جب اسلام آباد سملی دیوی کے نام سے تھا!

اسلام آباد شہر کے کتنے باسیوں کو معلوم ہے کہ سملی ڈیم کے ٹھنڈے ٹھار پانی میں قدیم ماضی کے سرد جذبوں کی کتنی داستانیں گھلی ہوئی ہیں۔

ڈیم کی تعمیر سملی نامی گاؤں کی زمین پر شروع ہوئی، گھر زیر آب چلے گئے مگر سملی کی داستان آج بھی زندہ ہے۔ (سجاد اظہر)

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے بارے میں اگر پوچھا جائے کہ اس کا سب سے قدیم حوالہ کون سا ہے تو وہ سملی دیوی سے وابستہ ایک قدیم لوک داستان ہے جو صدیوں سے سینہ بہ سینہ چلی آ رہی ہے۔

1960 میں جب پاکستان کے نئے دارالحکومت اسلام آباد کی منظوری دی گئی تو پہلا مسئلہ یہاں پانی کی قلت کا تھا جس کا حل یوں نکالا گیا کہ یہاں دو ڈیم بنائے گئے ایک راول ڈیم اوردوسرا سملی ڈیم۔ راول ڈیم کورنگ نالے پر بنایا گیا جبکہ سملی ڈیم دریائے سواں میں اس مقام پر بنایا گیا جہاں سملی گاؤں واقع تھا۔

جب یہ جگہ ڈیم کے لیے 1968 میں حاصل کی گئی تو سملی گاؤں جس میں سو کے قریب گھر تھے انہیں خالی کرا کے متبادل جگہ پر بسایا گیا۔ اس طرح پرانا سملی ڈیم زیر آب چلا گیا۔ اب جب آپ قریب ہی پہاڑی پر آباد گاؤں کے مکینوں سے سملی دیوی کے بارے میں پوچھتے ہیں تو وہ اس لوک داستان سے بالکل ناآشنا نظر آتے ہیں۔

دریائے سواں کے کنارے، خوبصورت اور سرسبز پہاڑیوں میں گھرے اس گاؤں کے نام میں ایک خاص کشش ہے۔ اس کی وجہ تسمیہ کیا ہے؟ اس حوالے سے ایک قدیم لوک کہانی بیان کی جاتی ہے جو یہاں کے راجہ کی بیٹی سے متعلق ہے۔ راجہ کی سلطنت کی سرحدیں کشمیر سے دریائے سندھ اور دوسری جانب جہلم اور چکوال تک پھیلی ہوئی تھیں۔ اس کا نام راجہ دریودھن تھا جس کی راج دہانی ٹیکسلا تھی۔ اس کی ایک نہایت حسین و جمیل بیٹی سملی نام کی تھی جسے بعد میں تاریخ نے سملی دیوی کا خطاب دیا۔ اس سے پہلے کہ ہم آپ کو یہ کہانی سنائیں پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ راجہ دریو دھن کون ہے اور اس کا عہد کون سا ہے؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 راجہ دریودھن کا ذکر ہمیں مہا بھارت میں ملتا ہے۔ پروفیسر انور بیگ اعوان اپنی کتاب دھنی ادب و ثقافت میں لکھتے ہیں کہ ریاست بھرت وش کے نابینا راجہ دھرت راشٹر نے اپنی زندگی میں پانچ پانڈو بھائیوں میں سے ایک جس کا نام یدھشٹر تھا اسے حکمران بنا دیا۔ چونکہ ان کے چچا زاد، کورو بردران جن کی تعداد 100 بیان کی جاتی ہے، ان کی نظریں تاج و تخت پر تھیں اس لیے وہ ان کے خلاف سازشیں کرنے لگے۔ ایک وقت ایسا آیا کہ پانڈو برادران کو اپنا علاقہ چھوڑنا پڑا اور وہ ریاست پنجال پہنچ گئے جس میں کشمیر کے پیر پنجال کے آر پار کے پہاڑی علاقوں سے لے کر جہلم اور چکوال کے موجودہ علاقے بھی شامل تھے۔ اس ریاست کا پایہ تخت کمپلا نگر یا دروپد نگر تھا جو موجودہ قصبے بھون سے ایک میل کے فاصلے پر نالہ سوج کے بائیں کنارے پر آباد تھا جہاں آج تھوہا پنڈ ہے۔

جب وطن سے بھاگے ہوئے پانڈو برادران درو پد نگر پہنچتے ہیں تو یہاں کے راجہ نے اپنی زہرہ جمال بیٹی کرشنا دروپدی کے لیے رسم سوئمبر کا اہتمام کر رکھا ہوتا ہے جس میں ہندوستان کے نامور راجے، سورما اور شہزادے شریک تھے۔ راجہ کے محل کے باہر ایک کھلے میدان میں ایک گھومتے ہوئے چکر پر مچھلی لٹکی ہوتی ہے جس کے نیچے تیل سے بھرا ہوا کڑاؤ رکھا گیا تھا جس میں مچھلی کا متحرک عکس نظر آتا تھا اور شرط یہ ہے کہ جس کا تیر مچھلی کی آنکھ پر لگے گا شہزادی اسی کی ہو گی۔

پانڈو برادران میں سے ارجن ماہر نشانہ باز تھا جس نے یہ فن اچاریہ سے سیکھا تھا اس کا تیر عین نشانے پر جا کر لگا اور مچھلی نیچے کڑاؤ میں آ کر گر گئی جس پر راجکماری کرشنا دروپدی نے آگے بڑھ کر اپنے ہاتھوں سے ایک قیمتی مالا ارجن کے گلے میں ڈال دی۔ اس طرح شہزادی کی شادی ارجن سے کر دی گئی ۔ پانڈو برادران جو در بدر پھر رہے تھے اب محل نشین ہو گئے۔ چونکہ پانڈوؤں اور کورووں میں اقتدار کے لیے رسہ کشی جاری ہوتی ہے تو طے پاتا ہے کہ کورو راجہ دریودھن اور پانڈو راجہ ارجن چوپڑ کھیلیں گے جو جیت جائے گا تخت و تاج اسی کا ہو گا ۔

دربار میں چوپڑ بچھائی گئی دریودھن چونکہ چوپٹ کا زبردست کھلاڑی ہوتا ہے اس لیے ارجن، دریودھن کی شاطرانہ چالوں سے مات کھا جاتا ہے۔ پانچوں پانڈو بھائی اس کے غلام اور راجکماری کرشنا دروپدی کنیز بن جاتی ہے۔ دریودھن نے حکم دیا کہ کرشنا دروپدی کو دربار میں عریاں کر دیا جائے مگر جب اس کی ساڑھی اتاری جانے لگی تو دربار کپڑے سے بھر گیا مگر ساڑھی ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی تھی جس پر دریودھن ڈر گیا اور اس نے پانڈو برادران کو شہزادی کے ہمراہ 12 سال بن باس میں گزارنے کے لیے بھیج دیا ۔ جب وہ بن باس کاٹ کر واپس آئے تو انہیں حکومت نہیں دی گئی جس پر پانڈؤوں اور کوروں میں لڑائی چھڑ گئی تاریخ میں اسی لڑائی کو مہا بھارت کہا گیا ہے جس میں بالآخر پانڈو کامیاب ٹھہرتے ہیں۔

بعض روایتوں کے مطابق سملی راجہ دریودھن کی نہیں بلکہ راجہ سارگن کی بیٹی تھی جو کشان عہد کے بعد کشمیر اور ملحقہ علاقوں کا حکمران رہا اور جس کا عہد 217 سے 260 تک کا ہے۔ راجہ سارگن کا پایہ تخت راولپنڈی کے موجودہ علاقے مورگاہ میں تھا۔

سملی راجہ ساررگن کی بیٹی تھی یا دریودھن کی اس حوالے میں تاریخ میں تضاد موجود ہے تاہم یہ حقیقت ہے کہ وہ شہزادی تھی اور جب اس نے خود کشی کی تو اس کی یاد میں موجودہ ایوب پارک میں ایک مندر اور سٹوپا بنوائے گئے اسی مناسبت سے ایوب پارک کا پرانا نام ’ٹوپی رکھ‘ ہے۔

’پاکستان کے آثار قدیمہ‘ از راجہ محمد عارف منہاس کے صفحہ 13 پر درج ہے کہ شہزادی سملی اکثر ٹیکسلا سے اپنی نانی کوری دیوی کے پاس آیا کرتی تھی۔ کوری دیوی کے نام پر ہی اسلام آباد کا ایک قدیم گاؤں کُری آج بھی موجود ہے۔ سملی یہاں سے دریائے سواں کی سیر کو جایا کرتی تھی جسے اس زمانے میں دریائے شوشماں کہا جاتا تھا۔ سملی یہاں پہاڑیوں پر چڑھ کر شکار کھیلتی، سہیلیوں کے ساتھ دریا کے پتھروں پر بیٹھ کر اپنے پاؤں ٹھنڈے پانی میں ڈال کر گانے گاتی۔

کہتے ہیں کہ سملی اتنی حسین و جمیل تھی کہ جب دریا کے اونچے کنارے پر پاؤں لٹکا کر بیٹھا کرتی تھی تو دریا بھی اس کے حسن سے بےتاب ہو کر موجیں مارتا ہوا اوپر چڑھ جاتا اور سملی کے مرمریں پاؤں کو چھو کر بہتا رہتا، سملی جب تک دریا میں پاؤں ڈالے رکھتی دریا یوں ہی موجزن رہتا اور جب وہ اٹھ بیٹھتی تو دریا بھی واپس اپنی جگہ پر آ جاتا۔

ایسے ہی ایک دن کا ذکر ہے جب سملی دریا کنارے بیٹھی تھی کہ دریا کے اس پار ریاست کا شہزادہ جس کا نام راج دھن تھا شکار کھیلتے کھیلتے ادھر آ نکلا۔ اس نے دیکھا کہ ایک نہایت ہی حسین وجمیل شہزادی دریا میں اپنی ٹانگیں ڈال کر بیٹھی ہے۔ ایک لمحے کوتو اسے ایسا لگا جیسے پانی پر کوئی تصویر بن گئی ہو اور پانی بھی شہزادی کی حسن کی تاب نہ لا کر ٹھہر گیا ہو۔ اس نے دریا میں پتھر پھینکا تاکہ شہزادی کو اپنی جانب متوجہ کر سکے۔ شاید شہزادی کو بھی ایسے ہی شہزادے کی تلاش تھی۔ پہلی نظر ہی پیار ہو گیا۔ رفتہ رفتہ حالات یہاں تک پہنچے کہ دونوں کا عشق زبان زد ِخاص وعام ہو گیا۔

شہزادے راج دھن نے راجہ دریودھن کے پاس سملی کا رشتہ مانگنے کے لیے پیغام بھیجا۔ چونکہ راج دھن ایک چھوٹی ریاست کا شہزادہ تھا جبکہ راجہ دریودھن کو اپنی سلطنت اور طاقت پر گھمنڈ تھا اس لیے وہ سملی کی شادی کسی ہم پلہ شہزادے سے کرنا چاہتا تھا۔ اپنے باپ راجہ دریودھن کے انکار پر شہزادی سملی بہت مایوس ہوئی۔ ایک روز اس نے دریا کے کنارے ستر فٹ بلند چٹان پر چڑھ کر دریا میں چھلانگ لگا کر خود کشی کر لی۔ آنے والے وقتوں میں سملی ایک دیوی کہلائی جس کی پوجا کی جانے لگی اور دریا کا نام بھی سملی پڑ گیا۔

بھارت کا موجودہ شہر شملہ بھی سملی دیوی کے نام پر ہی ہے۔ اسلام آباد کے باسیوں کو جہاں سے پانی ملتا ہے وہ ڈیم بھی اسی لازوال داستان سملی ہی سے موسوم ہے۔ آج بھی گرمیوں سے ستائے افراد کے لیے یہ جگہ کسی جنت سے کم نہیں۔ شہر اقتدار کے باسی یہ تو کہتے ہیں کہ تپتی گرمیوں میں بھی سملی ڈیم کے پانی سے نہانے سے کپکی طاری ہو جاتی ہے مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ اس کے پیچھے مری کے چشموں کی ٹھنڈک کے ساتھ وہ سرد جذبے بھی ہیں جو سملی کے سپنوں کی تعبیر نہیں بن سکے۔

سملی ڈیم سے ہوتا ہوا دریائے سواں کا پانی جب پھروالہ قلعے کو چھوتا ہوا گزرتا ہے تو چٹانوں کا رنگ بھی سیاہی مائل ہو جاتا ہے جو شاید اس سوگ کی علامت ہے جو سملی دیوی کی یاد میں اب بھی جاری ہے۔

 

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ