔ یہ زلزلہ اس خطے پر بے شمار انمٹ نقوش چھوڑ گیا۔ 

پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں یہ زلزلہ چند لمحوں میں کم و بیش ایک لاکھ انسانی زندگیاں نگل گیا، وہیں ہزاروں لوگوں کوایسے  ناقابل فراموش زخم دے گیا جو بظاہر مندمل ہونے کے باوجود ہر سال آٹھ آکتوبر کا دن قریب آتے ہی تازہ ہو جاتے ہیں۔

اس زلزلے نے جہاں لاکھوں عمارتیں ملیا میٹ کیں وہیں ہزاروں خواب بھی چکنا چور کر دیے۔ ریزہ ریزہ ہو کر بکھرنے والے ان گنت خوابوں میں ایک خواب سترہ سالہ وقاص علی کوثر کا بھی تھا جو اس سانحہ سے پہلے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بیڈمنٹن کے چمپیئن تھے اور اسی کھیل میں عالمی سطح پر نام کمانا چاہتے تھے۔

 وقاص علی چھوٹے بھائی کی جان بچانے کی کوشش میں خود بھی گھر کے ملبے تلے دب گئے تھے۔ اس سانحے میں ان  کی ریڑھ کی ہڈی بری طرح متاثر ہوئی اور کئی دوسری ہڈیاں ٹوٹ گئیں۔ ریڑھ کی ہڈی متاثر ہونے سے وقاص علی کے لیے بیڈ منٹن کورٹ میں داخلہ بند ہو گیا اور ان کا عالمی کھلاڑی بننے کا خواب بھی بکھر گیا۔ تاہم انہوں نے نے ہمت اور استقامت سے کام لیتے ہوئے اپنے خوابوں کو ایک الگ انداز میں پورا کیا۔

ڈاکٹر وقاص علی کوثر آج نیشنل یونیورسٹی آف مارڈرن لینگوئیجز (نمل) میں شعبہ گورننس اور پبلک پالیسی کے سربراہ ہیں اور وہ اسی یونیورسٹی سے اپنے شعبہ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے پاکستان کے کم عمر ترین شخص ہونے کے علاوہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سب سے کم عمر پی ایچ ڈی سکالر بھی ہیں۔

ڈاکٹر وقاص علی کوثر نے انڈیپنڈنٹ اردو کو بتایا: ' اس زلزلے نے کمر توڑ دی، ہڈیاں توڑ دی، مگر ہمت اور حوصلہ نہیں توڑ سکا۔ میں ایک سال تک ہسپتال کے بستر پر رہنے کے بعددوبارہ اپنے پاوں پر کھڑا ہونے کے قابل ہوا۔ اس دوران بہت کچھ بدل گیا۔  کمر کی چوٹ کی وجہ سےکھیل کا میدان میرے لیے ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا تھا مگر کئی میدان ابھی بھی کھلے تھے۔ میں نے فیصلہ کیا کہ اب ساری توجہ اپنی تعلیم پر دوں گا۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس سانحہ کے دس سال بعد 27 سال کی عمر میں ڈاکٹر وقاص علی کوثر نے پی ایچ ڈی مکمل کی اور درس و تدریس کے شعبہ سے منسلک ہو گئے۔ وہ پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سیاسی عمل میں نوجوانوں کی شمولیت کے حوالے سے اپنے تحقیقی وہ تربیتی کاموں کی بدولت امریکہ اور برطانیہ سمیت کئی ممالک میں ہونے والی عالمی کانفرنسوں میں شرکت کرنے کے علاوہ متعدد ایوارڈ حاصل کر چکے ہیں۔

 وہ کہتے ہیں: 'ایسے سانحات میں آپ بہت کچھ کھو دیتے ہیں لیکن اگر حوصلہ برقرار رہے تو زندگی کہیں سے بھی شروع کی جا سکتی ہے۔ امکانات کی دنیا کبھی بند نہیں ہوتی۔'

ڈاکٹر وقاص علی کوثر کا کہنا تھا کہ 2005 کے زلزلے نے ان سمیت کئی لوگوں کی زندگیوں کو بدل کر رکھ دیا۔ 'اگر کوئی چیز نہیں بدلی تو وہ لوگوں اور حکومتوں کے رویے ہیں۔ آج بھی زلزلہ متاثرہ علاقوں میں غیر منصوبہ بند تعمیرات اور بے ہنگم انفرا سٹرکچر عوامی زندگیوں کے لیے ایک خطرہ بنا ہوا ہے۔'

انہیں خدشہ ہے کہ خدا نخواستہ اس طرح کا کوئی اور سانحہ رونما ہوا تو وہ پہلے سے کہیں زیادہ مہلک ثابت ہو گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان