فاٹا انضمام غیرقانونی، سپریم کورٹ سے منسوخی کی اپیل: عمائدین

قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے اراکین پارلیمنٹ اور عمائدین نے فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے خلاف تحریک میں تیزی لانے کا اعلان کیا ہے۔

قبائلی اضلاع کے پارلیمنٹرینز اور عمائدین نے سابقہ فاٹا کے صوبہ خیبر پختونخوا میں انضمام کو ’غیر آئینی‘ اور ’غیر جمہوری‘ قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ سے اس کی منسوخی کی اپیل کی ہے۔

بدھ کو اسلام آباد پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے اراکین پارلیمنٹ اور عمائدین نے فاٹا کے انضمام کے خلاف تحریک میں تیزی لانے کا اعلان کیا۔ انہوں نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے حالیہ دورہ ضلع مہمند میں انضمام مخالف آواز اٹھانے والوں کو ’غدار‘ قرار دینے پر ان سے معافی کا مطالبہ بھی کیا۔

رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالصبور نے پریس کانفرنس میں کہا کہ انہوں نے تمام قبائلی اضلاع میں 35 احتجاجی جلسے جلوس ترتیب دیے ہیں جو آنے والے دنوں میں منعقد کیے جائیں گے۔ سابق وفاقی وزیر عبدالحمید آفریدی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ قبائلی علاقوں کا انضمام قبائلیوں سے پوچھے بغیر کیا گیا اور اس میں ڈیڑھ کروڑ قبائلی آبادی کی مرضی شامل نہیں تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

قبائلی عمائدین کا خیال تھا کہ فاٹا کا انضمام امریکہ کے ایما پر کیا گیا اور اس سے پاکستان یا قبائلی عوام کی بجائے بین الاقوامی سٹیبلشمنٹ کو فائدہ ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ انضمام کے باوجود قبائلی اضلاع میں ترقی کا نام و نشان نہیں۔

جنوبی وزیرستان سے سابق رکن پارلیمنٹ طاہر شاہ نے کہا کہ ان کے علاقے میں سکول کی عمارتیں پولیس تھانے کے طور پر استعمال کی جا رہی ہیں۔ ’بچے سکول میں تعلیم حاصل کرنے کی بجائے گھروں میں بیٹھے ہوئے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ تمام قبائلی اضلاع میں صحت کے لیے محض 20 لاکھ روپے کی رقم رکھی گئی ہے، جس سے ایک چھوٹا شفاخانہ بھی نہیں بنایا جا سکتا۔ ’انضمام کے باوجود شمالی اور جنوبی وزیرستان میں حالات خراب ہیں اور دہشت گرد آزاد اور عوام مجبور ہیں۔‘

جمعیت علما اسلام ف کے مولانا عبدالصبور نے قبائلی اضلاع کے لیے ’مقبوضہ‘ کا لفظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ وہ آزادی کی جنگ لڑنے آئے ہیں۔ ’ہم مقبوضہ قبائلی علاقوں کو آزاد کرا کر دم لیں گے۔‘ طاہر شاہ نے مزید کہا کہ کوئی آزادی سے قبائلی اضلاع نہیں جا سکتا ہے۔ ’اختیار کسی اور کے پاس ہیں، حکومتی عہدے داروں کو علم ہی نہیں صورتحال کا۔‘

انڈپینڈنٹ اردو نے اس معاملے پر حکومتی ردعمل جاننے کے لیے وزیر اطلاعات شبلی فراز اور دو وفاقی وزرا سے رابطہ کیا لیکن ان سے بات نہ ہو سکی۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست