سعودی فوج کے لیے یونیفارم بنانے والی پہلی سعودی خاتون

سندس الدیباجہ نامی فیکٹری کی مالک طرفہ المطیری سعودی عرب میں فوجی یونیفارم بنانے کی فیکٹری کا لائسنس حاصل کرنے والی پہلی سعودی خاتون ہیں۔

بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے محفوظ رکھنے والا خاص فوجی لباس اس فیکٹری میں بنایا جاتا ہے۔(تصویر: عرب نیوز)

طرفہ بنت عبدالرحمن المطیری سعودیعرب کی جنرل اتھارٹی فار ملٹری انڈسٹریز (گامی) سے فوج کے لیے یونیفارم بنانے کا لائسنس حاصل کرنے والی پہلی سعودی خاتون ہیں۔

سندس الدیباجہ فیکٹری کی مالک طرفہ المطیری کے ٹیکسٹائل اینجنئیرنگ میں ڈگری یافتہ ہیں اور گریجویشن کے بعد سے اس فیلڈ میں کام کررہی ہیں۔

اب انہوں نے ملٹری ساز و سامان سمیت حیاتیاتی اور بڑے پیمانے پر تباہی مچانے والے ہتھیاروں سے بچانے والے لباس اور آگ سے محفوظ رکھنے والے لباس بنانے میں بھی مہارت حاصل ہے۔

'عرب نیوز' سے بات کرتے ہوئے طرفہ المطیری کا کہنا تھا: 'میری کمپنی ان پہلی پانچ کمپنیوں میں سے ہے جنہیں گامی کی جانب سے ملٹری انڈسٹریز کی فیلڈ میں لائسنس ملا ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ مقامی طور پر ملٹری ساز و سامان بنانے کے لیے ان کی فیکٹری بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ کام کر رہی ہے۔

ان میں ایک فرانس کی کمپنی بھی شامل ہے جس سے المطیری نے معاہدہ کیا ہوا ہے جس کے تحت سعودی اور فرانسیسی سرمایہ کاری سے فوجی یونیفارم تیار کیے جا رہے ہیں۔

طرفہ المطیری نے بتایا: 'میں نے اپنا کیریئر ڈیزائن اور ٹیکسٹائل میں اس لیے شروع کیا کیونکہ میری ڈگری یہی تھی۔ فیشن اور ڈیزائن میں کام تعداد سے زیادہ تصور پر انحصار کرتا ہے۔ تاہم کچھ صنعتیں ایسی ہیں جو تعداد پر انحصار کرتی ہیں اور ایسا ملٹری سیکٹرز میں ہوتا ہے۔'

ملٹری سیکٹر میں کام کرنے کے حوالے سے ان کا ماننا ہے کہ ایک سٹریٹیجک سیکٹر ہونے کی وجہ سے اس صنعت کو مقامی ہی ہونا چاہیے تاکہ خود اتحصاری کی طرف بڑھا جا سکے۔

'دوسری وجہ یہ تھی کہ میں خواتین کے لیے روزگار کے مواقع مہیا کرنے میں مددگار ثابت ہو سکوں۔ ٹیکسٹائل ایک ایسا بزنس ہے جس میں خواتین  کچھ نیا کر سکتی ہیں اور اس فیلڈ میں پروڈکشن لائن بیس سال سے میرا مقصد رہا ہے۔'

طرفہ المطیری اس منصوبے پر 12 سال سے کام کر رہی ہیں جب انہوں نے اپنی پہلی فیکٹری شروع کی۔ ملٹری لباس کی مقامی تیاری کا مطالبہ کرنے والوں میں وہ ہمیشہ پیش پیش رہیں۔

جب طرفہ المطیری نے اپنی پہلی فیکٹری کھولی تب ملٹری انڈسٹریز کو مقامی کرنے کا معاملہ حکومت کے زیر غور نہیں تھا۔ ان کے بہت سے رشتہ دار فوج میں کام کرتے ہیں جس سے ان کو ملٹری صعنت کی ضروریات کے بارے میں آگاہی ملی۔

انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اے ایف ای ڈی نمائش 2016 کے سربراہ میجر جنرل عطیہ الملکی سے بات کی اور انہوں نے طرفہ المطیری کے خیالات کو سراہا جس کے بعد طرفہ نے اس نمائش میں حصہ بھی لیا۔

 وہاں انہیں بین الاقوامی کمپنیوں جیسے ہوائی جہازوں کو بنانے والی کمپنی بی اے ای سسٹمز کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔

انہوں نے بتایا: 'میں نے ان سے ان کی ضروریات کے بارے میں بات کی۔ پھر ہم ان کی ضروریات کو پورا کرنے لگے اور انہیں فوجی طیاروں کے لیے سپئیر پارٹس فراہم کرنے لگے جیسے انجن کورز وغیرہ۔ ہم نے اپنی پیداواری صلاحیتیں بھی بڑھانا شروع کردی ہیں تاکہ ان کی دوسری مصنوعات کی ڈیمانڈ بھی پوری کر سکیں۔'

طرفہ المطیری کا کہنا تھا کہ یہ سپئیر پارٹس بھی ٹیکسٹائل کی ہی ایک قسم ہیں جن کی خاص خصوصیات ہوتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا: 'تجربہ ایک چھوٹے کام سے شروع ہوتا ہے اور پھر مزید چیزیں شامل ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ ہم اب شروع کی سٹیج سے گزر چکے ہیں اور کچھ نیا کرنے کے عمل میں ہیں۔'

ان کا کہنا تھا کہ صدیوں سے فیبرک اور ٹیکسٹائل پروڈکشن کا کام خواتین کا ہی رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملٹری یونیفارم کی خاص ضروریات ہوتی ہیں تاکہ پہننے والوں کو فیلڈ میں کام کرنے میں آسانی رہے۔

ان کے بقول: 'اس لیے ہم ڈیزائن اور مٹیریل کے استعمال میں فوج کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہیں۔ ہمیں نیشنل سینٹر فار سکیورٹی آپریشنز کے عملے کے لیے یونیفارمز بنانے کا تجربہ ہوا۔ سینٹر کے ڈائریکٹر میجر جنرل عبدالرحمن نے ہمیں سپورٹ کیا اور وزارت داخلہ نے یونیفارمز کی منظوری دی۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

طرفہ المطیری بتاتی ہیں کہ سعودی افواج اور دوسرے ممالک کی افواج  کے یونیفارمز  میں کچھ مماثلیں ہیں۔ زیادہ استعمال ہونے والا یونیفارم کیموفلاج نمبر 4 ہے جو تعیناتی کے دوران پہنا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا: 'یہ آس پاس کے ماحول جیسے دکھتے ہیں چاہے صحرا ہو یا پہاڑ ۔ اس کے پیٹرنز پر غور کیا جاتا ہے اور ٹیکسٹائل انجنئیرنگ اور رنگوں کے امتزاج کی جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرکے اس میں مزید تبدیلیاں لائی جاتی ہیں۔'

المطیری بتاتی ہیں کہ یونیفارموں میں تبدیلیاں لانے میں بہت وقت لگتا ہے اور اس میں ملٹری کی منظوری چاہیے ہوتی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ سعودی معیشت میں بدلاؤ اور فوجی صنعت میں نئی سرمایہ کاری ایک حوصلہ افزا بات ہے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب 50 فیصد تک ملٹری انڈسٹری کو مقامی سطح پر لانا چاہتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملٹری ٹیکنالوجی کے بہت سے صارف ہیں اور یہ بات طے ہے کہ اگر مصنوعات کا میعار اچھا ہے تو وہ ضرور خریدی جائیں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ سعودی عرب دنیا میں ملٹری اخراجات میں چوتھے نمبر پر ہے تو یہ سعودی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے ایک اچھا موقع ہے۔ 'آپ سوچ سکتے ہیں کہ اس خرچے کا 50 فیصد مقامی فیکٹریوں کو جائے گا۔'

مستقبل میں طرفہ المطیری مزید غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ پارٹنرشپ کرنا چاہتی ہیں تاکہ اس میدان میں مزید ترقی ممکن ہو۔

چینی اور یونانی صنعتی کمپنیوں سے بھی ان کی ملاقات متوقع ہے اور وہ کہتی ہیں کہ وہ ہر اس کمپنی کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں جو سعودی مارکیٹ میں داخل ہونا چاہتی ہے۔

بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے محفوظ رکھنے والے ملٹری یونیفارم خاص طرفہ المطیری کی فیکٹری میں بنتے ہیں کیونکہ وہ سعودی عرب اور خلیجی خطے میں ایسا لباس بنانے والی واحد فیکٹری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی کمپنی جلد ہی یونیفارمز کی ایکسپورٹ پر بھی غور کرے گی۔

ان کی کمپنی میں 170 ملازمین ہیں اور مستقبل قریب میں وہ مزید 213 افراد کا سٹاف بھرتی کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے سٹاف میں زیادہ تر خواتین شامل ہیں 'کیونکہ سعودی خواتین نے غیر ملکی ملازمین کے ڈیپارٹمنٹ کو ٹیک اوور کر لیا ہے اور اپنا کام جلد پورا کرتی ہیں۔'

ان کا کہنا تھا کہ فیکٹری کی پروڈکشن لائن پر کام کرنے والی 49 سعودی خواتین کی تیز رفتاری اور کامیابی سے باقی ملازمین پر بھی کام بہتر کرنے کا دباؤ ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین