'عباس مجھے معاف کیجیے، لوگ اب بھی مجھے پوران شاپوری کہتے ہیں'

ایران کی ایک لیجنڈ گلوکارہ کا احوال جن کی زندگی شہرت سے بھرپور لیکن اتنی ہی اداسی بھری تھی۔ جن کی موت بھی ویسے ہی تلخ حالات میں ہوئی۔

(سوشل میڈیا)

جدید ایرانی موسیقی کی تاریخ میں کچھ گانوں اور گلوکاروں نے اس قدر مقبولیت پائی ہے کہ نسل در نسل کئی بار دہرانے کے باوجود ، وہ اب بھی یادگار گانوں میں شامل ہیں اور فراموش نہیں کیے جا سکتے۔

پوران کے گانے 'گل آمد بہار آمد' میں بھی ایسی ہی خصوصیت ہے۔ اس گیت کو بجان ترغی نے کمپوز کیا تھا، ماجد وافدر نے ایک خوبصورت راگ تیار کیا اور پوران نے اسے اداس اور موثر آواز کے ساتھ گایا تھا۔ یہ گانا  آخری بار 1978 میں نوروز ٹی وی کے پروگرام میں پوران نے گایا۔

اس کے بعد 40 سال سے زیادہ عرصہ ہوا ایرانیوں نے ٹی وی پر کسی خاتون کا گانا نہیں سنا۔
یہی گانا مختلف ایرانی ضیافتوں اور تقریبات میں دوسرے گلوکاروں نے بھی بار بار گایا۔
1921 میں پیدا ہونے والی پوران ، رواں اکتوبر جن کی تیسویں برسی تھی ، نے انیس سو تیس سے پچاس کی دہائی میں ایرانی گیتوں اور موسیقی کی تاریخ میں اہم مقام حاصل کیا ہے۔

ان کی موت تلخی اور تکلیف میں تھی۔ وہ خاندانی معاملے (وراثت کی تقسیم) کی پیروی کے لئے ایران گئیں اور اسی دوران انہیں ایک پیچیدہ بیماری کا سامنا کرنا پڑا۔

زندگی کے اختتام سے قبل ایک تلخ موت کا سامنا کرنے کے لئے ایرانی حکومت کی جانب سے ان کے ملک چھوڑنے پر پابندی بھی عائد کردی گئی۔
پوران (جن کا اصل نام فرح‌دخت عباس طاقانی تھا) نے اپنی گلوکار خالہ عزت روہبخش کے زیر اثر گلوکاری سیکھی تھی۔ وہ اس دن کو یاد کرتی تھیں جب وہ اپنی خالہ کے ساتھ ملازمت کے لیے رائل سٹور گئی تھیں۔

'آرکسٹرا تیار تھا اور انہوں نے اچانک مجھ سے گانے کو کہا، میں نے یہ جانے بغیر ہی گایا کہ انہوں نے میری آواز ریکارڈ کرلی ہے۔ وہیں سے میری آواز لوگوں تک پہنچی اور مجھے شہرت مل گئی۔'

اس ایک گانے نے انہیں اپنے کام کے بارے میں زیادہ پرجوش کردیا۔ اسی دوران عباس شاپوری سے ان کی شناسائی نے ان کی زندگی اور کام میں ایک چنگاری سی پیدا کردی۔

عباس شاپوری ایک موسیقار، وائلن نواز اور گیت کار تھے۔ پوران نے عباس شاپوری کے ساتھ میوزک کی کلاس شروع کی اور ایک طویل عرصے تک ریڈیو پہ پرفارم کیا۔
شاہ رخ نادری جو ایک ریڈیو پروگرامر تھے پوران کی صلاحیتوں کے بارے میں بتاتے ہی 'وہ سب سے زیادہ سریلی ریڈیو گلوکارہ تھیں، جب آپ ایک بار ان کا گانا سنتے ہیں تو سنتے ہی یہ بات جان جاتے ہیں۔'
پوران کو شروع میں کچھ خاص معاوضہ نہیں ملتا تھا۔ صرف لوگوں میں شہرت ہونا یقینا گلوکارہ کی حیثیت سے پوران کے لئے کافی نہیں تھا لیکن جوانی میں ان کے اور عباس شاپوری کے درمیان موجود  محبت نے ان کے لیے کام کو ایک الگ ہی رنگ دے دیا۔
پوران کے ابتدائی کیریئر کا عروج معروف ایرانی گیت کار ناصر راستگارنژاد اور عباس شاپوری کے ساتھ ان کے اشتراک عمل کا نتیجہ تھا۔

ریڈیو جرمنی کو انٹرویو دیتے ہوئے راستگارنژاد نے بتایا کہ انہوں نے پوران کے لئے 24 گانے تیار کیے جن میں سب سے مشہور 'راقب' اور 'بیاباں بود' تھے۔

عباس شاپوری سے شادی کے بعد پوران نے راستگار نژاد کے ساتھ بھی کام ختم کر دیا  لیکن انہوں نے پوران کی انوکھی آواز میں گائے گانوں کو ہمیشہ اپنا شاہکار قرار دیا۔ راستگارنژاد کی بات اس لئے اہم ہے کہ وہ ان چند گیت لکھنے والوں میں سے ایک تھے جو میوزک اور کمپوزیشن سے بھی واقف تھے۔
اسی دوران ، پوران اور شاپوری کا ایک یادگار گانا 'تکدروخت' کے نام سے اصفہان میں کمپوز کیا گیا ہے۔ اس گیت کی دھنیں اسماعیل نواب صفا نے ترتیب دی تھیں ، جنہوں نے بعد میں ان کے البم کو بھی یہی عنوان دیا تھا۔
ایک تاریخ ساز اور مشہور طلاق
ایک طاقتور سرکاری شخصیت اس جوڑے کے درمیان علیحدگی کی وجہ بنی۔

تیمور بختیار ایرانی خفیہ تنظیم ساواک کے انچارج تھے۔

روایات سے پتہ چلتا ہے کہ تیمور بختیار کو پوران پسند آ گئی تھیں اور انہوں نے پوران کو ایک بار ایران سے باہر اپنے ساتھ  لے جانے کی کوشش بھی کی تھی۔

پوران کے بارے میں لکھی گئی شاہ رخ نادری کی کتاب کے مطابق ، سیما نامی ایک عورت نے پوران کو ہائی کلاس نائٹ کلبوں کا راستہ دکھایا اور وہیں تیمور بختیار پوران کے سحر میں مبتلا ہو گیا۔

'تیمور بختیار، جو بہت بااثر تھا، ان کی زندگی میں داخل ہوا اور یہاں تک کہ ایک بار بختیار نے زبردستی انہیں ہوائی اڈے سے لیا، وہ تھوڑی دیر کے لئے ساتھ رہے ، اور اس واقعے کے بعد پوران عباس شاپوری سے الگ ہو گئیں۔'
اس خبر ساز علیحدگی کے چند سال بعد عوامی ڈیمانڈ کو دیکھتے ہوئے دونوں نے ایک شاندار گانا ایلین کے نام سے دوبارہ پیش کیا۔

پوران کی عباس شاپوری سے علیحدگی کے چار سال بعد دونوں کے مشترکہ جاننے والوں نے ان کے مابین باہمی تعاون اور اکٹھے گیتوں پر کام کرنے کے لئے بہت مرتبہ کوشش کی جس سے بالاخر شاپوری چڑ گئے اور کہا 'میں آپ لوگوں کے ماضی کے نشے کو برقرار رکھنے میں آخر کتنی مدد کرسکتا ہوں؟'
پوران کی سرگرمیوں کا ایک حصہ اداکاری سے متعلق بھی ہے۔ ان کے اداکاری کے کیریئر میں وائٹ گولڈ ، دی ٹیولپ ، بھوکے بھیڑیے ، تہران کے بھکاری اور بے چین جیسی فلمیں شامل ہیں ۔

پوران کی دوسری شادی روشن زادے سے ہوئی۔ وہ کھیلوں کے معروف مبصر تھے۔ ان کا پوران سے اختلاف سینما میں کام کرنے پر ہوا۔

اس دوران ایرانی انقلاب کے بعد بہت سے دوسرے فنکاروں کی طرح پوران بھی ملک سے باہر چلی گئیں۔  

وہ لاس اینجلس میں تھیں جب انہیں ناصر راستگار نژاد دوبارہ ملے۔ ان کی ملاقات اتفاقاً ایک گروسری سٹور میں ہوئی تھی۔

ناصر راستگارنژاد کا ماننا تھا کہ پوران لاس اینجلس میں بھی بڑا نام پیدا کر سکتی ہیں۔ پوران نے ان کے کہنے پر دو گیت گائے لیکن پوران کی پرفارمنس زیادہ کامیاب نہیں ہو سکی اور وہ اس ناکامی سے مایوس ہو گئیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

راستگارنژاد پوران کی دوسری شادی میں ہونے والے تنازعات کو ان کی ناکامی کی ایک وجہ سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کے بعد بالاخر پوران واپس ایران چلی گئیں، کچھ وقت کے لئے گوگوش کے ساتھ رہیں، یہاں تک کہ وہ جگر کی بیماری کے بعد ہسپتال میں دم توڑ گئیں۔
پوران کی موت کے بارے میں ایک بیانیہ شاہ رخ نادری نے بھی اپنی کتاب میں لکھا تھا۔

کتاب کے مطابق ایران کی مشہور مغینہ خانم گوگوش پوران کے اصرار پر عباس شاپوری کو آخری بار اپنی سابقہ اہلیہ سے ملنے کے لئے راضی کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ عباس شا پوری مان گئے۔

آگے کے الفاظ کچھ یوں تھے 'جب میں نے کمرے کا دروازہ کھولا تو عباس شاپوری نے اپنی اہلیہ کو دیکھا۔ ان کا سارا جسم کانپ اٹھنے لگا اور وہ خود کو سنبھال نہیں سکے۔ انہوں نے توازن برقرار رکھنے کے لیے پوران کے بستر کا سہارا لیا ۔ اسی لمحے پوران نے کہا 'عباس ، مجھے معاف کر دیں، لوگ 35 سال کی علیحدگی کے بعد بھی مجھے پوران شاپوری کہتے ہیں۔ عباس نے جواب دیا 'میں نے تمہیں معاف کیا، سمجھو کچھ بھی نہیں ہوا'۔

بالآخر 3 اکتوبر 1990 کو تہران کے ایک ہسپتال میں پوران کا انتقال ہوگیا۔

پوران کی پرسوز آواز موت کے تین دہائیوں بعد بھی ایرانیوں کے دلوں میں زندہ ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی موسیقی