سجھان سنگھ سے ملک ریاض تک

آج ملک ریاض پراپرٹی ٹائیکون کی حیثیت سے ملک کی نہ صرف مشہور ترین بلکہ طاقتور ترین شخصیات میں سے ایک ہیں، لیکن کون جانتا ہے کہ ان سے قبل یہاں سجھان سنگھ بستے تھے جو برصغیر بھر میں جانے جاتے تھے۔

رئیس اعظم راولپنڈی سجھان سنگھ کی ایک یادگار تصویر (پبلک ڈومین)

گذشتہ تین سو سالوں کے دوران راولپنڈی کی تاریخ کے تین بڑے واقعات میں سے پہلا واقعہ اس وقت پیش آیا جب 17ویں صدی کے وسط میں یہاں صوفی بزرگ شاہ چن چراغ نے اپنا ڈیرہ لگایا۔

اس کے بعد جین مت کے ماننے والوں کی یہ مختصر سی بستی ایک قصبے اور پھر شہر میں بدلنا شروع ہوئی۔ دوسرا اہم واقعہ تب ہوا جب انگریزوں نے 1851 میں یہاں ہندوستان کی سب سے بڑی چھاؤنی کی بنیاد رکھی جس کی وجہ سے شہر کی اہمیت دو چند ہو گئی۔

تیسرا اہم واقعہ 24 مئی 1960 کو پیش آیا جب راولپنڈی کے نواح میں پاکستان کے نئے دارالحکومت کی منظوری دی گئی۔

پہلی تبدیلی روحانی تھی جبکہ باقی دو تبدیلیوں کے پیچھے عسکری عوامل کارفرما تھے۔ راولپنڈی کی تاریخ میں عسکریت ہمیشہ سے حاوی رہی ہے اور یہاں کے منظر نامے سے ابھرنے والوں کا بھی یہی پس منظر رہا ہے۔ 19ویں صدی کے آخر میں راولپنڈی کے منظر نامے پر جس شخصیت نے راج کیا اسے زمانہ سجھان سنگھ کے نام سے جانتا ہے۔ وہ ایک ملٹری کنٹریکٹر تھے۔ تقریباً سو سال بعد راولپنڈی کے منظر نامے پر سجھان سنگھ سے ہی مشابہہ ایک اور شخصیت ابھری جسے آج ملک ریاض کے نام سے جانا جاتا ہے ان کا عروج بھی بطور ملٹری کنٹریکٹر ہی رہا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سجھان سنگھ کون تھے اور ان کا راولپنڈی میں کیا کردار تھا ؟

’تذکرہ رؤسائے پنجاب‘ از سر لیپن ایچ گرفن و کرنل میسی میں درج ہے کہ ان کا سلسلہ نسب بابا گرو نانک سے اور سردار ملکھا سنگھ تھلہ پوریا سے ملتا تھا جس نے 1766 میں راولپنڈی کی بنیاد رکھی تھی اور جو پوٹھوہار کا پہلا سکھ حکمران بھی رہا۔

سجھان سنگھ کا دادا سردار بدھا سنگھ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور میں 1830 کی دہائی میں ضلع راولپنڈی کے محکمہ مال کا افسر تھا جبکہ اس کا باپ سردار ناند سنگھ جو 1871 میں فوت ہوا سے پنجاب میں انگریز سرکار کے دربار میں نمایاں مقام حاصل تھا۔ ناند سنگھ نے شہر میں فلاحی سرگرمیوں میں نام کمایا اور کئی ادارے کھولے۔

سنگ جانی کی سرائے بھی سجھان سنگ کے والد نند سنگھ نے بنوائی تھی۔ سردار سادھو سنگھ بھی اسی خاندان سے تھا جس نے شاہ اللہ دتہ میں سادھو باغ لگایا تھا جو آج بھی موجود ہے۔ سادھو کا بیٹا بدھا سنگھ تھا جو سراد سجھان سنگھ کا دادا تھا۔

سردار سجھان سنگھ کے پاس جو دو بڑی جاگیریں تھیں ان میں ایک کٹاریاں اور دوسری مصریوٹ تھی۔ انہی جاگیروں پر آج پاکستان کا دارالحکومت آباد ہے۔ سجھان سنگھ لکڑی کا کاروبار کرتا تھا اور کشمیر سے قیمتی لکڑی منگوا کر بیچتا تھا۔ اینگلو افغان جنگوں میں ملٹری کنٹریکٹر کے طور پر سامنے آیا اور انگریزی فوج کو اشیائے خوردو نوش، جانوروں کے لیے چارے اور ایندھن کی سپلائی شروع کی جس کے عوض 1888 میں اسے وائسرائے ہند نے رائے بہادر کا خطاب دیا اور گورنر پنجاب نے سجھان سنگھ کی خدمات پر 1973 میں حسن ابدال میں منعقدہ دربار میں انہیں خلعت سے بھی سرفراز کیا۔

سجھان سنگھ 1901 میں فوت ہو گیا۔ اس کے بعد اس کا بیٹا سردار ہردیت سنگھ اس کی جائیداد کا وارث بنا مگر وہ بھی تین سال بعد اپنے دو بیٹے سردار موہن سنگھ اور سردار سوہن سنگھ چھوڑ کر فوت ہو گیا جو ایچی سن کالج لاہور میں زیر تعلیم تھے۔ جنگ عظیم دوم کے وقت انہوں نے نہ صرف فوجیوں کی بھرتی میں تاج برطانیہ کی مدد کی بلکہ تین لاکھ روپیہ نقد بھی دیا (بحوالہ وار ہسٹری آف دی راولپنڈی ڈسٹرکٹ)۔

ان خدمات کے عوض سردار موہن سنگھ کو اعزازی تلوار، پستول اور کئی سندیں عطا ہوئیں۔ 1930  سے 1934  تک یہ انڈین لیجسلیٹو اسمبلی کا منتخب ممبر بھی رہا۔ اس کے علاوہ چیف خالصہ کالج کا ممبر، راولپنڈی کا اعزازی مجسٹریٹ درجہ اول رہا۔ اسے 1935 میں سیکریٹری آف سٹیٹ بہادر برائے ہند کونسل کا ممبر مقرر کر کے انگلستان بھیجا گیا جہاں وہ 1940  میں سیکریٹری آف سٹیٹ برائے انڈیا کا مشیر بھی بن گیا ۔ سجھان سنگھ کا دوسرا بیٹا سردار سوہن سنگھ رفاہی کاموں میں از حد دلچسپی رکھتا تھا اسے بھی پنڈی اور مری کے اعزازی مجسٹریٹ کے اختیارات حاصل تھے۔ اس کے تین بیٹے تھے جن میں سے ایک گربچن سنگھ تھا جو آزادی کے بعد بھارت کا پاکستان، سوئٹزر لینڈ اور مراکش میں سفیر بھی رہا۔

سردار سوہن سنگھ کے بیٹے کرنل سردار شمشیر سنگھ کی شادی ہندوستان کی ایک امیر ریاست جند کے مہاراجہ کی بیٹی راجکماری بلبیر کور سے ہوئی تھی۔ ریاست جند 3260 مربع کلومیٹر پر پھیلی ہوئی تھی جس کی سالانہ آمدنی اس وقت 30 لاکھ روپے تھی۔

 بھابڑا بازار راولپنڈی کی تنگ و تاریک گلیوں میں واقع سجھان سنگھ حویلی اس خاندان کی عظمت رفتہ کی داستان سناتی نظر آتی ہے۔ آج اپنے اپنے جھمیلوں میں پھنسے شاید لوگوں کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں کہ اپنے وقت کے اس عالیشان محل کے مکین کون تھے اور کہاں چلے گئے۔ لیکن اگر آپ کو یہ معلوم ہو کہ جس جگہ آج پاکستان کی قومی اسمبلی، وزیر اعظم ہاؤس، سپریم کورٹ، سیکریٹریٹ اور غیر ملکی سفارت خانوں سمیت بہارہ کہو سے اسلام آباد کے نئے ایئرپورٹ کے درمیان کا جو علاقہ ہے، اس کے مالکان اسی حویلی کے مکین تھے تو ایک لمحے کو شاید آپ سوچیں کہ وقت کیسی کیسی کروٹیں لیتا ہے۔

سجھان سنگھ حویلی کی تعمیر تو کہیں 19ویں صدی کے اوائل میں ہوئی مگر اس کی تعمیر نو 1890 میں شروع کی گئی جب سجھان سنگھ نے اپنے آبائی گھر کو ایک شاندار محل میں بدلنے کے لیے ہندوستان کے نامور ماہرین تعمیرات کی خدمات حاصل کیں۔ 1893 میں ا س کی تعمیر نو مکمل ہوئی۔ اس کی افتتاحی تختی حویلی پر نصب تھی جسے 1990 میں سکریپ میں بیچ دیا گیا۔

اس حویلی کے دو ادوار ہیں۔ 1893 سے 1947  تک 54 سال یہ سجھان سنگھ خاندان کے زیر استعمال رہی جبکہ دوسرا دور 1947 سے 1982 تک کا ہے جب یہ حویلی کشمیر سے آنےوالے مہاجرین کو الاٹ کی گئی اور یہاں 40 سے زائد خاندان مقیم رہے۔ حویلی جس جگہ بنائی گئی تھی اس سے آج بھی پورا شہراور اسلام آباد کا خوبصورت نظارہ ملتا ہے۔

ماضی میں جب یہ شہر مختصر سا تھا تو اس کے مکین حویلی کے جھروکوں سے مارگلہ اور مری کی پہاڑیوں کا انتہائی دلفریب نظارہ دیکھتے ہوں گے۔ اس حویلی کے ارد گرد باغات تھے اور جب یہ حویلی تعمیر کی گئی تو تب یہ شہر کی اولین عمارت تھی جس میں نانک شاہی اینٹ کا استعمال کیا گیا تھا۔

علاقے کے پرانے لوگ بتاتے ہیں کہ حویلی کی تعمیر میں سونا بھی استعمال ہوا تھا اور دیواروں پر سونے سے کندہ کاری کی گئی تھی۔ حویلی کے مکین سونے اور چاندی کے برتن استعمال کرتے تھے اور شاہانہ فرنیچر موجود تھا۔ صحن میں مور ناچتے تھے اور برآمدوں میں شیر بندھا ہوتا تھا۔ شام کو حویلی سے سریلی موسیقی کی آوازیں آتی تھیں۔ دروازوں، چھتوں اور چوباروں پر لکڑی کا انتہائی دیدہ زیب کام ہوا تھا۔ حویلی کا کورڈ ایریا 24 ہزار مربع فٹ ہے، جو آج کے حساب سے سوا پانچ کنال کے قریب بنتا ہے۔

حویلی کی تعمیر میں استعمال ہونے والا لوہا اور لوہے کی چادریں اور تانبہ برطانیہ سے منگوایا گیا تھا۔ 1937 میں اس حویلی میں بجلی بھی لگ گئی۔

حویلی کا دروازہ ایک گلی میں کھلتا ہے جس کے دونوں طرف حویلی ہے۔ گلی کے اوپر سے بھی حویلی ملی ہوئی ہے۔ اس کے ایک طرف حویلی کے مکین جبکہ دوسری جانب ان کے ملازم رہا کرتے تھے۔ پرانے حصے میں ایک کنواں بھی ہے جس کے ساتھ حمام بنائے گئے ہیں۔

حویلی کا برآمدہ نما دروازہ قلعے کے دروازوں کی طرز پر ہے جس پر انتہائی خوبصورت پھول بنے ہوئے ہیں اور ان میں ہاتھی دانت بھی نقش تھے۔ جبکہ اندر داخل ہوں تو ایک اور برآمدہ ہے جس کے اطراف میں کمرے ہیں اور آگے ایک صحن ہے جس میں فوارے لگے ہوئے تھے۔ اس دور کے ماہر مصوروں نے حویلی کے مکینوں کی تصویروں کے ساتھ مختلف فن پارے دیواروں پر نقش کر رکھے تھے۔

چاروں طرف کمرے ہیں جبکہ دونوں اطراف سے سیڑھیاں اوپر کی منزل تک جاتی ہیں۔ اوپر کی منزل میں خوبصورت جھروکے ہیں جن پر لکڑی کا کام دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ صحن کی طرف پھر برآمدے ہیں جہاں دھوپ سے بچاؤ کے لیے اٹلی سے درآمد کیے گئے لوہے کے شیڈ استعمال کیے گئے ہیں۔ جبکہ اوپر کی منزل میں دو نوں طرف کمرے ہیں جہاں سے پورا شہر اور مارگلہ کے پہاڑوں کا نظارہ ملتا ہے۔ لگتا ہے سجھان سنگھ فیملی یہاں شام کی پارٹیاں کرتی تھی۔ اس کے علاوہ یہاں موسیقی بجائی جاتی اور سماجی اور مذہبی تقریبات منعقد کی جاتی تھیں۔

حویلی کے دروازے، کھڑکیاں اور جھروکے آج بھی انتہائی دیدہ زیب دکھائی دیتے ہیں اور شاید اس دور میں یہاں ایسا کوئی کاریگر نہیں جو اتنا باریک کام اتنی نفاست سے کر سکتا ہو۔ یہاں جو ٹائلیں استعمال کی گئیں وہ اس وقت برطانیہ سے منگوائی گئی تھیں۔ فرنیچر وکٹورین سٹائل تھا اور کھانے کے برتن چین سے لائے گئے تھے۔ جب شام کو اس چار منزلہ حویلی میں چراغاں ہوتا تو حویلی کے 45 کمرے جگمگا اٹھتے اور لوگ دور دور سے اس حویلی کا نظارہ دیکھنے آتے۔

سجھان سنگھ خاندان نے اپنا مال و دولت صرف اس شاندار محل کی تعمیر میں ہی صرف نہیں کیا بلکہ شہر میں مفاد عامہ کی دیگر عمارتیں بھی بنوائیں۔ راولپنڈی کے گزیٹیئر 1910 کے مطابق 1883 میں سجھان سنگھ نے میسی مارکیٹ بھی بنائی۔ باغ سرداراں بھی سجھان سنگھ نے تعمیر کروایا تھا جہاں باغات تھے، گھاس کے لان تھے اور بارہ دریاں تھیں۔ اس کے علاوہ ایک گوردوارہ، ایک شادی ہال، میوزیم اور ہردیت سنگھ لائبریری بنوائی۔ برگیڈیئر جنرل جان میسی کی یاد میں میسی گیٹ بھی سجھان سنگھ نے دولاکھ کی لاگت سے بنوایا تھا۔

سجھان سنگھ نے اپنے چچا کرپال سنگھ کے ساتھ مل کر 1890  میں مال روڈ راولپنڈی میں لینزڈاؤنے انسٹی ٹیوٹ بھی بنایا۔ جہاں پر تھیٹر اور ڈانس کے لیے آڈیٹوریم بنے ہوئے تھے یہاں فنکاروں کے قیام و طعام کی سہولتیں بھی موجود تھیں۔ لارڈ لینز ڈاؤنے 1888 سے 1894 تک ہندوستان کے وائسرائے تھے۔

سجھان سنگھ کے بارے میں عزیز ملک اپنی کتاب راول دیس کے صفحہ 195-96 پر لکھتے ہیں ’سردار سجھان سنگھ کی اولاد نرینہ نہیں تھی۔ اس کا ورثہ اس کی بیٹی کے دو لڑکوں سردار سردار موہن سنگھ اور سردار سوہن سنگھ کو ملا۔ ان کے مال و متال اور جائیداد کا یہ حال تھا کہ کھڑی ریاست کے بغیر بھی کسی مہاراجے سے کم نہ سمجھے جاتے۔ ان کے گھر کی مستورات شادی و مرگ میں شرکت کے لیے برقع پہن کر نکلا کرتیں۔ سردار سوہن سنگھ سیر و تفریح کے لیے انگلستان گیا تو داڑھی کیس وغیرہ صفا چٹ کروا دیے۔

’1936 کے لگ بھگ اس کے ایک لڑکے کی شادی مہاراجہ جند کی بیٹی سے ہوئی۔ کئی روز جشن بپا رہا اور پانی سے زیادہ شراب بہائی گئی۔ لبینسڈاؤن گارڈن میں معزز مہمانوں کی دعوت الگ ہوئی۔ اس میں بھی ناؤ نوش کی بزم گرم رہی۔ اس کا ایک بیٹا انگلستان میں فوت ہوا تو لاش یہاں لانے کے لیے ہوائی جہاز خریدا اور کریا کرم کے بعد جہاز کو بھی جلا دیا گیا! یہ تھے امیری کے چونچلے اور شہانہ ٹھاٹ باٹ۔

’شہزادہ کوٹھی ان رئیس بھائیوں کی رہائش گاہ تھی۔ میں نے اپنی آنکھوں سے ان کا بار روم اور کتب خانہ دیکھا ہے۔ تقسیم کے وقت فسادات میں جب یہ کنبہ دہلی بھاگا تو گھر بار کے ساتھ مسکرات (نشہ آور اشیا) کی سینکڑوں بوتلیں اور ہزاروں کتابیں لٹ گئیں۔ لیکن ان کا خفیہ خزانہ عمارت کی کسی دیوار میں محفوظ رہا۔ 48 کے آغاز میں دونوں حکومتوں کے مابین سرکاری سطح پر کوئی بات چیت ہوئی، سردار موہن سنگھ ہوائی جہاز سے پنڈی آیا اور اس دور کے آئی جی پولیس خان قربان علی خان نے اپنی نگرانی میں موہن سنگھ کی نشاندہی پر خزانہ بر آمد کر کے ان کے حوالے کیا۔‘

راولپنڈی کی یادیں مطبوعہ 2017 از حسین احمد خان کے صفحہ 40 پر درج ہے کہ ’سجھان سنگھ کے نواسوں سردار سوہن سنگھ اور سردار موہن سنگھ کی شہزادہ کوٹھی پاکستان بننے کے بعد کچھ عرصہ پریزیڈنسی کے طور پر بھی استعمال ہوتی رہی جبکہ بعد میں یہاں فاطمہ جناح یونیورسٹی بنائی گئی۔ اس کے مکین رئیس اعظم کہلاتے تھے اور باغ سرداراں کا علاقہ بھی ان کی یادگار ہے جہاں چھ ایکڑ پر لائبریری اور پارک بنایا گیا تھا، جس میں ایک کلاک ٹاور بھی نصب تھا جو ہر گھنٹے بعد بجتا تھا۔

’لیکن ستم ظریفی دیکھیے کہ جہاد کشمیر کے دوران یہاں قبائلیوں کو ٹھہرایا گیا جو کلاک ٹاور پر نشانہ باندھتے تھے جس کی وجہ سے یہ تباہ ہو گیا۔‘

سجھان سنگھ کے شہر میں دو سینما بھی ’روز‘ اور ’نیو روز‘ کے نام سے موجود تھے۔ راولپنڈی کی ایک بزرگ شخصیت حافظ عبد الرشید اپنی یادداشتوں میں لکھتے ہیں کہ ’راولپنڈی کی غیر مسلم شخصیات میں باغ سرداراں والے سجھان سنگھ کے ہاں بھی رئیسانہ ٹھاٹ تھا۔ چار چار گھوڑوں کی فٹنیں اور والیان ریاست کا سا رہن سہن تھا۔ بڑے غیر متعصب اور مرنجان مرنج آدمی تھے۔ ہندو مسلمانوں سے یکساں مشفقانہ برتاؤ رکھتے تھے۔ ان کی شادی بیاہوں میں مسلمان رئیس نون، ٹوانے، دولتانے، ہوتیانے سب حقیقی بھائیوں کی طرح شریک ہوتے اور مہینوں تک راولپنڈی کی فضا مختلف قسم کے کھیل تماشوں اور ناچ رنگ سے معمور رہا کرتی تھی۔

’نہرو روڈ پر واقع پرانی لائبریری بھی سجھان سنگھ ہی نے بنوائی تھی جہاں بڑی نایاب کتابیں تھیں۔ روزانہ اخبارات اور رسائل کثرت سے آتے تھے۔ لائبریری میں داخل ہونے سےاحساس ہوتا تھا کہ ہم کسی درس گاہ میں آ گئے ہیں جو ازمنہ قدیم سے تعلق رکھتی ہے۔ اس کی فضا میں ایک سحر اور اعجاز تھا مگر افسوس کہ ا س کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی جو راولپنڈی کے ماتھے پر کلنگ کا ٹیکہ ہے۔‘

میں سجھان سنگھ حویلی کے سامنے کھڑے ہو کر سوچتا ہوں کہ کیسے عالی شان لوگ تھے جو محلوں میں رہتے تھے مگر مفاد عامہ کے تحت سرائیں بنواتے تھے، لائبریریاں، میوزیم، عوامی گیٹ، سرائے، سکول اور ہسپتال بنواتے تھے۔ وقت کتنا بدل گیا ہے آج بھی اس شہر میں سجھان سنگھ جیسے امیر لوگ بستے ہیں جو اپنے لیے تو عالیشان محل بنواتے ہیں مگر سجھان سنگھ کے طرح مفاد عامہ کاکوئی کام نہیں کرتے ہاں البتہ سالانہ ٹیکس ریبیٹ لینے کے لیے دستر خوان ضرور لگاتے ہیں۔ وقت اگر سجھان سنگھ کو بھول گیا ہے تو یہ لوگ بھی خاک ہی تو ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ