آرمینیا اور آذربائیجان کا جنگ بندی کی خلاف ورزی کرنے کا الزام

ماسکو میں ہونے والی ایک اہم ملاقات کے بعد تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ جنگ بندی کا مقصد قیدیوں کا تبادلہ اور ہلاک ہونے والوں کی لاشوں کو بازیاب کرنا ہے۔

آذربائیجان اور آرمینیا ایک دورسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کرنے کا الزام لگا رہے ہیں (اے ایف پی)

آذربائیجان اور آرمینیا کی فوجوں نے جنگ بندی معاہدے کے باوجود ہفتے کو ایک دوسرے پر نئے حملوں کا الزام لگایا ہے۔ نگورونو کاراباخ کے متنازع علاقے پر جنگ بندی کرنے سے دونوں ملکوں کے درمیان دوپہر سے جنگ بند کرنے کا معاہدہ ہوا تھا۔

آرمینیا کی وزارت خارجہ کی خاتون ترجمان شوشان سٹپینئن نے کہا کہ  ’آذربائیجان کی فوج نے اس سے پہلے انسانی بنیادوں پر ہونے والی جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کاراخان بیلی پر 12 بج کر پانچ منٹ پر حملہ کیا۔ حملے کو پسپا کرنے کے لیے آرمینیا کی فوج اقدامات کر رہی ہے۔‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد شروع ہونے کے 30 منٹ بعد آذربائیجان کی وزارت دفاع نے کہا کہ آرمینیا کی فوجیں تر تر اور اگدم کے علاقوں پر گولہ باری کر رہی ہیں۔

اس سے قبل روس کی ثالثی میں آرمینیا اور آذربائیجان نے متنازع علاقے ناگورنو کاراباخ میں دو ہفتوں سے جاری خونی جھڑپوں کے بعد بالآخر عارضی جنگ بندی پر اتفاق کر لیا۔

جمعے کو ماسکو میں ہونے والی ایک اہم ملاقات کے بعد تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ عارضی جنگ بندی کا مقصد قیدیوں کا تبادلہ اور ہلاک ہونے والوں کی لاشوں کو بازیاب کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بعد میں جنگ بندی کی مخصوص تفصیلات پر اتفاق کیا جائے گا۔

روسی وزیر خارجہ سیرگی لاوروف کی میزبانی میں ہونے والے مذاکرات 10 گھنٹے تک جاری رہے، بعد میں لاوروف نے مشترکہ اعلامیہ پڑھ کر سنایا۔ معاہدے میں یہ شرط بھی شامل کی گئی ہے کہ جنگ بندی تنازع کے حل کے لیے بات چیت کی راہ ہموار کرے گی۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اگر متحارب حریفوں کے درمیان جنگ بندی ہوتی ہے تو یہ روس کے لیے ایک بڑی سفارتی فتح ہو گی کیوں کہ ماسکو نےآرمینیا کے ساتھ سلامتی کا معاہدہ کیا ہوا ہے لیکن اس کے آذربائیجان کے ساتھ بھی انتہائی دوستانہ تعلقات ہیں۔ آذربائیجان اور آرمینیائی فوجوں کے مابین تازہ ترین لڑائی کا آغاز 27 ستمبر کو ہوا تھا اور ناگورنو کاراباخ پر جاری اس جنگ میں دونوں جانب سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کے مابین یہ بات چیت روسی صدر ولاد یمیر پوتن کی دعوت پر ہوئی جنہوں نے آذربائیجان کے صدر الہام علیئیف اور آرمینیا کے وزیر اعظم نکول پاشینیان کے ساتھ ٹیلی فون کال پر انہیں وزرائے خارجہ کی سطح پر ہونے والے ان مذاکرات میں شرکت پر قائل کیا۔

آرمینیا نے کہا ہے کہ وہ اب جنگ بندی کے لیے تیار ہے جبکہ اس سے قبل آذربائیجان نے آرمینین فوج کی ناگورنو کاراباخ سے مکمل انخلا کو ممکنہ جنگ بندی سے مشروط کیا تھا۔ روس نے امریکہ اور فرانس کے ساتھ مل کر ’منسک گروپ‘ کے شریک صدر کی حیثیت سے ناگورنو کاراباخ پر امن بات چیت کو آگے بڑھایا ہے۔

جنگ بندی معاہدے سے کچھ گھنٹے پہلے قوم سے خطاب کرتے ہوئے  آذربائیجان کے صدر نے اپنے ملک کے اس حصے کو بزورِ طاقت حاصل کرنے کے حق پر زور دیا کیوں کہ ان کے بقول بین الاقوامی کوششیوں کے باوجود تین دہائیوں سے یہ مسٔلہ جوں کا توں موجود ہے۔

علیئیف نے کہا: ’ثالثین اور کچھ بین الاقوامی تنظیموں کے رہنماؤں نے بیانات دیے ہیں کہ اس تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں۔ میں اس سے متفق نہیں اور اب تنازع کو فوجی ذرائع سے حل کیا جا رہا ہے اور سیاسی ذرائع اس کے بعد سامنے آئیں گے۔‘

موجودہ کشیدگی میں آذربائیجان کے اتحادی ترکی نے سیاسی حمایت کے علاوہ باکو کو جدید ترین اسلحہ مہیا کیا ہے، جن میں ڈرون اور راکٹ سسٹم شامل ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آرمینین حکام کا کہنا ہے کہ ترکی اس تنازع میں براہ راست ملوث ہے اور وہ آذربائیجان کی طرف سے لڑنے کے لیے شام کے کرائے کے جنگجو بھیج رہا ہے۔ ترکی نے خطے میں پراکسی جنگجوؤں کی تعیناتی کی تردید کی ہے۔

اس سے قبل آرمینین عہدے داروں نے دعویٰ کیا تھا کہ ترکی کے ایک ایف 16 طیارے نے ان کا ایک طیارہ مار گرایا، تاہم انقرہ اور باکو دونوں نے اس کی ترید کی تھی۔

سابق سوویت یونین کے دور میں نگورنو کاراباخ کو آذربائیجان کے اندر خود مختار علاقہ بنایا گیا تھا۔ اس نے 1991 میں آذربائیجان سے آزادی کا اعلان کیا جس کے تین ماہ بعد سوویت یونین ٹوٹ گئی۔ 1992 میں اس پر تنازع شروع ہوگیا، جس میں ایک اندازے کے مطابق 30 ہزار لوگ ہلاک ہو گئے۔

تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ 1994 میں کشیدگی ختم ہوگئی اور آرمینیائی فوج نے نہ صرف نگورنوکاراباخ کا علاقہ اپنے پاس رکھا بلکہ علاقے کی باضابطہ سرحد سے باہر بھی کئی علاقوں پر کنٹرول حاصل کر لیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا