سعودی عرب میں کرپشن کا ’سب سے بڑا‘ کیس بے نقاب

سعودی عرب میں حکام نے13 سرکاری ملازمین، چار کاروباری شخصیات اور چار غیرملکیوں کو گرفتار کرتے ہوئے 60 کروڑ ریال برآمد کر لیے۔

ریاض میں قومی انسداد کرپشن کمیشن کا صدر دفتر (تصویر عرب نیوز ویب سائٹ)

سعودی عرب میں حکام نے 22 افراد کو گرفتار کر کے 60 کروڑ ریال (16 کروڑ ڈالرز) برآمد کر لیے۔ اس معاملے کو سعودی عرب میں بدعنوانی کا سب سے بڑا کیس قرار دیا گیا ہے۔

عرب نیوز کے مطابق سعودی عرب کی نگران اور انسداد بدعنوانی اتھارٹی (نزاہہ) کے عملے نے دھوکہ دہی کے سنگین الزامات کے تحت دارالحکومت ریاض کے ایک علاقے سے 13 سرکاری ملازمین، چار کاروباری شخصیات اور چار غیرملکیوں کو گرفتار کیا ہے جو ٹھیکے دار کمپنیوں کے لیے کام کرتے تھے۔

ملزمان کی رہائش گاہوں کی تلاشی کے دوران حکام کو 19 کروڑ 30 لاکھ ریال ملے جو عارضی چھت، مسجد کے سروس روم، پانی کی ٹینکی اور زیرزمین سیف میں چھپائے گئے تھے۔ خریدی گئی جائیداد کی ایک فہرست بھی ملی۔ یہ جائیداد گرفتار ہونے والے افراد نے مجموعی طور پر تقریباً 14 کروڑ 20 لاکھ ریال کے غیرقانونی فنڈ سے خریدی۔

مزید برآں انسداد بدعنوانی اتھارٹی نے گرفتار افراد کے بینک اکاؤنٹس سے تقریباً 15 کروڑ ریال کی رقم بھی قبضے میں لے لی۔ مزید تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ایک ملزم نے اپنے عہدے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کاروباری اداروں کے لیے 11 کروڑ ریال سے زیادہ کی ادائیگی کی خاطر وزارت خزانہ کا یونیفائیڈ ڈیجیٹل سروسز کا پلیٹ فارم استعمال کیا۔

بدعنوانی کے دوسرے کیسوں کا تعلق عام اشیائے ضرورت کی خریداری میں استعمال ہونے والے 25 لاکھ ریال کے پری پیڈ کارڈز سے ہے جن میں ڈیڑھ ریال کے فیول پری پیڈ کارڈز اور 41 لاکھ ریال کی غیرملکی کرنسیاں ہیں۔

یہ 22 گرفتاریاں بدعنوانی کے 889 کیسوں اور انضابطی معاملات میں کی گئیں جنہیں نزاہہ نے دیکھا۔ قانونی مشیر دیماالشریف نے عرب نیوز کو بتایا کہ سرکاری افسروں کے ملوث ہونے کی وجہ سے کیس نمایاں ہو گیا ہے۔

ان افسروں نے مالی فائدے کے لیے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا۔ انہوں نے کہا: 'اس قسم کا کیس ریاست اور اس کی معیشت کی ترقی پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔'

ریاض میں نزاہہ کے ترجمان احمدالحسین نے الاخباریہ ٹیلی ویژن کو بتایا کہ عدالتی تحقیقات کے علاوہ ملزموں نے اپنے جرائم کا اعتراف کر لیا ہے۔ 'سابقہ کیسوں میں ہمارے سامنے بہت سے ایسے افراد ہوتے تھے جو پہلے ہی ریٹائر ہو چکے ہوتے تھے لیکن اس کے باوجود ان پر مقدمہ چلایا گیا اور وہ انصاف سے بچ نہیں سکے۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ریاض میں کنسلٹنٹ عبدالمجید الموسیٰ نے بھی ٹیلی ویژن سے بات کرتے ہوئے کہا: 'اب کچھ عرصے سے ہم نے دیکھا ہے کہ نزاہہ گرفتاریوں کا اعلان کرتی ہے جیسا کہ یہ گرفتاریاں۔ صرف ان سے ثابت ہو سکتا ہے کہ حکام بدعنوانی کے کیسوں کو روکنے میں کوئی رعایت نہیں کریں گے۔ نزاہہ کی کارروائی کسی بھی ایسے فرد کے لیے ایک واضح پیغام ہے جو اس قسم کی مہم جوئی کا سوچ رہا ہے۔'

الموسی نے بتایا کہ نزاہہ کے پاس لوگوں کے لیے ٹول فری ٹیلی فون نمبرز موجود ہیں جن پر بدعنوانی کے مشکوک واقعے کی اطلاع دی جا سکتی ہے۔

اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی نزاہہ کے ساتھ رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ کال کرنے والے معلومات فراہم کر سکتے ہیں، جن کا نام مکمل طور پر خفیہ رکھا جائے گا۔ حکام نے ایسے رشوت خوروں کے لیے بھی نرمی کا مظاہرہ کیا ہے جنہوں نے سامنے آ کر مالی جرم کے بارے میں بتایا۔

ریاض میں مقیم وکیل فیصل الطائی نے الاخباریہ کو بتایا: 'مجھے بدعنوانی کے خلاف ایسے اقدامات اور نزاہہ کے بیان کی وہ شفافیت اور تفصیل دیکھ کر فخرمحسوس ہوتا ہے، جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس سے بہت زیادہ اعتماد ملتا ہے۔' ان کا کہنا تھا کہ حکام نے دکھا دیا ہے کہ کوئی چاہے کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو وہ قانون سے بالا تر نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا